ویرات کوہلی آر سی بی کے کپتان کیوں نہیں؟ راجت پاٹیدار کی غیر موجودگی کے باوجود جیتیش شرما کو قیادت کیوں ملی؟
دھرم شالہ کا میدان اور آر سی بی کی قیادت کا نیا رخ
دھرم شالہ کے خوبصورت اسٹیڈیم میں پنجاب کنگز اور رائل چیلنجرز بنگلور (RCB) کے درمیان 17 مئی کو ہونے والا مقابلہ کئی لحاظ سے اہمیت کا حامل تھا۔ لیکن میچ شروع ہونے سے پہلے ہی ایک ایسی خبر سامنے آئی جس نے کرکٹ شائقین کو بحث و مباحثے میں مصروف کر دیا۔ آر سی بی کے باقاعدہ کپتان راجت پاٹیدار انجری کے باعث اس اہم میچ سے باہر ہو گئے تھے۔ پاٹیدار کی غیر موجودگی میں یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ شاید ایک بار پھر ویرات کوہلی ٹیم کی کمان سنبھالیں گے، تاہم جب ٹاس کا وقت آیا تو جیتیش شرما کو کپتان کے طور پر دیکھ کر ہر کوئی دنگ رہ گیا۔
راجت پاٹیدار اپنی انجری کی وجہ سے ٹیم کے ساتھ دھرم شالہ کا سفر بھی نہیں کر سکے تھے، جس کی وجہ سے فرنچائز کو ہنگامی بنیادوں پر قیادت میں تبدیلی کرنا پڑی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوا کہ ویرات کوہلی جیسے تجربہ کار کھلاڑی کی موجودگی میں جیتیش شرما کا انتخاب کیوں کیا گیا؟
مینجمنٹ کا موقف: ویرات کوہلی کو کپتانی کی ضرورت کیوں نہیں؟
آر سی بی مینجمنٹ نے اس حوالے سے اپنی پوزیشن آئی پی ایل 2025 کے سیزن سے پہلے ہی واضح کر دی تھی۔ فرنچائز کے ڈائریکٹر آف کرکٹ، مو بوبیٹ نے ایک ویڈیو بیان میں اس بات کی وضاحت کی تھی کہ ٹیم مینجمنٹ قیادت کے حوالے سے ایک طویل مدتی وژن پر کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مداحوں کی پہلی پسند ہمیشہ ویرات کوہلی ہی ہوتے ہیں، لیکن ٹیم کو ایک ایسے مستقبل کی طرف دیکھنا ہے جہاں نئے کھلاڑیوں کو قیادت کے مواقع مل سکیں۔
مو بوبیٹ نے ویرات کوہلی کی قیادت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: “ویرات کوہلی کو ٹیم کی رہنمائی کرنے کے لیے کسی عہدے یا کپتانی کے ٹیگ کی ضرورت نہیں ہے۔ قیادت ان کی فطرت میں شامل ہے اور وہ میدان میں ہوں یا باہر، ہمیشہ ایک لیڈر کے طور پر ہی سامنے آتے ہیں۔” اس بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آر سی بی کی قیادت کا ڈھانچہ اب صرف کسی ایک نام کے گرد نہیں گھومتا، بلکہ وہ ایک اجتماعی قیادت کے تصور پر یقین رکھتے ہیں۔
مستقبل کا وژن اور ہندوستانی کپتان کی تلاش
آر سی بی کی انتظامیہ، جس میں ہیڈ کوچ اینڈی فلاور بھی شامل ہیں، اس بات پر متفق ہے کہ ٹیم کو ایک ہندوستانی کپتان کی ضرورت ہے جو طویل عرصے تک ٹیم کے ساتھ چل سکے۔ 2024 کی میگا نیلامی کے بعد سے ہی فرنچائز نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے تاکہ ویرات کوہلی پر سے دباؤ کم کیا جا سکے اور وہ اپنی بیٹنگ پر زیادہ توجہ مرکوز کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ راجت پاٹیدار کی غیر موجودگی میں جیتیش شرما کو ایک عارضی کپتان کے طور پر آزمایا گیا تاکہ ٹیم کی مستقبل کی قیادت کی لائن اپ تیار کی جا سکے۔
کیا ویرات کوہلی اب کبھی کپتانی نہیں کریں گے؟
ویرات کوہلی نے 2021 کے آئی پی ایل سیزن کے بعد باقاعدہ طور پر آر سی بی کی کپتانی سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔ ان کا یہ فیصلہ ان کے ورک لوڈ مینجمنٹ اور بیٹنگ پر توجہ دینے کی خواہش کا نتیجہ تھا۔ تاہم، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ وہ قیادت سے مکمل الگ ہو گئے ہیں۔ 2023 کے سیزن میں بھی جب فاف ڈو پلیسس انجری کا شکار ہوئے تھے، تو کوہلی نے تین میچوں میں ٹیم کی قیادت کی تھی جن میں سے دو میں انہیں کامیابی ملی۔
آخری بار ویرات کوہلی نے باقاعدہ کپتان کے طور پر 2023 میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے خلاف ایم چناسوامی اسٹیڈیم میں میچ کھیلا تھا۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ فرنچائز نے باضابطہ طور پر ان سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا ہے، تاکہ کوہلی اپنی تمام تر توانائی رنز بنانے میں صرف کریں جبکہ ٹیم کے دیگر سینئر کھلاڑی قیادت کی ذمہ داریاں بانٹ سکیں۔
مداحوں کا ردعمل اور سوشل میڈیا پر بحث
جیتیش شرما کو ویرات کوہلی پر ترجیح دینے کے فیصلے پر آر سی بی کے مداحوں میں غم و غصہ بھی دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر کئی مداحوں نے سوال اٹھایا کہ جب ویرات جیسا عظیم کھلاڑی ٹیم میں موجود ہے تو کسی جونیئر کھلاڑی کو کپتان بنانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ لیکن اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ فیصلہ ویرات کوہلی کے اپنے فیصلے اور ٹیم کے طویل مدتی مفاد کے عین مطابق معلوم ہوتا ہے۔
خلاصہ
رائل چیلنجرز بنگلور کے لیے ویرات کوہلی ہمیشہ ایک آئی کون رہیں گے۔ چاہے ان کے پاس کپتانی کا بیج ہو یا نہ ہو، وہ ٹیم کے سب سے بااثر کھلاڑی ہیں۔ جیتیش شرما کو کپتان بنانا اس بات کا اشارہ ہے کہ آر سی بی اب نئے چہروں کو سامنے لانے کے لیے تیار ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ویرات کوہلی بغیر کسی اضافی دباؤ کے اپنے کھیل کا مظاہرہ کریں۔ پنجاب کنگز کے خلاف یہ ہائی وولٹیج مقابلہ نہ صرف پوائنٹس ٹیبل کے لیے اہم تھا بلکہ اس نے آر سی بی کی نئی قیادت کی سمت کا بھی تعین کر دیا ہے۔
