سوربھ گنگولی کا انکشاف: ایم ایس دھونی کو ٹیم انڈیا میں کیسے جگہ ملی؟
بھارتی کرکٹ کا وہ فیصلہ جس نے تاریخ بدل دی: سوربھ گنگولی اور ایم ایس دھونی
بھارتی کرکٹ کی تاریخ میں کئی ایسے لمحات آئے جنہوں نے کھیل کے رخ کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا۔ ان میں سے ایک اہم ترین موڑ سابق کپتان سوربھ گنگولی کی جانب سے مہندر سنگھ دھونی کو ٹیم میں شامل کرنے کا جرات مندانہ فیصلہ تھا۔ گنگولی کو ہمیشہ سے ایک ایسے لیڈر کے طور پر جانا جاتا ہے جنہوں نے نئے ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں بڑے سٹیج پر موقع فراہم کیا۔ حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ کے دوران گنگولی نے انکشاف کیا کہ انہوں نے کس طرح دھونی کو بھارتی ٹیم کا حصہ بنایا اور ان کے پیچھے کیا منطق کارفرما تھی۔
صبا کریم کا کردار اور ابتدائی سفارش
سوربھ گنگولی نے بتایا کہ ایم ایس دھونی کا نام پہلی بار سابق بھارتی سلیکٹر صبا کریم نے ان کے سامنے پیش کیا تھا۔ دھونی کا تعلق جھارکھنڈ سے تھا، جو اس وقت کرکٹ کے لحاظ سے کوئی بڑا مرکز نہیں سمجھا جاتا تھا۔ صبا کریم نے گنگولی کو بتایا کہ ایک لڑکا ہے جو بہت لمبے چھکے مارتا ہے۔ یہی وہ جملہ تھا جس نے گنگولی کی توجہ حاصل کر لی۔ گنگولی کا ماننا تھا کہ اگر کسی کھلاڑی میں غیر معمولی صلاحیت ہے، تو اسے گھریلو کرکٹ میں زیادہ دیر تک رکھنے کے بجائے فوری طور پر اوپر لانا چاہیے۔
فاسٹ ٹریک ماڈل: ٹیلنٹ کو ضائع ہونے سے بچانا
گنگولی نے اپنی حکمت عملی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ‘فاسٹ ٹریک’ ماڈل پر یقین رکھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ کسی باصلاحیت کھلاڑی کو نچلی سطح پر بہت زیادہ عرصہ کھلائیں گے، تو وہ وہیں ‘پک’ کر ختم ہو جائے گا۔ گنگولی کے الفاظ میں، “اگر آپ کسی کو پیچھے سے آہستہ آہستہ پکاتے رہیں گے، تو وہ ختم ہو جائے گا۔” ان کا فلسفہ سادہ تھا: اگر آپ اپنے سے بہتر سطح کے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلیں گے، تو آپ کا کھیل خود بخود بہتر ہو جائے گا۔ لیکن اگر آپ اپنے سے نچلے درجے کے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلتے رہیں گے، تو آپ کی کارکردگی بھی گر جائے گی۔
جمشید پور میں خفیہ مانیٹرنگ
دلچسپ بات یہ ہے کہ دھونی کو ٹیم میں شامل کرنے سے پہلے گنگولی نے خود ان کا کھیل دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ گنگولی نے بتایا کہ وہ خود جمشید پور گئے تاکہ دھونی کو بیٹنگ کرتے ہوئے دیکھ سکیں۔ دھونی کو اس بات کا علم بھی نہیں تھا کہ بھارتی ٹیم کا کپتان انہیں کھیلتا ہوا دیکھ رہا ہے۔ گنگولی نے دھونی کو انڈیا اے کی ٹیم میں شامل کیا، جہاں انہوں نے وانکھیڈے سٹیڈیم میں کھیلے گئے ایک میچ میں شاندار سنچری بنائی۔ اس میچ میں دھونی نے اتنے بلند و بالا چھکے مارے کہ گیند سٹیڈیم کی چھت تک جا پہنچی۔ اس کارکردگی نے گنگولی کے تمام شکوک و شبہات دور کر دیے۔
پاکستان کے خلاف نمبر 3 پر ترقی
دھونی کو ٹیم میں شامل کرنا ایک بات تھی، لیکن ان کی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرنا دوسری بات۔ گنگولی نے ایک اور بڑا فیصلہ تب کیا جب انہوں نے پاکستان جیسی سخت حریف ٹیم کے خلاف دھونی کو بیٹنگ آرڈر میں نمبر 3 پر بھیج دیا۔ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس نے دھونی کے کیریئر کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ دھونی نے صرف 123 گیندوں پر 148 رنز کی اننگز کھیلی، جس میں 15 چوکے اور 4 بلند و بالا چھکے شامل تھے۔ اس اننگز نے دنیا کو بتا دیا کہ بھارتی کرکٹ کو ایک نیا سپر سٹار مل گیا ہے۔
گنگولی کی وراثت اور دھونی کا عروج
سوربھ گنگولی کو بھارتی کرکٹ کا سب سے بڑا ‘ٹیلنٹ ہنٹر’ مانا جاتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف دھونی بلکہ وریندر سہواگ، یووراج سنگھ، ہربھجن سنگھ اور ظہیر خان جیسے کھلاڑیوں کو بھی سپورٹ کیا جنہوں نے آگے چل کر بھارتی کرکٹ کی تقدیر بدل دی۔ دھونی نے گنگولی کے اس اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچنے دی اور بین الاقوامی کرکٹ میں تقریباً 15,000 رنز بنائے۔ ان کی قیادت میں بھارت نے تین آئی سی سی ٹائٹل جیت کر اپنی دھاک بٹھائی۔
نتیجہ: ایک لیڈر کی دور اندیشی
سوربھ گنگولی کا دھونی کو سپورٹ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ایک اچھا کپتان وہی ہوتا ہے جو مستقبل کے ستاروں کو وقت سے پہلے پہچان لے۔ گنگولی نے دھونی کے ٹیلنٹ پر جوا کھیلا اور اس جوئے نے بھارتی کرکٹ کو وہ سب کچھ دیا جس کا خواب ہر مداح دیکھتا ہے۔ آج دھونی کا شمار دنیا کے عظیم ترین وکٹ کیپر بلے بازوں میں ہوتا ہے، لیکن اس عظیم سفر کی بنیاد گنگولی کے اس فیصلے نے رکھی تھی کہ ‘اچھے کھلاڑی کو کبھی پیچھے نہیں چھوڑنا چاہیے’۔
