[CRK] ایرون فنچ کی اکشر پٹیل پر کڑی تنقید: ‘آپ دباؤ میں کھڑے ہونے کو تیار نہیں’

[CRK]

دہلی کیپٹلز کی بولنگ حکمت عملی: ایک معمہ

دہلی کیپٹلز کے پاس انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے بہترین اسپنرز کا جوڑا موجود ہے، جس میں کپتان اکشر پٹیل اور کلدیپ یادو شامل ہیں۔ اکشر پٹیل جہاں اپنی دفاعی بولنگ اور کنٹرول کے لیے مشہور ہیں، وہیں کلدیپ یادو ایک ایسے رسٹ اسپنر ہیں جنہیں پڑھنا کسی بھی بلے باز کے لیے ایک چیلنج ہوتا ہے۔ لیکن سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف میچ میں کچھ ایسا ہوا جس نے کرکٹ ماہرین کو حیران کر دیا۔ ان دونوں ورلڈ کلاس اسپنرز نے مل کر صرف چار اوورز کروائے، جبکہ ایک پارٹ ٹائم بولر کو پورا کوٹہ دیا گیا۔

ایرون فنچ کا شدید ردعمل

آسٹریلیا کے سابق جارح مزاج بلے باز اور کپتان ایرون فنچ نے اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ای ایس پی این کرک انفو کے شو ‘ٹائم آؤٹ’ پر گفتگو کرتے ہوئے فنچ نے کہا، ‘ہم یہاں بیٹھے سر کھجا رہے ہیں کہ یہ کیا ہوا؟ آپ کے دو بہترین ہندوستانی اسپنرز، اکشر پٹیل اور کلدیپ یادو، نے مل کر صرف چار اوورز کیے۔ دوسری طرف نتیش رانا، جو ایک پارٹ ٹائم آف اسپنر ہیں، انہوں نے چار اوورز مکمل کیے۔ میرے نزدیک اس بات کی کوئی منطق نہیں بنتی۔’

نتیش رانا کا انتخاب: ایک ناکام تجربہ؟

نتیش رانا، جنہوں نے دہلی کے گزشتہ دو میچز مکس کیے تھے، انہیں حیدرآباد کے خلاف بولنگ کا آغاز کرنے کے لیے بلایا گیا۔ اپنے 122 میچز پر مشتمل آئی پی ایل کیریئر میں یہ صرف 27واں موقع تھا جب انہوں نے بولنگ کی اور صرف دوسری بار ایسا ہوا کہ انہوں نے اپنے چار اوورز کا کوٹہ مکمل کیا۔ دہلی کی انتظامیہ کا خیال تھا کہ رانا بائیں ہاتھ کے بلے بازوں ابھیشیک شرما اور ٹریوس ہیڈ کے خلاف گیند کو باہر نکالنے میں کامیاب ہوں گے، لیکن فنچ اس دلیل سے متفق نظر نہیں آئے۔

اکشر پٹیل کا رویہ اور خود اعتمادی کی کمی

فنچ نے اکشر پٹیل کی سینارٹی اور ٹیم میں ان کے مقام کو یاد دلاتے ہوئے کہا، ‘یہ آپ کے کپتان، آپ کے سینئر کھلاڑی، آپ کے ریٹینڈ پلیئر اور آپ کے بہترین ہندوستانی بولر کی ذمہ داری ہے۔ وہ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہیں اور دو بار ورلڈ کپ جیت چکے ہیں۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔’

فنچ نے مزید کہا کہ جب اکشر نے بائیں ہاتھ کے بلے بازوں کو دیکھ کر خود بولنگ کرنے سے انکار کیا، تو یہ ان کے رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ ‘حقیقت یہ ہے کہ وہ دباؤ میں خود پر بھروسہ نہیں کر پا رہے تھے کہ وہ بائیں ہاتھ کے بلے بازوں کے خلاف اپنا دفاع کر سکیں گے۔ جیسے ہی کوئی لیفٹ ہینڈر کریز پر آتا، وہ پیچھے ہٹ جاتے۔ یہ ان کے رویے کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔’

اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ اکشر پٹیل کا ابھیشیک شرما کے خلاف ریکارڈ بہت شاندار رہا ہے۔ اس میچ سے قبل انہوں نے آئی پی ایل میں ابھیشیک کو صرف 8 گیندوں کے اندر دو بار آؤٹ کیا تھا اور صرف 6 رنز دیے تھے۔ فنچ کے مطابق، اکشر کا مائنڈ سیٹ دفاعی ہونے کے باوجود حملہ آور ہوتا ہے۔ ‘وہ لائن اور لینتھ میں تبدیلی کرنے کے ماہر ہیں، وہ اپنے قد اور زاویوں کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جب ابھیشیک جیسے بلے باز جارحانہ موڈ میں ہوں، تو اکشر جیسی نپی تلی بولنگ ہی انہیں غلطی کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔’

ایگزیکیوشن یا نیت؟

میچ کے بعد اکشر پٹیل نے اپنی ٹیم کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے منصوبوں پر عمل درآمد (Execution) نہیں کر سکے اور جب عمل درآمد درست نہ ہو تو کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن فنچ اس جواب سے مطمئن نہیں تھے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا، ‘میں ان تبصروں کو دیکھ رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ جناب، آپ کے پاس موقع تھا لیکن آپ خود کھڑے ہونے کو تیار نہیں تھے۔ مجھے غلط ایگزیکیوشن سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ کوئی بھی بولر ایک یا دو میچز میں خراب گیندیں کر سکتا ہے، لیکن اگر آپ کی منصوبہ بندی اور سوچ ہی درست نہیں، تو وہ اصل مسئلہ ہے۔’

فاف ڈو پلیسس کی تائید

جنوبی افریقہ کے فاف ڈو پلیسس نے بھی فنچ کی بات سے اتفاق کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اکشر خود بولنگ کرتے اور 20 رنز بھی دے دیتے، تو کوئی ان پر تنقید نہ کرتا کیونکہ وہ ٹیم کے مین بولر ہیں۔ ‘سوال یہ ہے کہ آپ نے ایک ایسے پارٹ ٹائم بولر کو چار اوورز کیوں دیے جس نے اپنے پورے کیریئر میں شاید ہی کبھی ایسا کیا ہو؟’

فاف نے مزید کہا کہ کلدیپ یادو کے بارے میں شاید یہ سوچا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی بہترین فارم میں نہیں تھے، لیکن اکشر پٹیل کے پاس وہ تمام مہارتیں موجود ہیں جو بائیں ہاتھ کے بلے بازوں کو پریشان کر سکتی ہیں۔ وہ راؤنڈ دی وکٹ جا کر گیند کو باہر نکال سکتے ہیں اور ان کے پاس کئی ایسی ٹرکس ہیں جو کسی بھی وقت وکٹ دلا سکتی ہیں۔

نتیجہ

دہلی کیپٹلز کی اس ہار نے ٹیم کی قیادت اور حکمت عملی پر کئی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ ایرون فنچ کی یہ تنقید اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایک کپتان کو مشکل وقت میں سامنے آ کر لیڈ کرنا چاہیے، نہ کہ خطرے سے بچنے کے لیے پارٹ ٹائم بولرز کا سہارا لینا چاہیے۔ آنے والے میچوں میں اکشر پٹیل کو نہ صرف اپنی بولنگ بلکہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو بھی ثابت کرنا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *