Cricket News

یشسوی جیسوال کا ون ڈے ٹیم سے اخراج: بھارتی شائقین کا شدید غم و غصہ اور سلیکشن پر سوالات

Sneha Roy · · 1 min read

بھارتی کرکٹ ٹیم کا اعلان اور یشسوی جیسوال کی حیران کن دستبرداری

منگل کی دوپہر بھارتی کرکٹ بورڈ (BCCI) نے افغانستان کے خلاف آئندہ ہونی والی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کے لیے ٹیم کا اعلان کیا۔ اگرچہ اسکواڈ میں کئی تجربہ کار کھلاڑی موجود ہیں، لیکن سب سے زیادہ بحث جس موضوع پر ہو رہی ہے وہ ہے یشسوی جیسوال کا ون ڈے ٹیم سے اخراج۔ جیسوال، جنہیں مستقبل قریب کے لیے بھارت کے تیسرے اوپنر کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، اچانک سلیکٹرز کی نظروں سے اوجھل ہو گئے ہیں۔

یہ فیصلہ بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن ہے کیونکہ جیسوال گزشتہ دو تین سالوں سے ٹیم کے ساتھ مستقل طور پر جڑے ہوئے تھے۔ چاہے وہ ٹیسٹ کرکٹ ہو یا ٹی 20، انہوں نے ہر فارمیٹ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ روہت شرما اور شبمن گل کی موجودگی کے باوجود، جیسوال کو ہمیشہ ایک مضبوط متبادل کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، لیکن اب انہیں اسکواڈ سے ہی باہر کر دیا گیا ہے۔

جیسوال کا ون ڈے کیریئر اور حالیہ کارکردگی

یشسوی جیسوال نے 2023 میں اپنے ٹیسٹ اور ٹی 20 کیریئر کا آغاز کیا تھا، لیکن ون ڈے کرکٹ میں اپنی باری کے لیے انہیں 2025 کے آغاز تک انتظار کرنا پڑا۔ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی سے چند ہفتے قبل، انہوں نے انگلینڈ کے خلاف ناگپور میں اپنا ڈیبیو کیا۔ اگرچہ اس میچ میں وہ صرف 15 رنز بنا سکے اور جلد ہی ویرات کوہلی کی واپسی کی وجہ سے ٹیم سے باہر ہو گئے، لیکن ان کا اصل امتحان جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں ہوا۔

نومبر-دسمبر 2025 میں جب شبمن گل گردن کی انجری کے باعث باہر ہوئے، تو جیسوال کو موقع دیا گیا۔ جنوبی افریقہ کے خلاف تین میچوں کی سیریز میں انہوں نے بتدریج بہتری دکھائی۔ پہلے دو میچوں میں 18 اور 22 رنز بنانے کے بعد، انہوں نے سیریز کے فیصلہ کن میچ میں شاندار 116* (121 گیندوں پر) رنز بنا کر اپنی کلاس ثابت کی۔ اس سنچری کے بعد ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ انہوں نے بطور اوپنر اپنی جگہ پکی کر لی ہے، لیکن افغانستان کے خلاف سیریز کے لیے انہیں نظر انداز کر دیا گیا۔

ایشان کشن کی واپسی اور ‘ملٹی ڈائمینشنل’ کھلاڑیوں کا فلسفہ

جیسوال کی جگہ ایشان کشن کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ سلیکٹرز کا خیال ہے کہ ایشان کشن نہ صرف ایک اوپنر ہیں بلکہ وہ وکٹ کیپنگ کا آپشن بھی فراہم کرتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں بھارتی ٹیم مینجمنٹ ایسے کھلاڑیوں کو ترجیح دے رہی ہے جو ایک سے زیادہ شعبوں میں مہارت رکھتے ہوں۔ پچھلے سال انگلینڈ کے دورے پر بھی ارشدیپ سنگھ اور کلدیپ یادو کو ٹیسٹ میچ نہ کھلانا اسی سوچ کی عکاسی کرتا تھا۔

ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران بھی جب شبمن گل کی فارم خراب تھی، تو جیسوال کے اعداد و شمار بہترین تھے، لیکن ایشان کشن کو ان کی وکٹ کیپنگ کی وجہ سے ترجیح دی گئی۔ افغانستان سیریز کے لیے بھی یہی رجحان نظر آتا ہے۔ رشبھ پنت کی عدم موجودگی میں ایشان کشن کی واپسی نے جیسوال کے لیے راستے بند کر دیے ہیں، جبکہ نتیش ریڈی جیسے آل راؤنڈر کو شامل کرنے کے لیے ایک اضافی سلاٹ نکالا گیا ہے۔

شائقین کا ردعمل اور سوشل میڈیا پر غم و غصہ

ٹیم کے اعلان کے فوری بعد سوشل میڈیا پر مداحوں نے چیف سلیکٹرز اور ٹیم مینجمنٹ پر کڑی تنقید کی۔ شائقین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے کھلاڑی کو باہر کرنا جس نے اپنے آخری ون ڈے میچ میں سنچری اسکور کی ہو، ناانصافی ہے۔ بہت سے صارفین کا خیال ہے کہ روہت شرما کی فٹنس کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے جیسوال کو ٹیم میں ہونا چاہیے تھا۔

افغانستان کے خلاف بھارت کا ون ڈے اسکواڈ

افغانستان کے خلاف تین میچوں کی ون ڈے سیریز کے لیے منتخب کردہ اسکواڈ درج ذیل ہے:

  • شبمن گل (کپتان)
  • روہت شرما
  • ویرات کوہلی
  • شریس ایر (نائب کپتان)
  • کے ایل راہول
  • ایشان کشن
  • ہاردک پانڈیا
  • نتیش کمار ریڈی
  • واشنگٹن سندر
  • کلدیپ یادو
  • ارشدیپ سنگھ
  • پرسدھ کرشنا
  • پرنس یادو
  • گرنور برار
  • ہرش دوبے

سیریز کا شیڈول

بھارت اور افغانستان کے درمیان واحد ٹیسٹ میچ 6 سے 10 جون تک کھیلا جائے گا۔ اس کے بعد 14 جون سے تین میچوں کی ون ڈے سیریز کا آغاز ہوگا۔ بھارتی ٹیم میں اس بار کئی نئے چہرے جیسے گرنور برار اور پرنس یادو شامل ہیں، جن پر سب کی نظریں ہوں گی۔

نتیجہ

یشسوی جیسوال کا اخراج بھارتی کرکٹ کے سلیکشن معیارات پر ایک نئی بحث چھیڑ چکا ہے۔ کیا صرف ‘وکٹ کیپنگ’ یا ‘آل راؤنڈر’ کی خصوصیت کسی خالص بلے باز کی سنچری پر بھاری پڑ سکتی ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب شاید بی سی سی آئی کو میدان میں اپنی کارکردگی سے دینا ہوگا۔ فی الحال، جیسوال کے مداحوں کے لیے یہ ایک تلخ گولی ہے جسے نگلنا آسان نہیں ہے۔