IPL 2026: بی سی سی آئی کا کرکٹرز کی گرل فرینڈز اور ٹیم مالکان پر سخت پابندی کا فیصلہ
آئی پی ایل 2026: بی سی سی آئی کا نظم و ضبط پر سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کا ٹورنامنٹ اپنے فیصلہ کن مراحل کی جانب گامزن ہے، لیکن ٹورنامنٹ کے 50ویں میچ سے قبل کرکٹ کے میدان سے باہر ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نے لیگ کے دوران بڑھتی ہوئی بے ضابطگیوں پر سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بی سی سی آئی کے سیکرٹری دیواجیت سائکیا کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے مطابق، اب کھلاڑیوں کے نجی معاملات اور ٹیم مالکان کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔
گرل فرینڈ کلچر اور ٹیم پروٹوکولز
گزشتہ کچھ عرصے سے یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ آئی پی ایل کے دوران کھلاڑیوں کی گرل فرینڈز نہ صرف ٹیم کے ساتھ سفر کر رہی ہیں بلکہ وہ ٹیم ہوٹلوں میں بھی قیام پذیر ہوتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہاردک پانڈیا، ارشدیپ سنگھ، یشسوی جیسوال اور ایشان کشن جیسے بڑے ناموں کے ساتھ ان کی گرل فرینڈز کو ٹیم کے ہمراہ دیکھا گیا ہے۔ بی سی سی آئی کا ماننا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیوں سے ٹیم کی توجہ اور سکیورٹی پروٹوکولز متاثر ہو رہے ہیں۔
ٹیم مالکان کی مداخلت پر بی سی سی آئی برہم
صرف کھلاڑی ہی نہیں بلکہ فرنچائز مالکان کا رویہ بھی بورڈ کی نظروں میں ہے۔ خاص طور پر لکھنؤ سپر جائنٹس کے مالک سنجیو گوئنکا کا نام اس حوالے سے سر فہرست ہے، جنہیں اکثر اپنی ٹیم کے میچز کے دوران انتہائی متحرک دیکھا جاتا ہے اور وہ ان علاقوں میں بھی داخل ہو جاتے ہیں جہاں کھلاڑیوں اور آفیشلز کے علاوہ کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔
بی سی سی آئی کا سرکاری مؤقف
سیکرٹری دیواجیت سائکیا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ: ”ہم نے کچھ فرنچائزز اور کھلاڑیوں کے اقدامات میں کئی بے قاعدگیاں نوٹ کی ہیں۔ بی سی سی آئی اور آئی پی ایل ایک ایڈوائزری جاری کر رہے ہیں جس کے تحت ٹیم بسوں میں غیر مجاز افراد کا سفر کرنا یا کھلاڑیوں کے کمروں تک رسائی حاصل کرنا اب ممنوع ہوگا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ: ”ہم نے دیکھا ہے کہ کچھ ٹیم مالکان اور آفیشلز ایسے مقامات پر کھلاڑیوں کے ساتھ گھل مل رہے ہیں جہاں انہیں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ تمام تر اقدامات ہمارے اینٹی کرپشن پروٹوکولز (انسداد بدعنوانی کے اصولوں) کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔”
مستقبل کے لائحہ عمل
بی سی سی آئی کا یہ سخت فیصلہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ آئی پی ایل کی ساکھ برقرار رہے۔ بورڈ کی جانب سے متوقع نئی ہدایات کے بعد تمام فرنچائزز کو پابند کیا جائے گا کہ وہ اپنے کھلاڑیوں اور ٹیم کے ہمراہ سفر کرنے والے افراد کی فہرست کو قواعد کے مطابق رکھیں۔ یہ اقدامات نہ صرف سکیورٹی کے نقطہ نظر سے اہم ہیں بلکہ یہ ٹیم کے اندرونی ماحول کو بھی پیشہ ورانہ رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
نتیجہ
کرکٹ شائقین کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کھیل کی خوبصورتی اس کے نظم و ضبط میں چھپی ہے۔ بی سی سی آئی کی یہ سختی اس بات کا ثبوت ہے کہ لیگ کو مزید شفاف اور پیشہ ورانہ بنایا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا تمام ٹیمیں ان نئی ہدایات پر عمل درآمد کرتی ہیں یا بورڈ کی جانب سے مزید سخت سزائیں دیکھنے کو ملیں گی۔ کھیل کے میدان میں اب توجہ صرف کرکٹ پر ہوگی، نہ کہ غیر ضروری نجی سرگرمیوں پر۔
