ویرات کوہلی کا ون ڈے مستقبل: روی چندرن ایشون کا بڑا بیان
ویرات کوہلی اور 2027 کا ورلڈ کپ: ایک نئی بحث
بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور بلے باز ویرات کوہلی نے حال ہی میں ایک اہم بیان دیا جس میں انہوں نے 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں حصہ لینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والے اس میگا ایونٹ کو ابھی ڈیڑھ سال کا عرصہ باقی ہے، لیکن اس حوالے سے قیاس آرائیاں عروج پر ہیں۔
روی چندرن ایشون کی حمایت
بھارتی ٹیم کے تجربہ کار اسپنر روی چندرن ایشون نے اپنے یوٹیوب چینل پر ویرات کوہلی کے موقف کی بھرپور تائید کی ہے۔ 39 سالہ ایشون کا کہنا ہے کہ کوہلی بالکل درست کہہ رہے ہیں کہ انہیں اب کسی کے سامنے خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنے سالوں تک ملک کی نمائندگی کرنے اور بے شمار میچز جتوانے کے بعد کسی کھلاڑی کے لیے یہ ثابت کرنا کہ وہ اب بھی اس کھیل کے لیے موزوں ہے، ایک غیر ضروری عمل ہے۔
ایشون نے مزید کہا کہ باہر بیٹھ کر رائے دینا لوگوں کا کام ہے، لیکن ایک کھلاڑی جب پختگی کی عمر کو پہنچ جاتا ہے، تو اس کی اصل جنگ خود اپنے آپ سے شروع ہو جاتی ہے۔ ویرات کوہلی اس وقت اسی مقام پر کھڑے ہیں جہاں انہیں اپنے ناقدین کو نہیں بلکہ اپنے معیار کو برقرار رکھنا ہے۔
ویرات کوہلی کا اپنا نقطہ نظر
آر سی بی (RCB) کے پوڈکاسٹ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کوہلی نے کہا، ‘اگر مجھ میں دلچسپی نہ ہوتی تو میں اپنا کرکٹ کا سامان اٹھا کر یہاں کیوں آتا؟ یقیناً، میں قومی ٹیم کے لیے کھیلنا جاری رکھنا چاہتا ہوں اور ورلڈ کپ میں بھارت کی نمائندگی کرنا ایک اعزاز کی بات ہے۔’
کوہلی نے اپنی تیاری اور کھیل کے تئیں اپنے رویے پر بات کرتے ہوئے مزید کہا، ‘میں اپنی تیاری اور کھیل کے انداز کے حوالے سے ایماندار ہوں۔ اس کھیل کو جاری رکھنا ایک نعمت ہے۔ جب تک مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں ٹیم کی ضرورت ہوں اور کارکردگی دکھا سکتا ہوں، میں پوری محنت کے ساتھ کھیلتا رہوں گا۔’
سلیکٹرز اور مستقبل کے چیلنجز
گزشتہ سال کے آخر میں بھارتی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین نے تبصرہ کیا تھا کہ روہت شرما اور ویرات کوہلی 2027 کے ایونٹ کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں۔ تاہم، اس کے بعد سے دونوں کھلاڑیوں نے اپنی فٹنس پر سخت محنت کی ہے اور مسلسل اچھی فارم کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ شائقین بھی دونوں سینئر بلے بازوں کو ٹیم میں برقرار دیکھنے کے حامی ہیں، کیونکہ ان کا تجربہ اور فارم ٹیم کے لیے اب بھی بہت اہم ہے۔
نتیجہ
ویرات کوہلی کا یہ عزم ظاہر کرتا ہے کہ ان میں اب بھی کھیل کی بھوک موجود ہے۔ ایشون جیسے کھلاڑیوں کی حمایت نے اس بحث کو ایک نئی سمت دی ہے کہ عمر محض ایک عدد ہے، اور اصل اہمیت کھلاڑی کی فٹنس اور میچ وننگ صلاحیت کی ہے۔ کیا ہم 2027 کے ورلڈ کپ میں ویرات کوہلی کو دوبارہ ایکشن میں دیکھیں گے؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن فی الحال کوہلی کا فوکس اپنی تیاریوں اور کھیل کے معیار کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔
