[CRK]
بنگلہ دیشی کرکٹ میں نیا تنازع: جہاں آراء عالم کے الزامات اور بی سی بی کا ایکشن
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ سٹار فاسٹ باؤلر جہاں آراء عالم کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے رہا ہے، جس میں انہوں نے ایک سابق سلیکٹر پر 2022 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے دوران نامناسب رویہ اختیار کرنے کا الزام لگایا ہے۔ بورڈ نے اس معاملے کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ 15 کاروباری دنوں کے اندر اپنی مکمل رپورٹ اور سفارشات جمع کرائے۔
جمعرات کی رات گئے جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں، بی سی بی نے واضح کیا کہ تحقیقات کے نتائج کی روشنی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ بورڈ نے اس بات پر زور دیا کہ کھلاڑیوں کا تحفظ اور ایک پیشہ ورانہ ماحول کی فراہمی ان کی اولین ترجیح ہے۔
بی سی بی کا سرکاری موقف اور تحقیقاتی عمل
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ترجمان کے مطابق: “بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ قومی خواتین ٹیم کی ایک سابق رکن کی جانب سے میڈیا میں رپورٹ کیے گئے الزامات پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ چونکہ یہ معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے، اس لیے بورڈ نے مکمل تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔”
بیان میں مزید کہا گیا کہ بی سی بی اپنے تمام کھلاڑیوں اور عملے کے لیے ایک محفوظ، قابل احترام اور پیشہ ورانہ ماحول کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ بورڈ ایسے معاملات کو انتہائی سنجیدگی سے لیتا ہے اور کسی بھی قسم کی کوتاہی یا بدتمیزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
جہاں آراء عالم کے الزامات کی تفصیلات
جہاں آراء عالم، جو اس وقت آسٹریلیا میں مقیم ہیں، نے حال ہی میں معروف صحافی ریاض عظیم کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ جب مذکورہ شخص خواتین ٹیم کے سلیکٹر اور مینیجر کے طور پر کام کر رہا تھا، تو اس کا رویہ ان کے ساتھ نامناسب تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس شخص نے ان سے نازیبا سوالات پوچھے اور ان کا برتاؤ پیشہ ورانہ اخلاقیات کے منافی تھا۔
بات صرف یہیں ختم نہیں ہوئی، جہاں آراء نے بی سی بی کے چند دیگر عہدیداروں پر بھی نامناسب رویے کا الزام لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس واقعے کی اطلاع فوری طور پر اس وقت کے بی سی بی ڈائریکٹر شفیع الاسلام نادل اور بورڈ کے چیف ایگزیکٹو نظام الدین چوہدری کو دی تھی، لیکن اس وقت خاطر خواہ کارروائی نہیں کی گئی تھی۔
سابقہ تنازعات اور پس منظر
یہ الزامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حال ہی میں جہاں آراء عالم نے ایک اور انٹرویو میں بنگلہ دیشی خواتین ٹیم کی کپتان نگار سلطانہ پر بھی سنگین الزامات لگائے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ کپتان اپنی ٹیم کی کھلاڑیوں کے ساتھ جسمانی بدسلوکی کرتی ہیں۔ تاہم، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ان الزامات کو “بے بنیاد” قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ لیکن حالیہ الزامات میں سابق سلیکٹر کا نام آنے کے بعد بورڈ نے خاموشی توڑنے اور تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جہاں آراء عالم کا شاندار کیریئر
جہاں آراء عالم بنگلہ دیشی خواتین کرکٹ کی ایک قد آور شخصیت ہیں۔ انہوں نے اب تک 135 وائٹ بال میچز میں بنگلہ دیش کی نمائندگی کی ہے، جس میں ون ڈے فارمیٹ میں 48 اور ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی میچوں میں 60 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ ان کی کارکردگی صرف ملک تک محدود نہیں رہی بلکہ وہ بنگلہ دیش کی واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے بھارت میں ہونے والے ‘ویمنز ٹی ٹوئنٹی چیلنج’ اور ‘فیئر بریک انویٹیشنل ٹی ٹوئنٹی’ جیسے بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیا ہے۔
خواتین کرکٹ میں تحفظ کی اہمیت
اس واقعے نے ایک بار پھر خواتین کرکٹ میں کھلاڑیوں کے تحفظ اور انتظامیہ کے کردار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ کھیل کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر جہاں آراء عالم جیسے سینئر کھلاڑی کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں، تو یہ بنگلہ دیش کرکٹ کے انتظامی ڈھانچے کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہوگا۔ بی سی بی کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی کی رپورٹ اب نہ صرف جہاں آراء کے لیے انصاف کی بنیاد بنے گی بلکہ یہ بنگلہ دیشی کرکٹ کے مستقبل کے لیے ایک مثال بھی قائم کرے گی۔
کرکٹ شائقین اور انسانی حقوق کے علمبردار اب 15 دن بعد آنے والی رپورٹ کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ کیا واقعی پسِ پردہ کچھ غلط ہو رہا تھا یا یہ محض الزامات کی حد تک محدود ہے۔