Bangladesh Cricket

بنگلہ دیشی فیلڈنگ کوچ کا بڑا دعویٰ: بنگلہ دیش دنیا کی بہترین فیلڈنگ ٹیموں میں شامل

Riya Sen · · 1 min read

کرکٹ کی دنیا میں بنگلہ دیش کا ابھرتا ہوا نام: فیلڈنگ میں انقلاب

بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے فیلڈنگ کوچ عاشق الرحمن مجمدار نے حالیہ بیانات میں ایک ایسا دعویٰ کیا ہے جس نے کرکٹ کے حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ بنگلہ دیش اب دنیا کی تین بہترین فیلڈنگ ٹیموں کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔ یہ کامیابی محض اتفاق نہیں بلکہ کھلاڑیوں کی برسوں کی محنت اور میدان پر دکھائی گئی بے پناہ لگن کا نتیجہ ہے۔

سلپ کیچنگ میں بہتری اور تکنیکی مہارت

عاشق الرحمن کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کی سلپ کیچنگ کی مہارت میں نمایاں بہتری آئی ہے، جو ٹیسٹ کرکٹ جیسے طویل فارمیٹ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ میچوں میں طویل عرصے تک توجہ برقرار رکھنا ایک مشکل کام ہے، لیکن بنگلہ دیشی کھلاڑیوں نے جس طرح واپسی کی ہے، وہ قابل تعریف ہے۔ خاص طور پر دونوں اننگز میں سلپ فیلڈنگ کا معیار دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ٹیم نے اپنی خامیوں پر قابو پا لیا ہے۔

صورتحال کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت

کوچ کا مزید کہنا تھا کہ بنگلہ دیشی کھلاڑی صورتحال کو سمجھنے اور مختلف حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے میں بہت تیز ہیں۔ شادمان اسلام کے حالیہ شاندار کیچ کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب گیند 138 سے 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آ رہی ہو تو قریب کھڑے ہو کر کیچ پکڑنا کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ یہ شادمان کی ذہنی مضبوطی اور ارتکاز کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

پانچویں دن بھی توانائی برقرار

ٹیم کی مجموعی ذہنی کیفیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے عاشق الرحمن نے کہا کہ پوری ٹیم کی سوچ اب بدل چکی ہے۔ ڈھاکا ٹیسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ پانچویں دن کھلاڑیوں کی توانائی پہلے دن کے مقابلے میں زیادہ دکھائی دے رہی تھی۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ کھلاڑیوں میں جیت کا جذبہ اور میدان میں ہر لمحہ متحرک رہنے کا عزم موجود ہے۔

بہتری کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا

فیلڈنگ کوچ نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ ٹیم نے کافی ترقی کر لی ہے، لیکن بہتری کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا: ‘ہم ہر روز سیکھتے ہیں اور ہر روز بہتر بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے کھلاڑی ایتھلیٹک ہیں، جسمانی طور پر فٹ ہیں اور فیلڈنگ سے سچی محبت کرتے ہیں۔ اگر ہم ہر روز صرف ایک فیصد بھی بہتری لائیں تو یہ مستقبل کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔’

ایک بولڈ دعویٰ اور مستقبل کے اہداف

اپنی گفتگو کے آخر میں عاشق الرحمن نے ایک بڑا اور بولڈ دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش اب عالمی کرکٹ میں فیلڈنگ کے معیار کے اعتبار سے سرفہرست تین ٹیموں میں سے ایک ہے۔ یہ بیان نہ صرف ٹیم کے مورال کو بلند کرنے کے لیے ہے بلکہ یہ اس حقیقت کی عکاسی بھی کرتا ہے کہ بنگلہ دیشی ٹیم اب اپنی فیلڈنگ کے ذریعے میچ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے پرستاروں کے لیے یہ خوش آئند ہے کہ ان کی ٹیم اب بیٹنگ اور باؤلنگ کے ساتھ ساتھ فیلڈنگ میں بھی دنیا کو چیلنج کرنے کے لیے تیار ہے۔ آنے والے وقت میں اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو بنگلہ دیش کو عالمی کرکٹ کی ایک بڑی طاقت بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

Avatar photo
Riya Sen

Riya Sen focuses on young cricket talent, under-19 prospects, and breakout performers in domestic tournaments.