[CRK] بنگلہ دیش بمقابلہ نیوزی لینڈ، دوسرے ون ڈے کے ریکارڈز اور کامیابی کے لمحات | کرکٹ خبر

[CRK]

بنگلہ دیش نے نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ون ڈے میچ میں شاندار واپسی کرتے ہوئے 6 وکٹوں سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اس فتح کے نتیجے میں تین میچوں کی سیریز 1-1 پر برابر ہو گئی ہے، اور سیریز کا فیصلہ 23 اپریل کو ہونے والے تیسرے ون ڈے میچ پر ہوگا۔

کھلاڑیوں کی یادگار کارکردگی

یہ میچ کھلاڑیوں کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوا، جہاں ناہید رانا اور تانزید حسن تمیم کی شاندار کارکردگی نے ٹیم کی جیت کی بنیاد رکھی۔ اس کے علاوہ رشاءد حسین، شوریف الاسلام اور لٹن ڈاس نے بھی اپنے کیریئر کے اہم سنگ میل عبور کیے۔

100 میچز اور 100 وکٹوں کے سنگ میل

لٹن ڈاس کے لیے یہ میچ ان کے کیریئر کا 100 واں ون ڈے میچ تھا، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔ تاہم، بیٹنگ میں وہ اس موقع کو خاص نہ بناسکے اور صرف 11 بالز پر 7 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

دوسری جانب، رشاءد حسین نے بین الاقوامی کرکٹ میں 100 وکٹیں مکمل کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس میچ میں انہوں نے 21 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی۔ اب ان کے پاس 29 ون ڈے اور 71 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل وکٹیں ہیں۔

شوریف الاسلام کی 150 وکٹوں کی کامیابی

تیز رفتار بولر شوریف الاسلام بھی اس میچ میں تاریخ رقم کرنے والوں میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے 32 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی کرکٹ میں ان کی وکٹوں کی تعداد 150 تک پہنچ گئی۔

ناہید رانا کا فائیو وکٹ ہال

ناہید رانا نے اس میچ میں شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف 32 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔ یہ ان کا ون ڈے کرکٹ میں دوسرا فائیو وکٹ ہال تھا، اور حیران کن بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ کارنامہ صرف اپنے 10 ویں میچ میں سرانجام دیا۔

اس کے مقابلے میں، ٹاسکِن احمد کو اپنے دو فائیو وکٹ ہالز کے لیے 88 میچوں کا انتظار کرنا پڑا۔ ابو جید راہی نے 2 میچوں میں ایک فائیو وکٹ ہال حاصل کیا جبکہ مشراوے مرتضا 218 میچوں میں ایک ہال کے ساتھ محدود رہے۔ سب سے آگے مستفیض الرحمان ہیں، جن کے نام 119 میچوں میں 5 فائیو وکٹ ہالز درج ہیں۔

تانزید حسن کی دھواں دار بیٹنگ

تانزید حسن تمیم نے 58 بالز پر 76 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جس میں 10 چوکے شامل تھے۔ اس کارکردگی کے بعد ان کا ون ڈے اسٹرائیک ریٹ 103.7 ہو گیا ہے، جو بنگلہ دیشی بلے بازوں میں 500 سے زائد رنز بنانے والوں میں سب سے زیادہ ہے۔

سومیا سرکار ان کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں، جن کا اسٹرائیک ریٹ 94.82 ہے۔

آخری الفاظ

بنگلہ دیش کی کارکردگی نے نہ صرف سیریز کو زندہ کر دیا بلکہ کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی نے ٹیم کے مستقبل کے لیے امید کی کرن جگا دی ہے۔ تیسرے میچ کی پیش گوئی مشکل ہے، لیکن اگر یہی جذبہ قائم رہا تو شیروں کے لیے فتح دور نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *