ویراٹ کوہلی کا اعتراف: 2023 ورلڈ کپ نہیں، یہ تھا ان کے کیریئر کا مشکل ترین دور
کرکٹ کی دنیا کا سب سے بڑا اعتراف
ویراٹ کوہلی کا شمار آج دنیا کے عظیم ترین کرکٹرز میں ہوتا ہے۔ اٹھارہ سالہ طویل کیریئر کے بعد آج وہ لاکھوں نوجوانوں کے لیے ایک رول ماڈل ہیں۔ تاہم، ان کی زندگی میں کچھ ایسے لمحات بھی آئے ہیں جو آج بھی انہیں پریشان کر دیتے ہیں۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ 2023 کے ورلڈ کپ کا فائنل یا 2021 میں کپتانی سے ہٹائے جانے کا واقعہ ان کے کیریئر کا سب سے مشکل دور تھا، لیکن خود کوہلی کی نظر میں حقیقت کچھ اور ہے۔
2014 کا دورہ انگلینڈ: ایک بھیانک خواب
آر سی بی انوویشن لیب میں گفتگو کرتے ہوئے ویراٹ کوہلی نے انکشاف کیا کہ 2014 کا دورہ انگلینڈ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا سب سے کٹھن وقت تھا۔ اس وقت وہ آج کے جارحانہ اور خود اعتماد کوہلی نہیں تھے، بلکہ ایک ابھرتا ہوا نوجوان کھلاڑی تھے جو اپنی شناخت قائم کرنے کی تگ و دو میں تھا۔
اس دورے کے دوران نوٹنگھم، لارڈز، ساؤتھمپٹن اور مانچسٹر سمیت مختلف مقامات پر کھیلے گئے ٹیسٹ میچوں میں کوہلی بری طرح ناکام رہے۔ انہوں نے 10 اننگز میں صرف 134 رنز بنائے، جس کی اوسط محض 13.40 رہی۔ جیمز اینڈرسن اور اسٹیورٹ براڈ جیسے گیند بازوں نے انہیں کھل کر کھیلنے کا موقع نہ دیا اور بار بار ان کی وکٹیں حاصل کیں۔
ذہنی دباؤ اور کشمکش
کوہلی نے اس دور کے اپنے ذہنی کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ‘2014 کا دورہ انگلینڈ میرے لیے سب سے مشکل تھا۔ میں پر اعتماد رہنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن ہر صبح جب میں اٹھتا تھا تو مجھے معلوم ہوتا تھا کہ آج میں ناکام ہونے والا ہوں۔ میرے اندر کی مسابقتی آواز مجھے بار بار کہہ رہی تھی کہ مجھے اچھا کرنا ہے، لیکن حالات میرے قابو میں نہیں تھے۔’
صرف ٹیسٹ ہی نہیں، بلکہ ون ڈے سیریز میں بھی کوہلی کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ چار میچوں میں وہ محض 54 رنز بنا سکے، جہاں کرس ووکس، بین اسٹوکس اور جیمز اینڈرسن نے ان کا جینا دوبھر کر دیا تھا۔
جارحیت اور واپسی کا عزم
اس مشکل دور کے باوجود، کوہلی نے ہار نہیں مانی۔ ٹی 20 انٹرنیشنل میچ میں انہوں نے 66 رنز کی اننگز کھیل کر اپنی جھلک دکھائی۔ اس میچ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ‘میں نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ گیند باز کے دوڑنے سے پہلے ہی میں ہر گیند کو گراؤنڈ سے باہر مارنے کی کوشش کروں گا۔ اگرچہ میں صفر پر آؤٹ ہوا یا ناکام رہا، لیکن میں نے گیند کو زوردار طریقے سے ہٹ کیا تھا، جس سے مجھے ایک عجیب سا سکون ملا۔’
2014 کے بعد کوہلی کا عروج
یہ بات قابلِ غور ہے کہ 2014 کے برے دورے کے باوجود، اس سال ون ڈے کرکٹ میں ان کی مجموعی اوسط 58.56 رہی، جو ان کے معیار کے مطابق کافی بہتر تھی۔ اس کے بعد 2016 اور 2018 کے سال ان کے لیے سنہری دور ثابت ہوئے، جہاں انہوں نے 92.38 اور 133.56 کی اوسط سے رنز بنا کر ثابت کیا کہ وہ کیوں کرکٹ کی تاریخ کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک ہیں۔
آج 14,700 سے زائد ون ڈے رنز کے مالک ویراٹ کوہلی کا یہ اعتراف ثابت کرتا ہے کہ چیمپئنز وہ نہیں ہوتے جو کبھی گرتے نہیں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو گر کر دوبارہ اٹھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ان کی یہ کہانی ہر اس کھلاڑی کے لیے مشعلِ راہ ہے جو اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔
