[CRK]
رائزنگ سٹارز ایشیا کپ: افغانستان اے کا مشن ٹرافی کا دفاع
ایشین کرکٹ کونسل (ACC) کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے رائزنگ سٹارز ایشیا کپ (جسے پہلے ایمرجنگ ٹیمز ٹورنامنٹ کہا جاتا تھا) کے لیے افغانستان اے کے اسکواڈ کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ قطر کے شہر دوحہ میں 14 نومبر سے 23 نومبر تک کھیلا جائے گا۔ افغانستان کے لیے یہ ٹورنامنٹ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ وہ گزشتہ سال کے چیمپئن ہیں اور اس بار اپنی ٹائٹل کی حفاظت کرنے کے لیے پوری تیاری کے ساتھ اتریں گے۔
درویش رسولی کی قیادت اور ٹیم کا ڈھانچہ
افغانستان اے کی ٹیم کی قیادت ایک بار پھر درویش رسولی کریں گے۔ رسولی ایک تجربہ کار کھلاڑی ہیں اور ان کی قیادت میں ٹیم نے گزشتہ سال شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ ٹیم کے ڈھانچے پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سلیکٹرز نے تسلسل کو ترجیح دی ہے، کیونکہ گزشتہ سال کے فاتح اسکواڈ کے 10 کھلاڑیوں کو دوبارہ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ ان میں سدیق اللہ اٹل، اے ایم غضنفر اور قیس احمد جیسے کلیدی نام شامل ہیں، جنہوں نے گزشتہ سال کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
سدیق اللہ اٹل: ایک بھروسے مند کھلاڑی
ٹیم کے نائب کپتان سدیق اللہ اٹل کے لیے یہ ٹورنامنٹ یادگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اٹل کو گزشتہ سال کے فائنل کی خوبصورت یادیں ہیں، جہاں انہوں نے سری لنکا اے کے خلاف ایک شاندار نصف سنچری اسکور کر کے افغانستان کو فتح دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اٹل کی صلاحیتیں صرف رائزنگ سٹارز تک محدود نہیں ہیں، بلکہ وہ افغانستان کی سینئر قومی ٹیم کا بھی مستقل حصہ بن چکے ہیں۔ ان کے نام اب تک 22 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلز، 12 ون ڈے میچز اور ایک ٹیسٹ میچ درج ہے، جو انہیں اس اسکواڈ کا ایک تجربہ کار ستون بناتا ہے۔
بولنگ اٹیک: رفتار اور اسپن کا امتزاج
افغانستان اے کا فاسٹ بولنگ اٹیک عبداللہ احمدزئی کی قیادت کرے گا۔ عبداللہ نے ستمبر میں اپنا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ڈیبیو کیا تھا اور زومبابوے کے خلاف حالیہ سیریز کے تمام تینوں میچوں میں اپنی جگہ برقرار رکھی، جس سے ان کی فارم اور ٹیم میں اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
اسپن کے شعبے میں 19 سالہ اے ایم غضنفر پر سب کی نظریں ہوں گی۔ غضنفر ایک ‘مسٹری اسپنر’ کے طور پر ابھرے ہیں اور گزشتہ سال ڈیبیو کے بعد سے انہوں نے افغانستان کے لیے تینوں فارمیٹس میں کھیلا ہے۔ تاہم، ستمبر میں بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں اوسط کارکردگی کی وجہ سے انہیں اسکواڈ سے باہر رکھا گیا تھا۔ اب رائزنگ سٹارز ایشیا کپ ان کے لیے اپنی صلاحیتوں کو دوبارہ ثابت کرنے اور قومی ٹیم میں اپنی جگہ پکی کرنے کا بہترین موقع ہے۔ دوسری جانب، قیس احمد بھی ٹیم کا حصہ ہیں، جنہوں نے آخری بار 2024 میں قومی ٹیم کی جرسی پہنی تھی۔
سینئر کھلاڑیوں کی موجودگی
اسکواڈ میں صرف نوجوان کھلاڑی ہی نہیں بلکہ ایسے کھلاڑی بھی شامل ہیں جنہوں نے سینئر قومی ٹیم کے لیے نمائندگی کی ہے۔ بلال سمی، زبید اکبری، محمد اسحاق اور نانگی لیا خروٹے جیسے کھلاڑیوں کی موجودگی ٹیم کو اضافی استحکام فراہم کرتی ہے۔ ان کھلاڑیوں کا تجربہ دباؤ والے میچوں میں ٹیم کے کام آئے گا، خاص طور پر جب مقابلہ سخت ہوگا۔
پول B کا چیلنج اور شیڈول
افغانستان اے کو پول B میں رکھا گیا ہے، جہاں ان کا مقابلہ سری لنکا اے، بنگلہ دیش اے اور ہانگ کانگ سے ہوگا۔ افغانستان کا سفر 15 نومبر کو سری لنکا اے کے خلاف میچ سے شروع ہوگا، جو کہ ایک سخت مقابلہ ہونے کی توقع ہے۔ اس کے بعد 17 نومبر کو بنگلہ دیش اے اور 19 نومبر کو ہانگ کانگ کے خلاف میچز کھیلے جائیں گے۔
افغانستان اے کا مکمل اسکواڈ
ٹیم کی مکمل فہرست درج ذیل ہے:
- درویش رسولی (کپتان)
- سدیق اللہ اٹل (نائب کپتان)
- نور رحمان (وکٹ کیپر)
- محمد اسحاق (وکٹ کیپر)
- زبید اکبری
- عمران میر
- رحمان اللہ زدران
- اعجاز احمد احمدزئی
- نانگی لیا خروٹے
- فرمان اللہ صفی
- قیس احمد
- اے ایم غضنفر
- بلال سمی
- عبداللہ احمدزئی
- فریدون داؤد زئی
ریزرو کھلاڑی: وافی اللہ تراخیل، سدیق اللہ پاشا، یاما عرب
تجزیہ: کیا افغانستان ٹرافی برقرار رکھ پائے گا؟
افغانستان کی ٹیم اپنی مضبوط اسپن بولنگ اور جارحانہ بیٹنگ کے لیے جانی جاتی ہے۔ درویش رسولی کی قیادت میں ٹیم کے پاس توازن موجود ہے۔ اگر سدیق اللہ اٹل ٹاپ آرڈر میں استحکام لاتے ہیں اور غضنفر و قیس احمد اپنی اسپن جادوگری دکھاتے ہیں، تو افغانستان اے کے لیے اس ٹورنامنٹ کو ایک بار پھر جیتنا مشکل نہیں ہوگا۔ دوحہ کی پچیں عموماً اسپنرز کے لیے معاون ہوتی ہیں، جو افغانستان کے حق میں ایک بڑا پلس پوائنٹ ثابت ہو سکتا ہے۔