ابھیشیک نائر کا آئی پی ایل 2026 کے دوران فرنچائز سے علیحدگی کا اعلان
آئی پی ایل 2026: ابھیشیک نائر کی فرنچائز سے علیحدگی
کولکتہ نائٹ رائیڈرز (KKR) کے ہیڈ کوچ ابھیشیک نائر نے آئی پی ایل 2026 کے اہم مرحلے کے دوران ایک غیر متوقع فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے ممبئی ٹی 20 لیگ کی فرنچائز ‘مراٹھا رائلز’ سے اپنی تمام تر وابستگی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نائر کی زیر نگرانی کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو ٹورنامنٹ میں اپنی بقا کی جنگ لڑنی پڑ رہی ہے۔
کے کے آر کے لیے مشکل صورتحال
جمعرات کو رائل چیلنجرز بنگلورو (RCB) کے ہاتھوں شکست کے بعد، کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے لیے پلے آف کی امیدیں دھندلا گئی ہیں۔ ابتدائی 6 میچوں میں لگاتار شکستوں کے بعد ٹیم نے 4 میچ جیت کر واپسی کی کوشش کی تھی، لیکن راہ پور میں وراٹ کوہلی کی شاندار سنچری نے ان کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا۔ اس میچ میں کے کے آر نے 193 رنز کا ہدف دیا تھا، جو کوہلی کی ناقابل شکست اننگز کے سامنے کم ثابت ہوا۔
ابھیشیک نائر کا کیریئر اور چیلنجز
بھارتی ٹیم کے اسسٹنٹ کوچ کے طور پر اپنی ذمہ داریاں چھوڑنے کے بعد، ابھیشیک نائر کو کے کے آر (IPL) اور یو پی واریئرز (WPL) کا ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم، ان کا بطور کوچ دورانیہ ملے جلے نتائج کا حامل رہا ہے۔ یو پی واریئرز کے ساتھ ان کے فیصلے اکثر تنقید کی زد میں رہے اور ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر سب سے نچلے نمبر پر رہی۔ آئی پی ایل میں بھی کے کے آر کی کارکردگی تسلی بخش نہیں رہی، اور ٹیم تاحال آٹھویں نمبر پر موجود ہے۔
مراٹھا رائلز کا مستقبل
ممبئی مرر کی رپورٹ کے مطابق، نائر نے اپنی علیحدگی کی تصدیق کر دی ہے۔ مراٹھا رائلز اب سدیش لاڈ کی کپتانی اور امت دانی کی کوچنگ میں اپنی مہم آگے بڑھائے گی۔ ٹیم انتظامیہ میں جیوڈ سنگھ اور اومکار خانویلکر بھی بطور اسسٹنٹ کوچ شامل ہیں۔ یہ پیشرفت ٹی 20 ممبئی لیگ کے چوتھے ایڈیشن سے قبل ہوئی ہے، جو یکم جون سے 13 جون تک وانکھیڑے اسٹیڈیم میں منعقد ہوگا۔
آئی پی ایل 2026 میں آگے کی راہ
11 میچوں میں 4 جیت کے ساتھ، کے کے آر کے لیے ٹورنامنٹ میں واپسی کا وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ ابھیشیک نائر اب مکمل طور پر اپنی توجہ کے کے آر کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر مرکوز رکھیں گے۔ مداحوں کو امید ہے کہ نائر اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لا کر ٹیم کو پوائنٹس ٹیبل پر اوپر لانے میں کامیاب ہوں گے۔ وراٹ کوہلی کی حالیہ فارم کے بعد کے کے آر جیسی ٹیموں کے لیے مقابلہ مزید سخت ہو گیا ہے، اور اگلے چند میچ ہی اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا کے کے آر سیزن کے آخری مراحل تک رسائی حاصل کر پائے گی یا نہیں۔
مستقبل قریب میں، نائر کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنی ٹیم کے مورال کو بلند کرنا اور کھلاڑیوں سے بہترین کارکردگی نکلوانا ہوگا۔ کرکٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹیم کی بیٹنگ اور بولنگ یونٹ میں توازن لانا ان کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
