Latest Cricket News

بھارت بمقابلہ افغانستان: ویبھو سوریاونشی کے انتخاب نہ ہونے پر اجیت اگرکر کا بڑا بیان

Aditya Kulkarni · · 1 min read

بھارت بمقابلہ افغانستان سیریز: سلیکشن کمیٹی کے حیران کن فیصلے اور اجیت اگرکر کی وضاحت

بھارتی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر اجیت اگرکر کی سربراہی میں سلیکشن کمیٹی نے افغانستان کے خلاف آئندہ ون ڈے اور واحد ٹیسٹ سیریز کے لیے ٹیم کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی بھارتی کرکٹ میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے، خاص طور پر 15 سالہ نوجوان بلے باز ویبھو سوریاونشی کی عدم شمولیت پر ہر طرف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ویبھو سوریاونشی، جنہوں نے آئی پی ایل 2026 کے سیزن میں راجستھان رائلز کی جانب سے کھیلتے ہوئے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے سب کو حیران کر دیا تھا، اس بار بھی سلیکٹرز کی پہلی ترجیح نہ بن سکے۔

ویبھو سوریاونشی کا انتخاب کیوں نہیں ہوا؟

پریس کانفرنس کے دوران جب اجیت اگرکر سے ویبھو سوریاونشی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے بہت ہی پیشہ ورانہ انداز میں اس کی وضاحت کی۔ اگرکر کا کہنا تھا کہ ویبھو بلاشبہ ایک باصلاحیت کھلاڑی ہیں اور انہوں نے بہت کم عمری میں غیر معمولی کارکردگی دکھائی ہے، لیکن ہمیں موجودہ سیٹ اپ اور سینئر کھلاڑیوں کی کارکردگی کو بھی مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔

اگرکر نے یشسوی جیسوال کی مثال دیتے ہوئے کہا، “ویبھو سوریاونشی نے اچھا کھیل پیش کیا ہے، لیکن ہمیں یشسوی جیسوال کو نہیں بھولنا چاہیے۔ جیسوال نے بین الاقوامی سطح پر خود کو ثابت کیا ہے اور وہ بہترین فارم میں ہیں۔ ویبھو نے انڈیا اے ٹیم تک رسائی حاصل کر کے اپنی اہمیت ثابت کی ہے، اور ہمیں امید ہے کہ وہ وہاں اپنی کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھیں گے۔ فی الحال انہیں مزید تجربے کی ضرورت ہے۔”

ٹیم انڈیا میں بڑی تبدیلیاں: رشبھ پنت کی چھٹی

اس سیریز کے لیے ٹیم کے انتخاب میں کئی بڑے فیصلے لیے گئے ہیں جنہوں نے کرکٹ پنڈتوں کو حیران کر دیا ہے۔ سب سے بڑا دھچکا رشبھ پنت کو لگا ہے، جنہیں ٹیسٹ ٹیم کی نائب کپتانی سے ہٹا دیا گیا ہے اور ون ڈے اسکواڈ سے مکمل طور پر ڈراپ کر دیا گیا ہے۔ پنت کی جگہ کے ایل راہول اور ایشان کشن کو ان کے متعلقہ فارمیٹس میں ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ یہ فیصلہ پنت کے مستقبل کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر رہا ہے۔

سینئر کھلاڑیوں کو آرام اور فٹنس کے مسائل

ورک لوڈ مینجمنٹ کے تحت جسپریت بمراہ اور رویندر جڈیجہ جیسے کلیدی کھلاڑیوں کو دونوں فارمیٹس سے آرام دیا گیا ہے۔ دوسری جانب، کپتان روہت شرما اور ہاردک پانڈیا کو ون ڈے اسکواڈ میں شامل تو کیا گیا ہے لیکن ان کی شرکت فٹنس ٹیسٹ پاس کرنے سے مشروط ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بی سی سی آئی اب کھلاڑیوں کی جسمانی حالت پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔

نئے چہروں کی آمد: پرنس یادو اور مانو ستھر کو موقع

سلیکشن کمیٹی نے ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی دکھانے والے نوجوانوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ تیز گیند باز پرنس یادو کو پہلی بار ون ڈے اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ بائیں ہاتھ کے اسپنر مانو ستھر کو ٹیسٹ ٹیم میں جگہ ملی ہے۔ اس کے علاوہ، گورنور برار اور ہرش دوبے کو دونوں فارمیٹس کے لیے منتخب کیا گیا ہے، جو ٹیم میں نوجوان خون شامل کرنے کی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔

اکشر پٹیل کی ٹیسٹ ٹیم سے بے دخلی

ایک اور حیران کن فیصلہ اکشر پٹیل کو ٹیسٹ اسکواڈ سے باہر کرنا تھا۔ اکشر، جو پچھلے کچھ عرصے سے بھارتی کنڈیشنز میں ٹیم کا اہم حصہ رہے ہیں، ان کی جگہ نئے اسپنرز کو ترجیح دینا اس بات کی علامت ہے کہ سلیکٹرز اب مستقبل کی ٹیم کی تعمیر پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

مستقبل کی حکمت عملی اور انڈیا اے کا کردار

اجیت اگرکر کے بیانات سے واضح ہے کہ بی سی سی آئی نوجوان کھلاڑیوں کو براہ راست سینئر ٹیم میں لانے کے بجائے ‘انڈیا اے’ کے پلیٹ فارم کے ذریعے تیار کرنا چاہتی ہے۔ ویبھو سوریاونشی کے لیے بھی یہی راستہ اختیار کیا گیا ہے۔ اگر وہ انڈیا اے کے لیے مستقل مزاجی سے پرفارم کرتے ہیں، تو وہ دن دور نہیں جب وہ نیلی جرسی میں بھارت کی نمائندگی کرتے نظر آئیں گے۔

خلاصہ یہ کہ افغانستان کے خلاف یہ سیریز بھارت کے لیے اپنے بینچ اسٹرینتھ کو آزمانے کا بہترین موقع ثابت ہوگی۔ جہاں سینئر کھلاڑیوں کی کمی محسوس کی جائے گی، وہی نئے کھلاڑیوں کے پاس اپنی جگہ پکی کرنے کا سنہری موقع ہوگا۔