[CRK]
عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ: دو درجاتی نظام کی مخالفت اور نیا منصوبہ
عالمی کرکٹ کے سب سے باوقار فارمیٹ، ٹیسٹ کرکٹ، کے مستقبل کے حوالے سے آئی سی سی کے حالیہ اجلاسوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ خبروں کے مطابق، ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) کے اگلے سائیکل میں تمام 12 فل ممبرز کو ایک ہی ڈویژن میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل یہ تجویز دی گئی تھی کہ ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک کو دو مختلف درجوں (Tiers) میں تقسیم کر دیا جائے، لیکن اس منصوبے کو رکن ممالک کی جانب سے وسیع پیمانے پر حمایت حاصل نہ ہو سکی۔
نیوزی لینڈ کے سابق بیٹر راجر ٹوز کی سربراہی میں قائم ایک ورکنگ گروپ نے دبئی میں ہونے والے آئی سی سی بورڈ اور چیف ایگزیکٹوز کمیٹی (CEC) کے اجلاسوں میں اپنی سفارشات پیش کیں۔ ان سفارشات کا مقصد کرکٹ کے تینوں فارمیٹس کو درپیش چیلنجز کا حل تلاش کرنا تھا۔ چونکہ ممالک نے پہلے ہی 2027-29 کے اگلے ڈبلیو ٹی سی سائیکل کے لیے دو طرفہ سیریز کے حوالے سے بات چیت شروع کر دی ہے، اس لیے ان فیصلوں میں تیزی لانا ضروری تھا۔
دو درجاتی ماڈل کیوں ناکام ہوا؟
ٹیسٹ کرکٹ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی بات گزشتہ ایک دہائی سے وقفے وقفے سے ہوتی رہی ہے۔ اس بار بھی جولائی میں آئی سی سی کی سالانہ کانفرنس کے دوران اس پر بحث ہوئی، لیکن فنڈنگ ماڈل اور مالی تقسیم کے مسائل اس کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔ تجویز دی گئی تھی کہ بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا جیسے بڑے ممالک دوسرے درجے کی ٹیموں کی مالی مدد کریں گے، لیکن یہ بات چیت کسی منطقی انجام تک نہ پہنچ سکی۔
پاکستان، ویسٹ انڈیز اور سری لنکا جیسے ممالک نے اس ماڈل کی سخت مخالفت کی۔ ان کا موقف تھا کہ دوسرے درجے میں جانے سے انہیں بڑے ممالک کے خلاف کھیلنے کے مواقع نہیں ملیں گے، جس سے ان کی کرکٹ اور مالیات کو نقصان پہنچے گا۔ اس کے علاوہ ‘پرموشن اور ریلیگیشن’ (ترقی اور تنزلی) کا معاملہ بھی انتہائی حساس تھا۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ECB) کے چیف رچرڈ تھامسن نے بھی اس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ انگلینڈ کسی برے وقت کی وجہ سے دوسرے درجے میں چلا جائے اور بھارت یا آسٹریلیا کے خلاف نہ کھیل سکے۔
12 ٹیموں پر مشتمل توسیعی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ
ورکنگ گروپ نے اب ایک 12 ٹیموں پر مشتمل ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی تجویز دی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جولائی 2027 سے شروع ہونے والے اگلے سائیکل میں افغانستان، زمبابوے اور آئرلینڈ کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ ٹیسٹ میچوں کی کم از کم تعداد کا تعین ہونا ابھی باقی ہے، لیکن اس اقدام سے چھوٹے ممالک کو ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے باقاعدہ مواقع ملیں گے۔ تاہم، آئرلینڈ جیسے ممالک کے لیے ٹیسٹ میچوں کی میزبانی کے اخراجات ایک بڑا چیلنج رہیں گے کیونکہ آئی سی سی کی جانب سے فی الحال کسی اضافی فنڈنگ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ون ڈے سپر لیگ کی ممکنہ واپسی
ون ڈے کرکٹ کی گرتی ہوئی مقبولیت کو بچانے کے لیے آئی سی سی ‘ون ڈے سپر لیگ’ کو دوبارہ بحال کرنے پر غور کر رہی ہے۔ یہ لیگ 2023 کے ورلڈ کپ کے بعد ختم کر دی گئی تھی، لیکن اب انتظامیہ کا ماننا ہے کہ 50 اوورز کے فارمیٹ کو ایک بہتر ڈھانچے کی ضرورت ہے۔
آئی سی سی کے ایک عہدیدار کے مطابق، مسئلہ فارمیٹ کا نہیں بلکہ اس کے ڈھانچے کا ہے۔ سپر لیگ کی واپسی سے دو طرفہ سیریز کو ایک نیا مقصد ملے گا اور ٹیموں کے درمیان مقابلہ بڑھے گا۔ توقع ہے کہ یہ لیگ 2028 سے دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب، 50 اوورز کے ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد 14 تک ہی محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ اور کوالیفائنگ کا نیا طریقہ کار
ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے حوالے سے آئی سی سی نے فی الحال ورلڈ کپ میں 20 ٹیموں کو ہی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، اگرچہ بعض حلقوں کی جانب سے اسے 32 ٹیموں تک لے جانے کی خواہش موجود ہے۔ ایسوسی ایٹ ممبرز نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے ایک نیا ‘گلوبل کوالیفائر’ ماڈل تجویز کیا ہے، جو اولمپک کوالیفائنگ کے طریقہ کار سے مشابہت رکھتا ہوگا۔
- گلوبل کوالیفائر: اس میں نہ صرف ایسوسی ایٹ ممبرز بلکہ وہ فل ممبرز بھی حصہ لیں گے جو رینکنگ کی بنیاد پر براہ راست کوالیفائی نہیں کر سکیں گے۔
- ایشین ممالک کی حمایت: ایشیائی ممالک کا ماننا ہے کہ موجودہ علاقائی نظام ان کے لیے ورلڈ کپ تک رسائی کو مشکل بناتا ہے، لہذا عالمی کوالیفائر ایک بہتر موقع فراہم کرے گا۔
- ٹی 10 فارمیٹ: دنیا بھر میں لیگز کی مقبولیت کے باوجود، آئی سی سی نے فی الحال ٹی 10 کو آفیشل فارمیٹ کا درجہ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان تمام اہم تجاویز اور سفارشات پر حتمی بحث اگلے سال کے اوائل میں ہونے والے آئی سی سی اجلاسوں میں کی جائے گی، جہاں کرکٹ کے مستقبل کا حتمی نقشہ تیار کیا جائے گا۔