باصت علی نے ناہید رانا کو پاکستان کے عظیم فاسٹ باؤلرز سے تشبیہ دے دی
باصت علی کا ناہید رانا پر تبصرہ: ایک ابھرتا ہوا ستارہ
ڈھاکہ ٹیسٹ میں بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف تاریخی فتح کے بعد کرکٹ کی دنیا میں ہر طرف بنگلہ دیشی ٹیم کی تعریف ہو رہی ہے۔ خاص طور پر بنگلہ دیش کے فاسٹ باؤلنگ اٹیک نے جس طرح کا جارحانہ کھیل پیش کیا، وہ سب کو متاثر کر گیا ہے۔ سابق پاکستانی کرکٹر باصت علی نے اپنے یوٹیوب چینل پر اس میچ کا تجزیہ کرتے ہوئے نوجوان فاسٹ باؤلر ناہید رانا کی کارکردگی کو سراہا اور انہیں اس فتح کا اصل ہیرو قرار دیا۔
اصل مین آف دی میچ کون تھا؟
اگرچہ باضابطہ طور پر نجم الحسین شانتو کو پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا، لیکن باصت علی کی نظر میں ناہید رانا ہی وہ کھلاڑی ہیں جنہوں نے میچ کا پانسہ پلٹا۔ باصت علی کا کہنا ہے کہ شانتو کی بلے بازی بلاشبہ شاندار تھی، لیکن ناہید رانا کی جارحیت اور وکٹ لینے کی صلاحیت نے میچ کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔
پاکستان کے لیجنڈز کی یادیں تازہ
باصت علی نے ناہید رانا کے باؤلنگ ایکشن اور جارحانہ انداز کا موازنہ پاکستان کے عظیم فاسٹ باؤلرز سے کرتے ہوئے کہا، ‘اس لڑکے نے مجھے وسیم اکرم، وقار یونس اور شعیب اختر جیسے لیجنڈز کی یاد دلا دی۔ اس کے اندر وہ آگ ہے جو ایک حقیقی اسٹرائیک باؤلر میں ہونی چاہیے۔’ انہوں نے مزید کہا کہ ناہید رانا کا کام وکٹیں لینا ہے اور وہ اس میں کامیاب رہے۔
ناقدین کو کرارا جواب
میچ کی پہلی اننگز میں وکٹ نہ ملنے پر بہت سے مداحوں نے ناہید رانا کی اہلیت پر سوال اٹھائے تھے۔ تاہم باصت علی نے ان تمام خدشات کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا، ‘میری داڑھی یونہی سفید نہیں ہوئی۔ میں جانتا ہوں کہ کس باؤلر میں کتنا دم ہے۔ ناہید ایک ایسا باؤلر ہے جو رنز تو دے گا، لیکن وہ آپ کو وکٹیں بھی نکال کر دے گا، جو کہ ایک ٹیسٹ میچ میں سب سے اہم ہے۔’
محمد رضوان کی وکٹ اور تکنیکی مہارت
باصت علی نے خاص طور پر اس ڈیلیوری کا ذکر کیا جس پر ناہید رانا نے محمد رضوان کو بولڈ کیا۔ ان کے مطابق، ناہید کی وہ ان سوئنگ ڈیلیوری عمران خان کی پرانی یاد تازہ کر گئی جب وہ عالمی معیار کے بلے بازوں کو اپنی سوئنگ سے چکما دیتے تھے۔ یہ صرف ایک وکٹ نہیں تھی، بلکہ یہ بنگلہ دیشی باؤلنگ کی تکنیکی برتری کا منہ بولتا ثبوت تھی۔
ٹاسکن احمد اور بنگلہ دیشی باؤلنگ کا عزم
صرف ناہید ہی نہیں، بلکہ ٹاسکن احمد کی کارکردگی پر بھی باصت علی نے روشنی ڈالی۔ امام الحق کی وکٹ کو انہوں نے ایک ‘ٹاپ کلاس’ ڈیلیوری قرار دیا اور کہا کہ بنگلہ دیشی باؤلرز نے جس عزم اور ہنگر کا مظاہرہ کیا، پاکستان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔
نتیجہ: ایک نئی سوچ کا آغاز
باصت علی کے تجزیے کے مطابق، بنگلہ دیش نے پہلی اننگز میں اسپنرز اور دوسری اننگز میں فاسٹ باؤلرز کے ذریعے پاکستان کو مکمل طور پر دباؤ میں رکھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ناہید رانا جیسے کھلاڑی بنگلہ دیشی کرکٹ کا مستقبل ہیں اور ان کی جارحیت ہی وہ ہتھیار ہے جس سے بڑی ٹیموں کو شکست دی جا سکتی ہے۔ ناہید رانا کی یہ کارکردگی نہ صرف ان کے اپنے کریئر کے لیے بلکہ بنگلہ دیشی فاسٹ باؤلنگ کے نئے دور کا آغاز بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
