[CRK]
بنگلہ دیش کی کرکٹ میں نئی تاریخ: نیوزی لینڈ کو گھر میں شکست
بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم نے چٹاگانگ میں کھیلے گئے تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے میچ میں نیوزی لینڈ کو 55 رنز سے شکست دے کر تین ون ڈے میچوں کی سیریز 1-2 سے اپنے نام کر لی ہے۔ یہ بنگلہ دیش کی مسلسل تیسری ون ڈے سیریز جیت ہے، جو ٹیم کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میزبان ٹیم نے سیریز کا آغاز شکست سے کیا تھا لیکن شاندار واپسی کرتے ہوئے جیت کا تسلسل برقرار رکھا۔
نظم الحسین شانتو کی ذمہ دارانہ بیٹنگ
میچ کا آغاز بنگلہ دیش کے لیے مایوس کن رہا جب ٹیم 32 رنز پر 3 وکٹیں گنوا چکی تھی۔ ایسے نازک موڑ پر نظم الحسین شانتو اور لٹن داس نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ دونوں بلے بازوں کے درمیان 160 رنز کی شراکت داری نیوزی لینڈ کے خلاف چوتھی وکٹ کے لیے ایک نیا ریکارڈ ہے۔
نظم الحسین شانتو نے 119 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 105 رنز کی اننگز کھیلی، جس میں نو چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔ یہ دو سالوں میں ان کی پہلی ون ڈے سنچری تھی، جس نے بنگلہ دیش کو 265 رنز کے قابلِ احترام مجموعے تک پہنچانے میں مدد کی۔ لٹن داس نے بھی 76 رنز بنا کر فارم میں واپسی کا اشارہ دیا۔
مستفیض الرحمٰن کا جادوئی سپیل
266 رنز کے ہدف کے تعاقب میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کبھی بھی بنگلہ دیشی بولنگ کے سامنے جم کر نہ کھیل سکی۔ گھٹنے کی انجری کے باعث پہلے دو میچوں سے باہر رہنے والے مستفیض الرحمٰن نے واپسی پر تباہ کن بولنگ کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے 43 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں، جو کہ ان کا سات سال بعد ون ڈے کرکٹ میں پہلا پانچ وکٹوں کا کارنامہ ہے۔
کیوی بلے بازوں کے لیے مستفیض کی سلو کٹرز اور لینتھ کو سمجھنا مشکل تھا۔ ڈین فاکس کرافٹ نے 75 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی اور آخری وکٹ کے لیے 50 رنز کی شراکت قائم کی، لیکن یہ کوشش نیوزی لینڈ کو شکست سے بچانے کے لیے ناکافی تھی۔
سیریز کی اہم جھلکیاں
- بنگلہ دیش نے مسلسل تیسری ون ڈے سیریز جیتی (ویسٹ انڈیز، پاکستان اور نیوزی لینڈ کے خلاف)۔
- نظم الحسین شانتو کی 105 رنز کی اننگز، چار سالوں میں چوتھی سنچری۔
- مستفیض الرحمٰن کا 5 وکٹوں کا شاندار کارنامہ۔
- لٹن داس کی 76 رنز کی اننگز، ورلڈ کپ کے بعد پہلی ففٹی۔
میچ کے اہم لمحات میں مہدی حسن معراج کا فیلڈنگ میں شاندار ڈائیو لگانا اور ناہید رانا کی تیز رفتار یارکر نے بھی میچ کا پانسہ پلٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم 210 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور بنگلہ دیش نے یہ تاریخی فتح اپنے نام کی۔ اس جیت نے بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے اعتماد کو مزید بلند کر دیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ اب وہ کسی بھی بڑی ٹیم کو گھر میں ہرانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
نتیجہ
یہ سیریز جیت بنگلہ دیشی کرکٹ کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ جہاں ایک طرف شانتو کی بیٹنگ نے ٹیم کو سہارا دیا، وہیں مستفیض کی بولنگ نے ثابت کیا کہ وہ اب بھی عالمی معیار کے بولر ہیں۔ کوچنگ اسٹاف اور کھلاڑیوں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ سیریز کی جیت کی صورت میں نکلا، جس نے بنگلہ دیشی شائقین کو جشن منانے کا بھرپور موقع فراہم کیا۔