[CRK]
نوجوان سٹار بریویس کو چوٹ کی وجہ سے او ڈی آئی سیریز سے باہر
جنوبی افریقہ کے امیدوں کے مرکز رہنے والے نوجوان بیٹسمین ڈیوالڈ بریویس کو ایک چھوٹی سی لیکن اہم چوٹ کی وجہ سے پاکستان کے خلاف تین میچوں کی ون ڈے سیریز سے باہر ہونا پڑا ہے۔ 22 سالہ بریویس کو کندھے کی پٹھوں میں خفیف کھنچاؤ کا سامنا ہے، جو کہ لاہور میں تینوی ٹوئنٹی آئی کے تیسرے میچ کے دوران لگی تھی۔
چوٹ کا سامنا اور ابھی تک کا کیریئر
بریویس نے پاکستان کے حالیہ دورے کے تمام میچز میں حصہ لیا تھا، لیکن اب تک ان کا کارکردگی میڈیم رہی ہے۔ چھ ناچوں میں صرف 110 رنز بنانے والے نوجوان بلے باز کا او ڈی آئی کیریئر میں بہترین اسکور صرف 49 تھا۔ ٹیسٹ اور ٹی 20 دونوں فارمیٹس میں ان کا بہترین اسکور 54 تھا، جو انہوں نے قائدِ اعظم اسٹیڈیم، لاہور میں دوسری اننگز میں بنایا تھا۔
اگرچہ اعداد و شمار شاندار نہیں ہیں، لیکن ان کی صلاحیتوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کپتان تمبا بیووما نے حال ہی میں اپنے ایک کالم میں لکھا تھا: “بریویس ایک ایسی وکٹ کو بھی اچھا بناسکتا ہے جو خراب ہو، کیونکہ یہ لڑکے کی صلاحیت ہے۔”
ٹیم کی حالت پر اثر
بریویس کا نہ ہونا جنوبی افریقہ کے لیے ایک اور دھچکا ہے۔ ٹیم نے اس سیریز کے لیے متعدد بڑے کھلاڑیوں جیسے ایڈن مارکرم اور کگیسو ربادا کو آرام دینے کا فیصلہ کیا تھا، اور اب فاسٹ بولرز کوینا مافاکا اور انرچ نورٹجے کی چوٹیں بھی ٹیم کو کمزور کر رہی ہیں۔
نئی قیادت اور تجربہ کار کھلاڑی پر انحصار
نئے کپتان میتھیو بریٹزکے، جو اس سال ہی اپنا ڈیبیو کر چکے ہیں، کو اب 185 کیپس رکھنے والے کوئنٹن ڈی کاک پر زیادہ انحصار کرنا پڑے گا۔ ڈی کاک حال ہی میں ریٹائرمنٹ واپس لینے کے بعد 50-اوور کرکٹ میں دوبارہ واپسی کر رہے ہیں، اور ان سے توقع کی جائے گی کہ وہ نوجوان ٹیم کو سنبھالیں۔
سیریز کا پس منظر
اس سے پہلے جنوبی افریقہ نے پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز 1-1 پر ڈرا کی تھی، جبکہ میزبان ٹیم نے تین میچوں کی ٹی 20 سیریز 2-1 سے جیت لی۔ او ڈی آئی سیریز فیصل آباد میں ہوگی، جو 2008 کے بعد پہلی بار مردوں کی بین الاقوامی کرکٹ کی میزبانی کر رہا ہے۔
آگے کا منصوبہ
اس سیریز کے بعد جنوبی افریقہ کی ٹیم بھارت کے دورے پر جائے گی، جہاں دو ٹیسٹ، تین ون ڈے اور پانچ ٹی 20 میچوں کی سیریز کھیلی جائے گی۔ بریویس بھی اس ٹور میں شامل رہیں گے، جبکہ پاکستان میں ہی رہ کر وہ اپنی صحت یابی کا عمل جاری رکھیں گے۔
نئی ٹیم کے لیے یہ چیلنجز کا وقت ہے، لیکن ساتھ ہی یہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے موقع بھی ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں اور قومی ٹیم میں جگہ مضبوط کریں۔