Latest Cricket News

آئی سی سی نے کینیڈا کرکٹ کی فنڈنگ منجمد کر دی: گورننس کے سنگین مسائل

Sneha Roy · · 1 min read

کینیڈا کرکٹ کے لیے ایک بڑا جھٹکا

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) نے کینیڈا کرکٹ کے خلاف ایک سخت ایکشن لیتے ہوئے بورڈ کی فنڈنگ کو منجمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام بورڈ کے اندر موجود گورننس کے سنگین مسائل اور مالی نگرانی کے فقدان کے بعد سامنے آیا ہے۔ کینیڈا جیسے ایسوسی ایٹ رکن ممالک کے لیے آئی سی سی کی فنڈنگ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، لہذا یہ معطلی کینیڈین کرکٹ کے مستقبل کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔

آئی سی سی کا موقف اور چھ ماہ کی معطلی

آئی سی سی کی جانب سے کینیڈا کرکٹ کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اگلے چھ ماہ تک انہیں کوئی فنڈز فراہم نہیں کیے جائیں گے۔ اگرچہ آئی سی سی تمام رکن ممالک کو مالی معاونت فراہم کرتا ہے، لیکن کینیڈا جیسے ممالک کے لیے یہ فنڈز ان کے روزمرہ کے اخراجات اور کرکٹ کے ڈھانچے کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ تاہم، حکام کا کہنا ہے کہ اس فنڈنگ کی معطلی سے ملک میں جاری کرکٹ کی سرگرمیوں اور ہائی پرفارمنس پروگراموں پر فی الحال کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

بدعنوانی کے الزامات اور اینٹی کرپشن تحقیقات

فنڈنگ منجمد ہونے سے پہلے ہی کینیڈا کرکٹ کے کچھ کھلاڑی اور بورڈ عہدیداران آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ (ACU) کی نگرانی میں تھے۔ ان تحقیقات کی اہم وجوہات میں سے ایک ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں مشکوک کارکردگی ہے۔ اس کے علاوہ، سابق کوچ خرم چوہان نے بھی بورڈ کے سینئر ارکان پر کھلاڑیوں کے انتخاب میں مداخلت کے سنگین الزامات لگائے تھے۔ انہی طرز کے الزامات سابق کوچ پودو داسانائیکے بھی عائد کر چکے ہیں۔

میڈیا رپورٹ اور گورننس کا بحران

کینیڈا کرکٹ کے انتظامی بحران کا انکشاف سی بی سی (CBC) کے تحقیقاتی پروگرام ‘دی ففتھ اسٹیٹ’ کی ایک دستاویزی فلم کے ذریعے ہوا۔ اس رپورٹ میں آئی سی سی کی پالیسیوں کی خلاف ورزی، مالی بے ضابطگیوں اور گورننس کے ناقص نظام کی نشاندہی کی گئی تھی۔ رپورٹ میں سابق سی ای او سلمان خان کی تقرری پر بھی سوالات اٹھائے گئے، کیونکہ ان کے مجرمانہ پس منظر کو بورڈ نے آئی سی سی سے خفیہ رکھا تھا۔

بورڈ کی جانب سے اصلاحات کا دعویٰ

حال ہی میں منعقد ہونے والی سالانہ جنرل میٹنگ میں کینیڈا کرکٹ بورڈ نے اصلاحات کا ایک نیا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کیا اور اروندر کھوسہ کو صدر منتخب کیا گیا۔ بورڈ کے میڈیا مینیجر جمی شرما نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ موجودہ بورڈ کو وراثت میں یہ مسائل ملے ہیں، اور وہ تمام مالی اور انتظامی نقائص کو دور کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

مستقبل کی راہ کیا ہوگی؟

آئی سی سی کے اینٹی کرپشن اور انٹیگریٹی یونٹ کے انٹرم جنرل مینیجر اینڈریو ایف گریو نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کینیڈا کرکٹ بورڈ اس چھ ماہ کی مدت کے دوران اپنی گورننس کو کتنا بہتر بنا پاتا ہے تاکہ وہ دوبارہ آئی سی سی کا اعتماد بحال کر سکے۔ کرکٹ کے مداحوں کی نظریں اب اس پر جمی ہیں کہ آیا یہ اصلاحات محض کاغذی ہوں گی یا بورڈ واقعی ایک شفاف نظام قائم کرنے میں کامیاب ہوگا۔