[CRK]
آخری اوور کا ڈرامہ اور ڈیوڈ ملر کی واپسی
کرکٹ کی دنیا میں بعض اوقات ایک کھلاڑی کو اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے صرف ایک موقع کی ضرورت ہوتی ہے۔ آئی پی ایل 2026 میں ڈیوڈ ملر کے لیے ہفتہ کا دن بالکل ایسا ہی تھا۔ چند دن قبل گجرات ٹائٹنز کے خلاف ایک میچ میں ملر نے ٹائی (Tie) کرنے کے بجائے جیت کی کوشش کی تھی جس کا نتیجہ دہلی کیپٹلز (DC) کی شکست کی صورت میں نکلا تھا۔ لیکن اس بار کہانی مختلف تھی۔
میچ کے آخری اوور میں دہلی کیپٹلز کو جیت کے لیے 15 رنز درکار تھے اور گیند رومیریو شیپرڈ کے ہاتھ میں تھی۔ پہلے دو گیندوں پر صرف دو رنز بننے کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی اور 4 گیندوں پر 13 رنز کی ضرورت تھی۔ تب ملر نے اپنی سابقہ غلطی کا بدلہ لیتے ہوئے مسلسل 6، 6 اور 4 رنز بنا کر چناسوامی اسٹیڈیم میں موجود RCB کے شائقین کو خاموش کر دیا اور اپنی ٹیم کو ایک شاندار فتح دلائی۔
RCB کی تیز شروعات اور ویرات کوہلی کا انداز
ٹاس ہارنے کے بعد رائل چیلنجرز بنگلور (RCB) پہلے بیٹنگ کے لیے میدان میں اتری۔ چناسوامی کی پچ معمول سے سست تھی، لیکن ویرات کوہلی اور فل سالٹ نے جارحانہ آغاز کیا۔ کوہلی نے اپنی مخصوص Stil میں مکیش کمار کی گیندوں پر کور کے اوپر سے دو شاندار چوکے لگائے۔ تاہم، پاور پلے کے آخری اوور میں لونگی نگیڈی نے اپنی لائن تبدیل کی اور کوہلی کو 13 گیندوں پر 19 رنز بنا کر کیچ آؤٹ کر دیا۔
دوسری جانب فل سالٹ نے سست پچ کے باوجود اپنی رفتار برقرار رکھی۔ انہوں نے عقیب نبی اور کلدیپ یادو کی گیندوں پر چھکوں کی بارش کرتے ہوئے 30 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ سالٹ نے مجموعی طور پر 38 گیندوں پر 63 رنز بنائے، لیکن آخر کار وہ کلدیپ یادو کا شکار بن گئے، جس نے انہیں لانگ آف پر کیچ کروایا۔
اسپنرز کا جادو اور RCB کی سست رفتار
کلدیپ یادو اور کپتان اکشر پٹیل کی جوڑی نے RCB کی بیٹنگ لائن کو مفلوج کر دیا۔ اکشر پٹیل نے دیو دت پڈیکل کو آؤٹ کر کے رن ریٹ پر بریک لگایا۔ اگرچہ ٹم ڈیوڈ نے 15 گیندوں پر 26 رنز کی تیز اننگز کھیلی اور ایک بڑا چھکا لگا کر اسٹیڈیم میں جوش پیدا کیا، لیکن اکشر نے ہی انہیں آؤٹ کر کے RCB کی امیدوں کو ٹال دیا۔
میچ کے آخری مراحل میں RCB شدید دباؤ کا شکار نظر آئی۔ ایک وقت ایسا آیا جب ٹیم مسلسل 25 گیندوں تک کوئی باؤنڈری نہ لگا سکی۔ جتیش شرما نے 18ویں اوور میں ایک اتفاقی چوکا حاصل کیا، لیکن مجموعی طور پر RCB اپنے ہدف کو مزید بہتر نہیں کر سکی۔ اننگز کے اختتام پر RCB کے سابق کپتان فاف ڈو پلیس نے اعتراف کیا کہ ان کی ٹیم کم از کم 10 رنز پیچھے رہ گئی ہے۔ RCB نے 8 وکٹوں کے نقصان پر 175 رنز بنائے، جس میں سالٹ کے 63 رنز نمایاں تھے۔
بھووینیشور کمار کا تباہ کن اسپیل
جوابی بیٹنگ میں دہلی کیپٹلز کے لیے شروعات کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھی۔ بھووینیشور کمار نے ٹیسٹ میچ کی طرز پر نئی گیند کو دونوں طرف سوئنگ کروایا اور DC کے ٹاپ آرڈر کی تہہہ لگا دی۔ انہوں نے پہلے اوور میں نسنکا کو ایل بی ڈبلیو کیا اور اگلے ہی اوور میں کرون نائر اور سمیر رزوی کو سستے میں پویلین بھیج دیا۔ دہلی کیپٹلز صرف 18 رنز پر 3 وکٹیں گنوا چکی تھی، اور ایسا لگ رہا تھا کہ میچ یکطرفہ ہو جائے گا۔
راہول اور اسٹبس کی شراکت اور جیت کا سفر
اس مشکل صورتحال میں کے ایل راہول اور ٹرسٹن اسٹبس نے ذمہ داری سنبھالی۔ راہول نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے جوش ہیزلوڈ کی گیندوں پر شاندار شاٹس کھیلے اور 34 گیندوں پر 57 رنز بنائے۔ انہوں نے ہیزلوڈ کے خلاف اپنی برتری برقرار رکھی، لیکن کرنال پانڈیا کی ایک تیز گیند پر وہ کیچ آؤٹ ہو گئے۔
ٹرسٹن اسٹبس نے ایک انتہائی میچ وننگ اننگز کھیلی۔ انہوں نے پہلے احتیاط سے بیٹنگ کی اور پھر رسخ سلیم کی گیندوں پر چوکے لگا کر اسکور بور کو آگے بڑھایا۔ اسٹبس نے 60 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی جس نے DC کو جیت کے قریب پہنچایا۔
حتمی فیصلہ: ملر کا وار
میچ کا فیصلہ کن موڑ تب آیا جب آخری اوور میں 14 رنز درکار تھے۔ رومیریو شیپرڈ دباؤ میں آ گئے اور مسلسل غلط گیندیں پھینکیں۔ ڈیوڈ ملر نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے دو چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے میچ ختم کر دیا۔ دہلی کیپٹلز نے 4 وکٹوں کے نقصان پر 179 رنز بنا کر یہ مقابلہ 6 وکٹوں سے جیت لیا۔
- RCB: 175/8 (فل سالٹ 63, بھووینیشور 3-26)
- DC: 179/4 (ٹرسٹن اسٹبس 60*, کے ایل راہول 57, اکشر 2-18)
- نتیجہ: دہلی کیپٹلز 6 وکٹوں سے فاتح