Latest Cricket News

ایر شدیپ سنگھ پر نسلی امتیاز کا الزام: سابق کرکٹر لمکشمن نے بی سی سی کو متنبہ کیا

Riya Sen · · 1 min read

بھارتی کرکٹ میں نسلی امتیاز کے خلاف ایک بار پھر آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ اس بار کا معاملہ ایر شدیپ سنگھ کے ایک ویڈیو کلپ سے شروع ہوا جس میں وہ تیلک ورما کے رنگِ جلد کے حوالے سے ہلکا پھلکا مذاق اُڑاتے نظر آ رہے ہیں۔ واقعہ آئی پی ایل 2026 کے دوران میچ سے قبل دھرم شالا میں پنجاب کنگز اور ممبئی انڈینز کے درمیان ہوا، جب دونوں ٹیموں کے کھلاڑی ایک ہوٹل میں موجود تھے۔

مذاق یا نسلی امتیاز؟

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب تیلک ورما گزر رہے ہوتے ہیں، تو ایر شدیپ کیمرے کی طرف متوجہ ہو کر کہتے ہیں: “اے اندھیرے” – جو ان کے سانچے رنگ کی طرف اشارہ تھا۔ تیلک نے اس پر مسکرا کر رد عمل دیا، لیکن بہت سارے صارفین نے اس تبصرے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے نسلی امتیاز کی کیٹیگری میں ڈال دیا۔

بعد ازاں ایر شدیپ نے کہا کہ تیلک کو سن اسکرین لگانی چاہیے ورنہ وہ اور گہرے ہو جائیں گے۔ تیلک نے معصومیت سے جواب دیا کہ وہ تو فوکس ٹیل کا سن اسکرین استعمال کرتے ہیں۔ اسی دوران ایر شدیپ نے کیمرہ ممبئی انڈینز کے جوان کھلاڑی نامن دھیر کی طرف موڑتے ہوئے کہا: “یہ ہے پنجاب کا اصل نور”۔

نامن نے بعد میں وضاحت کی کہ “نور” کا مطلب ہے روشنی، لیکن سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی کہ کیا یہ مذاق واقعی بے ضرر تھا یا پھر اس میں مایوس کن مجموعی ماحول کی عکاسی ہو رہی ہے جو کرکٹ میں نسلی مذاق کو عام سمجھ لیتا ہے؟

لمکشمن کا انکشاف اور بی سی سی کو متنبہ کرنا

واضح ہو کہ اس واقعے نے ایک بڑا موڑ تب لیا جب سابق بھارتی اسپنر اور معروف تجزیہ کار لکشمن سیورامکرشنن نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:

“میں نے تمہیں پہلے بھی کہا تھا۔ تیلک ابھی اپنے کیریئر کے ابتدائی دور میں ہے، اس لیے وہ شاید کچھ نہ کہہ سکے۔ لیکن بی سی سی کے پاس ثبوت ہے، وہ کارروائی کر سکتے ہیں۔ اگر بی سی سی ایر شدیپ کے خلاف کارروائی کریں گے، تو میں وہ نام بھی افشا کروں گا جنہوں نے میرے دور میں میرے ساتھ نسلی مذاق کیا تھا۔”

خراب تجربے کا اظہار

لمکشمن نے مزید کہا کہ ان کی بات کبھی کسی نے نہیں مانی، بلکہ لوگوں نے انہیں مذاق اڑایا اور ٹرول کیا۔ اس بار وہ چاہتے ہیں کہ اقدامات ہوں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ایر شدیپ کو آئی پی ایل سیزن سے نکال دیا جائے اور انہیں وقت کے مطابق ادائیگی کی جائے، تاکہ کھلاڑیوں کو یہ احساس ہو کہ “انہیں جہاں درد ہوتا ہے، وہیں نشانہ بنایا جائے“۔

  • بی سی سی کو نسلی امتیاز کے معاملات کو ہلکے میں نہیں لینا چاہیے
  • نوجوان کھلاڑی اکثر خاموش رہتے ہیں تاکہ ان کے کیریئر متاثر نہ ہوں
  • لمکشمن کی جانب سے سابق کھلاڑیوں کے نام افشا کرنے کی دھمکی سنجیدہ تشویش کی عکاس ہے

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

ابھی تک بی سی سی یا آئی پی ایل گورننگ باڈی کی جانب سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم، سوشل میڈیا پر بحث تیز ہو چکی ہے۔ کچھ لوگ ایر شدیپ کی حمایت میں ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ دوستانہ چھیڑ چھاڑ تھی، جبکہ دوسرے اسے کھیل میں نسلی مغالطے کی عکاسی قرار دے رہے ہیں۔

سیورامکرشنن کی بات اس احساس کو مضبوط کرتی ہے کہ کرکٹ ماحول میں نسلی تنوع کے بارے میں حساسیت کی کمی ہے۔ اگر بی سی سی واقعی اس کی جانچ کرتی ہے تو یہ پہلا موقع ہو سکتا ہے جب ایسے معاملات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور سابق دور کے ایسے واقعات بھی منظر عام پر آ سکیں۔

کیا بی سی سی اس معاملے میں موقف اختیار کرے گی؟ کیا لمکشمن واقعی سابق کھلاڑیوں کے نام افشا کریں گے؟ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یہ معاملہ کرکٹ انتظامیہ اور کھلاڑیوں کے درمیان نئی بحث کا باعث بن پاتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کی ہلکی پھلکی طوفان میں کھو جاتا ہے۔

Avatar photo
Riya Sen

Riya Sen focuses on young cricket talent, under-19 prospects, and breakout performers in domestic tournaments.