Latest Cricket News

IPL 2026 پلے آف: ایندھن کے بحران کے باعث میچز بند دروازوں کے پیچھے؟

Aditya Kulkarni · · 1 min read

آئی پی ایل 2026 کے پلے آف پر ایندھن کے بحران کا سایہ

انڈین پریمیئر لیگ (IPL) 2026 کا سیزن اپنے عروج پر ہے، تاہم پلے آف مرحلے کے شروع ہونے سے قبل ہی ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔ ویسٹ ایشیا میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بھارت میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں، یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ ٹورنامنٹ کے آخری مراحل کو محدود وسائل کے ساتھ کھیلا جائے۔

چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کا مطالبہ

چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (CTI) نے مرکزی وزارتِ کھیل سے مطالبہ کیا ہے کہ پلے آف میچز کے لیے مقامات کی تعداد کو کم کیا جائے اور ان میچز کو بند دروازوں کے پیچھے (بغیر تماشائیوں کے) منعقد کیا جائے۔ تنظیم کے چیئرمین برجیش گوئل کا کہنا ہے کہ یہ اقدام قومی مفاد میں ہے تاکہ ایندھن کی کھپت کو کم کیا جا سکے اور ملک پر پڑنے والے مالی بوجھ کو ہلکا کیا جا سکے۔

ایندھن کی کھپت: ایک تشویشناک پہلو

رپورٹ کے مطابق، آئی پی ایل میں استعمال ہونے والے چارٹرڈ طیارے جیسے کہ بوئنگ 737 اور ایئربس A320 فی گھنٹہ 2,400 سے 3,000 لیٹر تک ہوائی ایندھن (ATF) استعمال کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق، ایک آئی پی ایل فرنچائز پورے سیزن کے دوران تقریباً 50,000 سے 70,000 لیٹر ایندھن صرف سفر کے لیے استعمال کرتی ہے۔ علاوہ ازیں، اسٹیڈیم میں آنے والے 50,000 سے زائد شائقین کی نقل و حمل بھی ایندھن کے ضیاع کا باعث بنتی ہے۔

ماضی کی مثالیں اور بی سی سی آئی کا مؤقف

برجیش گوئل نے یاد دلایا کہ کووڈ-19 کی وبا کے دوران بھی بی سی سی آئی نے بائیو سیکیور ببلز کے اندر میچز منعقد کیے تھے، لہذا موجودہ حالات میں بھی ایسے سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب، آئی پی ایل چیئرمین ارون دھومل نے واضح کیا ہے کہ بی سی سی آئی کو ابھی تک حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باقاعدہ ہدایت نہیں ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومتِ ہند کے جوابدہ ہیں اور اگر کوئی سرکاری ہدایات موصول ہوئیں تو ان پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا۔

پلے آف کی موجودہ صورتحال

آئی پی ایل 2026 کا پلے آف مرحلہ 26 مئی بروز منگل سے شروع ہونے والا ہے۔ رائل چیلنجرز بنگلورو (RCB) پہلے ہی پلے آف کے لیے کوالیفائی کر چکی ہے، جبکہ گجرات ٹائٹنز، سن رائزرز حیدرآباد، راجستھان رائلز اور چنئی سپر کنگز بقیہ تین مقامات کے لیے نبردآزما ہیں۔ بی سی سی آئی صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور تاحال شیڈول میں کسی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

کیا توقع کی جائے؟

کرکٹ شائقین کے لیے یہ صورتحال کافی تشویشناک ہو سکتی ہے، کیونکہ اسٹیڈیم میں بیٹھ کر میچ دیکھنے کا اپنا ہی لطف ہے۔ تاہم، اگر حکومتِ ہند قومی مفاد میں ایندھن بچانے کا فیصلہ کرتی ہے، تو بی سی سی آئی کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنی پڑے گی۔ آنے والے چند دن فیصلہ کن ہوں گے کہ آیا یہ پلے آف شائقین کے جوش و خروش کے ساتھ ہوں گے یا بند دروازوں کے پیچھے خاموشی سے کھیلے جائیں گے۔