[CRK]
کیمرون گرین کی فارم کی واپسی اور ڈیتھ اوورز کا چیلنج
آئی پی ایل 2026 کے حالیہ میچ میں کولکتہ نائٹ رائڈرز (KKR) کو گجرات ٹائٹنز (GT) کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس ہار کے باوجود ایک ایسی کہانی سامنے آئی جس نے شائقین اور تجزیہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ ہم بات کر رہے ہیں کیمرون گرین کی، جنہیں اپنی مہنگی قیمت اور ابتدائی ناکامیوں کی وجہ سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔
کیمرون گرین کو کے کے آر نے 25.20 کروڑ روپے کی بھاری رقم میں خریدا تھا (اگرچہ آئی پی ایل کے قوانین کے تحت انہیں 18 کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی)، لیکن ان کی کارکردگی اس قیمت کے مطابق نہیں تھی۔ پانچ اننگز میں صرف 56 رنز بنانے کے بعد، ان پر دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔ تاہم، احمد آباد میں کھیلے گئے میچ میں گرین نے ثابت کیا کہ ان کے اندر میچ کا رخ بدلنے کی صلاحیت موجود ہے۔
اجنکیا راہانے کی حمایت اور گرین کی ہمت
میچ کے بعد کے کے آر کے کپتان اجنکیا راہانے نے کیمرون گرین کے دفاع میں بات کی اور ان کی کوششوں کو سراہا۔ راہانے نے واضح کیا کہ جب ٹیم مشکل صورتحال میں تھی اور صرف 32 رنز پر تین وکٹیں گر چکی تھیں، تو گرین نے جس طرح جوابی حملہ (Counter-attack) کیا، وہ قابل تعریف تھا۔
راہانے نے پریس کانفرنس میں کہا: “جس طرح کی اننگز انہوں نے کھیلی ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ جب ٹیم کی چیزیں درست نہیں چل رہی ہوں اور آپ انفرادی طور پر دباؤ میں ہوں، تو ایسی صورتحال میں ہمت دکھانا آسان نہیں ہوتا۔ ان کی ہمت شاندار تھی اور انہی کی کوششوں کی بدولت ہم 180 رنز کے مجموعے تک پہنچ سکے”۔
اننگز کا تجزیہ: شروعات اور درمیانی مرحلہ
گرین نے نمبر 4 پر بیٹنگ کرتے ہوئے 55 گیندوں پر 79 رنز بنائے۔ اگرچہ یہ اسکور دیکھنے میں متاثر کن لگتا ہے، لیکن اس کی تفصیلات کچھ اور کہانی بیان کرتی ہیں۔ ان کی اننگز کے آغاز میں سستی دیکھی گئی؛ آٹھویں اوور تک انہوں نے 14 گیندوں پر صرف 8 رنز بنائے تھے، جس کی وجہ سے کے کے آر کا اسکور 59 رنز پر 3 وکٹوں کے ساتھ رکا ہوا تھا۔
ان کی اسکورنگ ریٹ میں بہتری 12ویں اوور میں آئی جب انہوں نے راشد خان کو ایک چھکا اور ایک چوکا لگا کر اپنی رفتار بڑھائی۔ 12ویں سے 14ویں اوور کے درمیان کے کے آر نے تیزی سے 52 رنز بنائے، جس سے ایسا لگا کہ شاید گرین ٹیم کو ایک بہت بڑے مجموعے کی طرف لے جائیں گے۔ لیکن کہانی میں موڑ تب آیا جب میچ کے آخری لمحات یعنی ‘ڈیتھ اوورز’ شروع ہوئے۔
امباتی رایدو کی سخت تنقید اور تکنیکی خامیاں
سابق کرکٹر امباتی رایدو نے ESPNcricinfo کے شو ‘TimeOut’ میں گرین کی بیٹنگ اور خاص طور پر ان کے ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ رابطے کی کمی پر سخت تنقید کی۔ رایدو کا ماننا ہے کہ گرین نے گیند کی رفتار کا صحیح استعمال نہیں کیا۔
- شاٹ سلیکشن: رایدو کے مطابق، گرین گیند کو زبردستی ڈرائیو کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جبکہ انہیں بیک فٹ پر کھیل کر پوائنٹ اور کورز کی جانب گیند بھیجنی چاہیے تھی۔
- باہمی رابطہ (Communication): رایدو نے اس بات پر زور دیا کہ ٹی 20 کرکٹ میں انفرادی بیٹنگ نہیں بلکہ پارٹنرشپ ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گرین اور ان کے ساتھیوں کے درمیان بات چیت کی واضح کمی تھی، جس کی وجہ سے وہ مشکل مراحل سے آسانی سے نہیں نکل سکے۔
ڈیتھ اوورز میں ناکامی: ایک لمحہ فکریہ
میچ کے آخری چار اوورز کی تفصیلات انتہائی مایوس کن تھیں۔ کے کے آر نے آخری چار اوورز میں صرف 23 رنز بنائے۔ 16ویں اور 17ویں اوور میں گرین کو ایک بھی گیند کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔ 18ویں اوور میں انہوں نے پہلی گیند پر سنگل لیا لیکن دوبارہ اسٹرائیک حاصل نہیں کر سکے۔
آخری اوور میں، جو راشد خان نے ڈالی، گرین نے ابتدائی تین گیندوں پر صرف ایک رن بنایا۔ اگرچہ لیگ بائی اور بائیز کی مدد سے کچھ رنز آئے، لیکن گرین آخری گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ رایدو نے مشورہ دیا کہ گرین کو مکول چودھری کی اننگز سے سیکھنا چاہیے، جہاں ٹیل اینڈرز کے ساتھ کھیلتے ہوئے اسٹرائیک کو برقرار رکھنے کا بہترین طریقہ اپنایا جاتا ہے۔
حتمی رائے
کیمرون گرین کی 79 رنز کی اننگز یقیناً ان کے اعتماد کی بحالی کے لیے اہم ہے، لیکن یہ اننگز میچ جیتنے کے لیے کافی نہیں تھی۔ ایک مہنگے کھلاڑی سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ نہ صرف رنز بنائے بلکہ میچ کے اہم موڑ پر، خاص طور پر آخری اوورز میں، ٹیم کو تیز رفتار اسکور فراہم کرے۔ اگر گرین اپنی تکنیک اور اسٹرائیک روٹیشن میں بہتری لاتے ہیں، تو وہ کے کے آر کے لیے ایک خطرناک ہتھیار ثابت ہو سکتے ہیں، ورنہ ان کی قیمت ان کے لیے ایک مستقل بوجھ بنی رہے گی۔