Bangladesh Cricket

[CRK] سابق امپائر محمد اصغر 73 برس کی عمر میں انتقال کر گئے – بنگلہ دیشی کرکٹ کا ایک باب ختم

Vihaan Clarke · · 1 min read

[CRK]

محمد اصغر کا انتقال: کرکٹ کی دنیا ایک معتبر نام سے محروم

بنگلہ دیش کرکٹ کے لیے آج کا دن انتہائی دکھ بھرا ہے، کیونکہ ملک کے معروف اور سابق امپائر محمد اصغر 73 برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔ وہ نہ صرف بنگلہ دیشی ڈومیسٹک کرکٹ کا ایک جانا پہچانا چہرہ تھے بلکہ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کے انتقال کی خبر نے کرکٹ کے حلقوں میں غم کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ وہ ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے بنگلہ دیشی کرکٹ کی ترقی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا اظہار تعزیت

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) نے محمد اصغر کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا گیا ہے کہ محمد اصغر گزشتہ کئی دہائیوں سے ملک میں کرکٹ کے شعبے میں ایک قابل احترام شخصیت کے طور پر ابھرے تھے۔ ان کی وفات سے بنگلہ دیشی کرکٹ ایک ایسے سرپرست سے محروم ہو گئی ہے جس نے کھیل کی روح کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ بی سی بی نے ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مغفرت کے لیے دعا بھی کی۔

امپائرنگ کا طویل اور شاندار سفر

محمد اصغر کے کیریئر کا آغاز بنگلہ دیش کی آزادی کے فوراً بعد ہوا تھا۔ جب ملک میں کرکٹ کا ڈھانچہ ابھی تشکیل پا رہا تھا، اصغر ان چند لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے امپائرنگ کو ایک پیشہ ورانہ سمت عطا کی۔ انہوں نے لاتعداد فرسٹ کلاس اور ڈومیسٹک میچوں میں امپائرنگ کے فرائض انجام دیے۔ ان کی موجودگی میدان میں نظم و ضبط اور انصاف کی علامت سمجھی جاتی تھی۔

ان کی مہارت صرف مقامی میچوں تک محدود نہیں تھی بلکہ جب بھی بین الاقوامی ٹیمیں بنگلہ دیش کا دورہ کرتیں، محمد اصغر اکثر ان میچوں میں امپائرنگ کرتے نظر آتے تھے۔ انہوں نے سات ایک روزہ بین الاقوامی میچوں (ODIs) میں بطور ٹی وی امپائر بھی خدمات انجام دیں، جو ان کی پیشہ ورانہ قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وہ کرکٹرز کی کئی نسلوں کے ساتھ منسلک رہے اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ہمیشہ ایک مشفق استاد ثابت ہوئے۔

کھیل کے ‘خاموش محافظ’ کو خراج عقیدت

بی سی بی نے اپنے پیغام میں محمد اصغر کو ‘کھیل کا خاموش محافظ’ قرار دیا۔ یہ الفاظ ان کی شخصیت کی مکمل عکاسی کرتے ہیں۔ کرکٹ کے میدان میں امپائر کا کردار اکثر پس پردہ رہتا ہے، لیکن محمد اصغر نے وکٹوں کے پیچھے کھڑے ہو کر جس ایمانداری، غیر جانبداری اور تحمل مزاجی کے ساتھ فیصلے کیے، اس نے انہیں سب کی نظروں میں معتبر بنا دیا۔

بورڈ کا مزید کہنا تھا کہ ‘اگرچہ وہ کبھی شہ سرخیوں یا روشنیوں میں نہیں رہے، لیکن انہوں نے کھیل کی خدمت بڑی لگن اور خاموشی سے کی۔ ان کی کمی نہ صرف میدان میں بلکہ پوری کرکٹ برادری میں محسوس کی جائے گی۔’ ان کا پرسکون لیکن مضبوط اندازِ فکر کھلاڑیوں کے لیے دباؤ کی صورتحال میں بھی اطمینان کا باعث بنتا تھا۔

ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کرکٹ سے وابستگی

محمد اصغر کی کرکٹ سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ عمر کے آخری حصے تک اس کھیل سے جڑے رہے۔ امپائرنگ سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انہوں نے کھیل کو نہیں چھوڑا اور 2021 تک بطور میچ ریفری اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ ان کا تجربہ نئے آنے والے امپائرز کے لیے مشعل راہ تھا اور وہ ہمیشہ جونیئر آفیشلز کی رہنمائی کے لیے تیار رہتے تھے۔

73 سالہ محمد اصغر کا انتقال ایک ایسے عہد کا خاتمہ ہے جس میں کرکٹ کو صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک اخلاقی فریضہ سمجھ کر کھیلا اور کھلایا جاتا تھا۔ ان کی زندگی کرکٹ کے نظم و ضبط اور اصول پسندی کی ایک بہترین مثال ہے۔ آج بنگلہ دیشی کرکٹ کا ہر مداح، کھلاڑی اور عہدیدار ان کی خدمات کو یاد کر رہا ہے۔

خلاصہ اور ورثہ

محمد اصغر کی وفات بنگلہ دیشی کرکٹ کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ ان جیسے لوگ کسی بھی کھیل کا وہ مضبوط ستون ہوتے ہیں جن پر پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ انہوں نے اس وقت امپائرنگ شروع کی جب وسائل کی کمی تھی، لیکن انہوں نے اپنے عزم سے ثابت کیا کہ اگر انسان محنتی اور ایماندار ہو تو وہ ہر مقام حاصل کر سکتا ہے۔ ان کا نام بنگلہ دیشی کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا، اور ان کے سکھائے ہوئے اصول آنے والے وقتوں میں امپائرنگ کے معیار کو بلند کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

Avatar photo
Vihaan Clarke

Vihaan Clarke is a cricket blogger writing about trending topics, viral cricket moments, and fan discussions. His content is highly engaging.