[CRK]
لکھنؤ سپر جائنٹس کا بحران: کیا نکولس پورن ٹیم کے لیے بوجھ بن گئے ہیں؟
آئی پی ایل 2026 کے سیزن میں لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے۔ لکھنؤ کے اپنے ہوم گراؤنڈ پر کھیلے گئے تینوں میچوں میں ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس میں راجستھان رائلز کے خلاف 40 رنز سے ہار تازہ ترین واقعہ ہے۔ ٹیم کے کوچ جسٹن لینگر کا ماننا ہے کہ کھلاڑیوں نے پچ کے مطابق خود کو ڈھالنے میں ناکامی دکھائی، لیکن کرکٹ کے معروف ماہرین فاف ڈو پلیسی اور ڈیل اسٹین کی رائے اس سے مختلف اور زیادہ تنقیدی ہے۔
تکنیکی غلطیاں اور مڈلڈ بیٹنگ آرڈر
فاف ڈو پلیسی نے ESPNcricinfo کے پروگرام ‘ٹائم آؤٹ’ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم انتظامیہ بیٹنگ آرڈر میں بار بار تبدیلیاں کر کے اپنی طاقت کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا: ‘آپ کی طاقت کیا ہے؟ جو چیز پہلے کام کر رہی تھی، اسی پر قائم رہیں۔ پچھلے سال مچل مارش اور ایڈن مارکرم کی اوپننگ جوڑی کامیاب تھی، لیکن اب آپ سب کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ناممکن ہے۔’
ڈو پلیسی کے مطابق، بیٹنگ آرڈر میں بار بار کی تبدیلیوں سے کھلاڑیوں میں تذبذب پیدا ہو رہا ہے، جس کا براہ راست اثر پاور پلے میں وکٹوں کے گرنے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
نکولس پورن: ایک متنازعہ کردار
ڈیل اسٹین نے اس معاملے پر کھل کر بات کی اور نکولس پورن کو ٹیم کی ناکامی کا ‘کیٹالسٹ’ قرار دیا۔ اسٹین نے کہا: ‘نکولس پورن کی ناقص فارم کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اچھے بلے بازوں کو ادھر ادھر منتقل کرنا پڑ رہا ہے تاکہ ان کے گرد بیٹنگ کو سنبھالا جا سکے۔ کوچز کو پورن کی صلاحیتوں پر یقین ہے لیکن جب وہ رنز نہیں بناتے، تو ٹیم کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔’
اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو پورن نے اس سیزن کے سات میچوں میں صرف 73 رنز بنائے ہیں، جن کا اسٹرائیک ریٹ بھی کافی مایوس کن ہے۔ اس کے برعکس، مارکرم، مارش اور پنت جیسے بلے بازوں کو پورن کی فارم کو کور کرنے کے لیے اپنی پوزیشن سے ہٹ کر کھیلنا پڑ رہا ہے۔
جسٹن لینگر کا موقف
کوچ جسٹن لینگر نے اپنی پریس کانفرنس میں مانا کہ بیٹنگ یونٹ توقعات کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا پا رہا۔ انہوں نے کہا: ‘ہم نے سوچا تھا کہ ہم تجربہ کار کھلاڑیوں کو مڈل آرڈر میں رکھیں گے تاکہ اننگز کو سنبھالا جا سکے، لیکن یہ حکمت عملی فی الحال کام نہیں کر رہی۔ ہمارے باؤلرز، خاص طور پر محسن خان اور پرنس یادو، شاندار کارکردگی دکھا رہے ہیں، لیکن بلے بازوں کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہوگی۔’
مستقبل کے چیلنجز
لکھنؤ سپر جائنٹس کے لیے اب وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ سات میں سے پانچ میچ ہارنے کے بعد، ٹیم کے لیے پلے آف کی راہ مشکل ہو چکی ہے۔ اگر کوچنگ اسٹاف نے سادہ حکمت عملی اختیار نہیں کی اور اپنی بہترین بیٹنگ لائن اپ کو مستحکم نہیں کیا، تو یہ سیزن لکھنؤ کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن سکتا ہے۔
کرکٹ شائقین اب یہ دیکھنا چاہیں گے کہ کیا اگلا میچ ٹیم کے لیے کوئی مثبت تبدیلی لاتا ہے یا یہیں سے ان کے سفر کا اختتام شروع ہوتا ہے۔