بابر اعظم کا بنگلہ دیش کے خلاف بیٹنگ کولیپس پر تبصرہ: ‘ہم نے آسان وکٹیں گنوائیں’
سلہٹ ٹیسٹ: بابر اعظم کی نظر میں پاکستان کی ناکامی کی اصل وجہ
سلہٹ ٹیسٹ میچ کے دوران پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ ایک بار پھر مشکلات کا شکار نظر آئی۔ جب ٹیم کو ایک مستحکم ٹوٹل کی ضرورت تھی، تو بلے بازوں کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ شاٹ سلیکشن نے پوری اننگز کو ہلا کر رکھ دیا۔ قومی ٹیم کے اسٹار بیٹر بابر اعظم نے اس صورتحال پر کھل کر بات کی ہے اور اپنی ٹیم کی کارکردگی پر تنقید کی ہے۔
‘بنگلہ دیشی بولنگ نہیں، ہماری اپنی غلطیاں تھیں’
بابر اعظم کا ماننا ہے کہ بنگلہ دیشی بولنگ اٹیک یقیناً اچھی فارم میں ہے، لیکن پاکستان کی 232 رنز پر آل آؤٹ ہونے کی وجہ صرف مخالف ٹیم کی شاندار بولنگ نہیں تھی۔ بابر نے دوسرے دن کے کھیل کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ، ‘میں نہیں سمجھتا کہ ہماری بیٹنگ صرف بنگلہ دیش کی بہترین بولنگ کی وجہ سے ناکام ہوئی۔ ان کی بولنگ اچھی تھی، لیکن ہم نے خود بہت زیادہ آسان وکٹیں گنوائیں۔’
یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ٹیم کے اندر بیٹنگ کے معیار اور ذمہ داری کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ جب دنیا کے بہترین بیٹرز میں شمار ہونے والے بابر اعظم خود اس بات کو تسلیم کریں، تو یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ ڈریسنگ روم میں کس قسم کی مایوسی پائی جا رہی ہوگی۔
پچ کا کردار اور پارٹنرشپ کا فقدان
جہاں بہت سے مبصرین پچ کو بیٹنگ کے لیے مشکل قرار دے رہے تھے، بابر اعظم نے اس تاثر کو یکسر مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سلہٹ کی پچ بیٹنگ کے لیے انتہائی سازگار تھی۔ ‘سچ کہوں تو وکٹ بہت اچھی ہے۔ گیند بلے پر اچھی طرح آ رہی ہے۔ ہم نے اچھی شروعات کی تھی، لیکن پارٹنرشپ بنانے میں ناکام رہے۔’
میچ کا ٹرننگ پوائنٹ
بابر اعظم نے نشاندہی کی کہ سلمان علی آغا اور ان کے درمیان بننے والی شراکت داری ٹوٹنا ہی میچ کا اصل ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ انہوں نے مزید کہا، ‘میری اور سلمان کی وکٹ گرنا میچ کے رخ کو بدل گیا تھا۔ اس کے بعد کوئی بڑی شراکت داری نہیں ہو سکی۔ ان دو آؤٹ ہونے کے بعد میچ کا مومینٹم مکمل طور پر بنگلہ دیش کے حق میں چلا گیا۔’
ذہنی دباؤ یا تکنیکی مسئلہ؟
پاکستان کی بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ میچوں میں مسلسل شکستوں کے بعد یہ سوال بار بار اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا پاکستانی بیٹرز کے ذہنوں میں بنگلہ دیش کے خلاف کوئی ‘مینٹل بلاک’ یا نفسیاتی دباؤ ہے۔ تاہم، بابر اعظم نے اس نظریہ کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا، ‘نہیں، دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف کئی بار کھیل چکی ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ کوئی ذہنی رکاوٹ ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہماری پارٹنرشپس بہت چھوٹی رہ رہی ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں اچھا کرنے کے لیے آپ کو دو یا تین بڑی شراکت داریوں کی ضرورت ہوتی ہے، جو ہم نہیں کر پا رہے۔’
مستقبل کے لیے سبق
یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ مسلسل ناکامیوں اور بیٹنگ لائن اپ کی عدم تسلسل نے سلیکٹرز اور شائقین کو پریشان کر رکھا ہے۔ اگر پاکستان کو اس سیریز میں واپسی کرنی ہے، تو نہ صرف بابر اعظم بلکہ دیگر تمام بیٹرز کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
- بیٹنگ کے دوران صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
- غیر ضروری شاٹس سے گریز کرنا ہوگا۔
- وکٹ پر ٹک کر بڑی پارٹنرشپس قائم کرنا ہوں گی۔
سلہٹ ٹیسٹ میں پاکستان کی کارکردگی نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں ٹیکنیک کے ساتھ ساتھ ذہنی مضبوطی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹیم انتظامیہ اس شکست اور بابر اعظم کے مشاہدات کے بعد اگلے میچ میں کیا حکمت عملی اپناتی ہے۔
