دہلی کیپیٹلز کا آئی پی ایل 2026 میں ناقص مظاہرہ: کوچنگ اسٹاف اور اکشر پٹیل کی کپتانی خطرے میں
آئی پی ایل 2026: دہلی کیپیٹلز کے لیے ایک ڈراؤنا خواب اور مینجمنٹ کا سخت فیصلہ
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کا سیزن دہلی کیپیٹلز کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم ثابت نہیں ہوا۔ ٹیم کی مسلسل ناقص کارکردگی اور میدان میں غلط فیصلوں نے فرنچائز مالکان کو سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، دہلی کیپیٹلز کی انتظامیہ نے اگلے سیزن کے لیے پورے کوچنگ اسٹاف کو فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ آل راؤنڈر اکشر پٹیل کی کپتانی بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔
پوائنٹس ٹیبل کی صورتحال اور پلے آف کی دوڑ سے اخراج
دہلی کیپیٹلز اس وقت پوائنٹس ٹیبل پر ساتویں پوزیشن پر موجود ہے اور اس کے پلے آف میں پہنچنے کے امکانات اب صرف ریاضیاتی حد تک رہ گئے ہیں۔ ممبئی انڈینز اور لکھنؤ سپر جائنٹس جیسی ٹیمیں پہلے ہی اس دوڑ سے باقاعدہ طور پر باہر ہو چکی ہیں، اور دہلی کی حالت بھی ان سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ رواں سیزن میں اب تک 12 میچز کھیلنے کے بعد ٹیم صرف 5 فتوحات حاصل کر سکی ہے۔ اگرچہ ٹیم اپنے بقیہ میچز جیت کر گزشتہ سیزن کے پوائنٹس برابر کر سکتی ہے، لیکن یہ کارکردگی انہیں ٹاپ فور میں جگہ دلانے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔
اکشر پٹیل کی کپتانی پر اٹھتے سوالات
نیوز ایجنسی پی ٹی آئی (PTI) کی رپورٹ کے مطابق، اکشر پٹیل کو اگلے سیزن کے لیے بطور کپتان برقرار رکھنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگرچہ اکشر پٹیل ایک بہترین کھلاڑی ثابت ہوئے ہیں، لیکن بطور کپتان ان کی فیصلہ سازی کی صلاحیتوں پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ میدان میں وہ اکثر ہیمانگ بدانی اور وینوگوپال راؤ کے مشوروں پر انحصار کرتے نظر آئے، جو ان کی اپنی قائدانہ صلاحیتوں پر شک پیدا کرتا ہے۔
اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو 2025 کا سیزن اکشر پٹیل کے لیے بلے بازی کے لحاظ سے بہترین رہا تھا جہاں انہوں نے 12 میچوں میں 263 رنز بنائے تھے۔ تاہم، 2026 کے سیزن میں ان کی فارم بھی گراف سے نیچے گری ہے۔ اس سال انہوں نے بلے سے صرف 100 رنز بنائے ہیں، جبکہ گیند بازی میں 10 وکٹیں حاصل کیں۔ ایک بڑا اعتراض یہ بھی رہا کہ اکشر نے خود کو بہت کم گیند بازی دی، 12 میچوں میں صرف 36 اوورز کرائے، جبکہ ان کا اکانومی ریٹ 8.08 جو کہ ٹی 20 کے لحاظ سے مناسب تھا۔
مینجمنٹ میں تبدیلی: JSW اور GMR کا باری باری کنٹرول
دہلی کیپیٹلز کی ملکیت دو بڑے گروپوں، جے ایس ڈبلیو (JSW) اور جی ایم آر (GMR) کے درمیان منقسم ہے۔ ان دونوں کے درمیان معاہدہ ہے کہ وہ باری باری کرکٹ آپریشنز کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔ 2027 کے سیزن سے یہ ذمہ داری جے ایس ڈبلیو اور پرتھ جندل کے پاس منتقل ہو جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ مینجمنٹ میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ نئے دور کا آغاز نئی سوچ اور نئی حکمت عملی کے ساتھ کیا جا سکے۔
کھلاڑیوں کا غیر مناسب استعمال اور سلیکشن کی غلطیاں
دہلی کیپیٹلز کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ اسٹار کھلاڑیوں کا غیر مناسب استعمال بھی رہا۔ مینجمنٹ نے سمیر رضوی اور نتیش رانا جیسے کھلاڑیوں پر مسلسل بھروسہ کیا جنہوں نے پورے سیزن میں مایوس کیا۔ دوسری جانب، ابھیشیک پوریل، جو گزشتہ دو سیزن سے ٹیم کے سب سے امید افزا نوجوان کھلاڑی رہے ہیں، انہیں اس سیزن میں بمشکل چند میچز کھلائے گئے۔
سب سے زیادہ حیران کن فیصلہ پرتھوی شا کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا تھا، جنہیں رواں سیزن میں ایک بھی میچ کھیلنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ اس کے علاوہ مادھو تیواری اور آشوتوش شرما جیسے کھلاڑیوں کو سیزن کے آخری مراحل میں شامل کیا گیا، جب پانی سر سے گزر چکا تھا۔ وپراج نگم، جنہوں نے 2025 میں شاندار کارکردگی دکھائی تھی، انہیں بھی اس سال بینچ پر بٹھائے رکھا گیا۔
مستقبل کی حکمت عملی: کیا دہلی کیپیٹلز واپسی کر پائے گی؟
پی ٹی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پورے کوچنگ اسٹاف کو برقرار رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ دہلی کیپیٹلز اب ایک نئی شروعات کی تلاش میں ہے جہاں ایک نیا ہیڈ کوچ اور نیا کپتان ٹیم کی باگ ڈور سنبھال سکے۔ اگرچہ اکشر پٹیل کو بطور کھلاڑی ٹیم میں برقرار رکھا جا سکتا ہے، لیکن قیادت کے لیے کسی تجربہ کار یا جارح مزاج کھلاڑی کی تلاش کی جائے گی۔
دہلی کیپیٹلز کے مداحوں کے لیے یہ سیزن مایوس کن رہا ہے، لیکن انتظامیہ کی جانب سے ان بڑی تبدیلیوں کا مقصد 2027 کے سیزن میں ایک مضبوط واپسی کو یقینی بنانا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پرتھ جندل کی قیادت میں جے ایس ڈبلیو گروپ کن نئے چہروں کو دہلی کے کیمپ میں شامل کرتا ہے۔
