[CRK] حیدرآباد کنگز مین کی مسلسل تیسری فتح: راولپنڈیز کو کراچی کی مشکل پچ پر شکست

[CRK]

کراچی کے سست ٹریک پر حیدرآباد کنگز مین کا غلبہ: راولپنڈیز کی شکست جاری

پی ایس ایل 2026 کے ایک سنسنی خیز اور کم اسکورنگ مقابلے میں حیدرآباد کنگز مین نے راولپنڈیز کو پانچ وکٹوں سے شکست دے کر اپنی جیت کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس فتح کے ساتھ کنگز مین نے مسلسل تیسرا میچ جیت لیا ہے، جس نے انہیں ٹورنامنٹ کے پلے آف کے لیے ایک مضبوط امیدوار بنا دیا ہے۔ کراچی کی پچ جو بظاہر نئی تھی لیکن سست روی اور اسپنرز کے لیے مدد فراہم کر رہی تھی، دونوں ٹیموں کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوئی۔

راولپنڈیز کی بیٹنگ میں ناکامی اور بولنگ کا جادو

ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے والی راولپنڈیز کی ٹیم حیدرآباد کے منظم بولنگ حملے کے سامنے بے بس نظر آئی اور پوری ٹیم 9 وکٹوں کے نقصان پر صرف 121 رنز بنا سکی۔ حیدرآباد کنگز مین کے بولرز نے کراچی کی پچ کے مزاج کو بہتر طور پر سمجھا اور اپنی لائن اور لینتھ کے ذریعے بیٹنگ لائن اپ کو مسلسل دباؤ میں رکھا۔

میچ کا آغاز راولپنڈیز کے لیے انتہائی مشکل رہا۔ پاور پلے کے دوران حیدرآباد نے بہترین حکمت عملی اپنائی، جس کے نتیجے میں راولپنڈیز نے سیزن کا سب سے کم ترین پاور پلے اسکور (صرف 24 رنز) بنایا۔ محمد علی اور حنین شاہ نے اپنی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بال بال کھلاڑیوں کو پھنسایا۔ حنین شاہ نے 4 اوورز میں صرف 18 رنز دے کر 3 اہم وکٹیں حاصل کیں، جبکہ محمد علی نے 21 رنز کے عوض 3 وکٹیں لے کر مخالف ٹیم کی کمر توڑ دی۔

میچ میں ایک تاریخی لمحہ اس وقت آیا جب گلین میکسویل نے تیسرے اوور میں اپنے ہم وطن عثمان خوجہ کو بولڈ کیا۔ اس وکٹ کے ساتھ میکسویل کرکٹ کی تاریخ کے دوسرے ایسے کھلاڑی بن گئے جنہوں نے اس فارمیٹ میں 10,000 رنز بنانے کے ساتھ ساتھ 200 وکٹیں بھی حاصل کیں، یہ اعزاز ان سے پہلے صرف ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ کیرون پولارڈ کے پاس تھا۔

حیدرآباد کنگز مین کی بیٹنگ جدوجہد اور واپسی

122 رنز کے چھوٹے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے بھی حیدرآباد کنگز مین کے لیے راستہ آسان نہ تھا۔ راولپنڈیز کے فاسٹ بولر آصف آفریدی نے پاور پلے میں تباہ کن اسپیل کیا، جس میں انہوں نے صرف 10 رنز دیے اور معاذ صداقت اور صائم ایوب جیسی اہم وکٹیں حاصل کیں۔ محمد عامر نے بھی عثمان خان کو آؤٹ کر کے حیدرآباد کو مشکل میں ڈال دیا۔

ایک مرحلے پر کنگز مین کی ٹیم 69 رنز پر 5 وکٹیں گنوا چکی تھی اور ایسا لگ رہا تھا کہ میچ ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ تاہم، مارنس لیبوشین نے 21 گیندوں پر 32 رنز بنا کر ایک طرف سے اننگز کو سنبھالے رکھا، لیکن سعد مسعود کی ایک بہترین گیند نے انہیں ایل بی ڈبلیو (LBW) کر کے آؤٹ کر دیا۔ اس کے فوراً بعد گلین میکسویل ‘گولڈن ڈک’ کا شکار ہوئے، جس سے دباؤ مزید بڑھ گیا۔

عرفان خان اور کسال پریرا کی فیصلہ کن شراکت

جب ٹیم کو جیت کے لیے 64 گیندوں میں 53 رنز درکار تھے، تب عرفان خان اور کسال پریرا کے درمیان 54 رنز کی غیر شکست خوردہ شراکت قائم ہوئی۔ دونوں بلے بازوں نے پچ کی سستی کو سمجھتے ہوئے صبر اور تحمل سے کام لیا۔ انہوں نے شروع میں سنگلز پر توجہ دی اور گیپس کو تلاش کیا تاکہ پچ کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں۔

  • عرفان خان: 29 گیندوں پر ناقابل شکست 34 رنز (میچ کے اہم ترین رنز)
  • کسال پریرا: 24 گیندوں پر ناقابل شکست 32 رنز

ایک بار جب دونوں کھلاڑی سیٹ ہو گئے، تو انہوں نے چوکے چھکوں کی مدد سے کھیل کو تیز کیا اور 21 گیندیں باقی رہتے ہوئے حیدرآباد کنگز مین کو پانچ وکٹوں سے فتح دلا دی۔

پوائنٹس ٹیبل کی صورتحال اور مستقبل

اس جیت کے بعد حیدرآباد کنگز مین نے پوائنٹس ٹیبل میں دو درجے کی چھلانگ لگائی ہے اور اب وہ چوتھی پوزیشن پر موجود ہیں۔ دوسری طرف، راولپنڈیز کی حالت انتہائی ابتر ہے؛ وہ 8 ٹیموں کے ٹیبل میں سب سے نیچے چلے گئے ہیں، جہاں انہوں نے کھیلے گئے تمام 6 میچ ہارے ہیں اور ان کا نیٹ رن ریٹ بھی منفی 1.821 تک گر چکا ہے۔

کنگز مین کے لیے یہ جیت اس لیے بھی خوش آئند ہے کہ ان کے نوجوان کھلاڑیوں، خاص طور پر عرفان خان اور حنین شاہ نے دباؤ والے حالات میں بہترین کارکردگی دکھائی۔ حنین شاہ، جو گزشتہ میچ میں مہنگے ثابت ہوئے تھے، اس میچ میں پلیئر آف دی میچ بننے کے قریب رہے اور اپنی بولنگ سے میچ کا رخ بدل دیا۔ اب تمام نظریں کنگز مین کی اگلی کارکردگی پر ہیں تاکہ وہ پلے آف کی اپنی جگہ مزید محفوظ کر سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *