[CRK] خواتین ورلڈ کپ فائنل کی ویورشپ نے مردوں کے ٹی 20 ورلڈ کپ کا ریکارڈ برابر کر دیا
[CRK]
خواتین کرکٹ کا نیا دور: ایک تاریخی سنگ میل اور عالمی ریکارڈ
کرکٹ کی دنیا میں ایک ایسی تبدیلی رونما ہو رہی ہے جس کا تصور چند سال پہلے تک محال تھا۔ نوی ممبئی کے ڈی وائی پاٹل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے 2025 کے ویمنز ون ڈے ورلڈ کپ فائنل نے ثابت کر دیا ہے کہ خواتین کا کھیل اب مقبولیت کے اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں وہ مردوں کے بڑے ٹورنامنٹس کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ بھارت اور جنوبی افریقہ کے درمیان ہونے والے اس سنسنی خیز مقابلے نے نہ صرف بھارت کو پہلا عالمی خطاب جتوایا، بلکہ ویورشپ کے تمام سابقہ ریکارڈز بھی چکنا چور کر دیے۔
جیو ہاٹ اسٹار پر 185 ملین صارفین کا حیران کن ریکارڈ
بھارت میں اس ٹورنامنٹ کے آفیشل اسٹریمنگ پلیٹ فارم، جیو ہاٹ اسٹار کے مطابق، فائنل میچ کو ریکارڈ 185 ملین صارفین نے براہ راست دیکھا۔ یہ اعداد و شمار محض ایک نمبر نہیں بلکہ خواتین کرکٹ کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ویورشپ 2024 میں کھیلے گئے مردوں کے ٹی 20 ورلڈ کپ فائنل کے بالکل برابر ہے، جس میں بھارت نے جنوبی افریقہ کو شکست دی تھی۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اب شائقینِ کرکٹ کے لیے جنون صرف مردوں کی کرکٹ تک محدود نہیں رہا۔
آئی پی ایل کی روزانہ کی پہنچ سے بھی آگے
اس فائنل کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے 2025 کے انڈین پریمیئر لیگ (IPL) کی اوسط روزانہ کی پہنچ (Daily Reach) کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ آئی پی ایل کو دنیا کی سب سے امیر اور مقبول لیگ مانا جاتا ہے، لیکن ویمنز ورلڈ کپ فائنل کے لیے عوامی جوش و خروش نے سب کو حیران کر دیا۔ اس سے یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ جب معیار اور جذبہ میدان میں نظر آئے تو شائقین کی بڑی تعداد اسے سپورٹ کرنے کے لیے موجود ہوتی ہے۔
کنیکٹڈ ٹی وی (CTV) پر ناظرین کی بڑی تعداد
ڈیجیٹل اسٹریمنگ کے ساتھ ساتھ، بڑی اسکرینز یعنی کنیکٹڈ ٹی وی پر بھی اس میچ کا سحر طاری رہا۔ تقریباً 92 ملین ناظرین نے کنیکٹڈ ٹی وی کے ذریعے اس فائنل کا لطف اٹھایا۔ یہ تعداد 2024 کے مردوں کے ٹی 20 ورلڈ کپ فائنل اور 2023 کے مردوں کے ون ڈے ورلڈ کپ فائنل (بھارت بمقابلہ آسٹریلیا) کے برابر ہے۔ ان دونوں مردوں کے ٹورنامنٹس میں بھی بھارت فائنل کا حصہ تھا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بھارتی ٹیم کی موجودگی کسی بھی ایونٹ کو ‘میگا ایونٹ’ بنانے کے لیے کافی ہے۔
ڈیجیٹل ریچ میں بے پناہ اضافہ: سابقہ تین ایڈیشنز کا مجموعہ پیچھے رہ گیا
اگر مجموعی طور پر پورے ٹورنامنٹ کی بات کی جائے تو بھارت میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اس کی کل پہنچ 446 ملین ریکارڈ کی گئی، جو کہ خواتین کے کسی بھی ٹورنامنٹ کے لیے اب تک کی سب سے زیادہ رسائی ہے۔ یہ تعداد خواتین کے گزشتہ تین ورلڈ کپ ایڈیشنز کی مجموعی ریچ سے بھی زیادہ ہے۔ یہ غیر معمولی اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسمارٹ فونز اور سستے انٹرنیٹ نے خواتین کرکٹ کو بھارت کے کونے کونے تک پہنچا دیا ہے۔
پاک بھارت ٹاکرے کا ریکارڈ بھی ماند پڑ گیا
ٹورنامنٹ کے آغاز میں 5 اکتوبر کو بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے گروپ اسٹیج میچ نے 28.4 ملین ویورز کے ساتھ ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا، جو اس وقت کسی بھی بین الاقوامی خواتین میچ کے لیے سب سے بڑی تعداد تھی۔ تاہم، فائنل نے اس ریکارڈ کو نہ صرف توڑا بلکہ اسے بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ فائنل کی ویورشپ گروپ اسٹیج کے اس بڑے مقابلے سے کئی گنا زیادہ رہی۔
ڈی وائی پاٹل اسٹیڈیم: تماشائیوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر
صرف اسکرینز پر ہی نہیں، بلکہ میدان کے اندر بھی ماحول دیکھنے والا تھا۔ نوی ممبئی کا ڈی وائی پاٹل اسٹیڈیم تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، جہاں 39,555 افراد نے اسٹیڈیم میں موجود رہ کر بھارت کو تاریخ رقم کرتے ہوئے دیکھا۔ اسٹیڈیم کی مکمل گنجائش کا بھر جانا اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ خواتین کرکٹ اب کمرشل طور پر بھی ایک کامیاب پروڈکٹ بن چکی ہے۔
نتیجہ: خواتین کرکٹ کا روشن مستقبل
بھارت کی اس فتح اور ویورشپ کے ان ریکارڈز نے اسپانسرز، براڈکاسٹرز اور کرکٹ بورڈز کے لیے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ خواتین کرکٹ اب محض ایک رسمی کھیل نہیں رہا بلکہ یہ ایک بڑی صنعت بن کر ابھرا ہے۔ 185 ملین ناظرین کی ریکارڈ شرکت اس بات کی ضمانت ہے کہ آنے والے برسوں میں خواتین کرکٹ کی اہمیت اور کوریج میں مزید اضافہ ہوگا۔
ای ایس پی این کرک انفو جیو اسٹار نیٹ ورک کا حصہ ہے۔
