آئی پی ایل کی بڑی توسیع: 2028 سے 94 میچز، بی سی سی آئی کا مکمل ہوم اینڈ اوے فارمیٹ پلان
آئی پی ایل کی ممکنہ توسیع: 2028 سے 94 میچز اور نیا ہوم اینڈ اوے فارمیٹ
آئی پی ایل (انڈین پریمیئر لیگ) پہلے ہی دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ مقبول فرنچائز ٹی 20 کرکٹ لیگ کے طور پر اپنی شناخت بنا چکی ہے۔ اس کی بے پناہ کامیابی اور عالمی سطح پر اثر و رسوخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ تاہم، بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) اب اس لیگ کو مستقبل میں مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم نظر آتا ہے۔ حالیہ رپورٹس اور بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ 2028 کے سیزن سے آئی پی ایل میں ایک بہت بڑی تبدیلی آنے والی ہے، جس سے شائقین اور ٹیموں دونوں کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔
2028 سے مکمل ہوم اینڈ اوے فارمیٹ کی واپسی
آئی پی ایل کے چیئرمین ارون دھومل نے انکشاف کیا ہے کہ بی سی سی آئی 2028 کے سیزن سے ہر ٹیم کے لیے مکمل ہوم اینڈ اوے فارمیٹ واپس لانے پر غور کر رہی ہے۔ اگر یہ منصوبہ منظور ہو جاتا ہے تو، لیگ مرحلے کے دوران ہر فرنچائز نو میچ اپنے گھر پر اور نو میچ مخالف ٹیم کے ہوم گراؤنڈ پر کھیلے گی۔ اس تبدیلی سے ایک سیزن میں میچوں کی کل تعداد 74 سے بڑھ کر 94 ہو جائے گی، جو شائقین کے لیے کرکٹ کی ایک بڑی دعوت ہو گی۔ یہ اقدام آئی پی ایل کے بنیادی ڈھانچے میں ایک اہم تبدیلی لائے گا اور اسے ایک نئی سطح پر لے جائے گا۔
ماضی میں، جب آئی پی ایل میں آٹھ ٹیمیں ہوا کرتی تھیں، تب مکمل ہوم اینڈ اوے فارمیٹ پر عمل کیا جاتا تھا۔ ہر ٹیم سات ہوم میچز اور سات اوے میچز کھیلتی تھی۔ تاہم، 2022 میں لکھنؤ سپر جائنٹس اور گجرات ٹائٹنز کے شامل ہونے کے بعد صورتحال بدل گئی۔ دس ٹیموں کے ساتھ، آئی پی ایل نے ایک مختلف ڈھانچہ اپنایا جہاں ٹیموں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ ہر ٹیم اب بھی 14 لیگ میچز کھیلتی ہے، لیکن وہ ہر مخالف ٹیم کے ساتھ مساوی تعداد میں میچ نہیں کھیلتی۔ یہ فارمیٹ اکثر مداحوں کی جانب سے سوالات کا نشانہ بنتا رہا ہے کیونکہ کچھ ٹیموں کو دوسروں کے مقابلے میں آسان شیڈول ملنے کا امکان رہتا ہے۔ مکمل ہوم اینڈ اوے نظام اس مسئلے کو حل کر سکتا ہے اور ٹورنامنٹ کو مزید متوازن اور منصفانہ بنا سکتا ہے۔
ٹیموں کی تعداد میں اضافہ نہیں، میچوں پر توجہ
ارون دھومل نے واضح کیا ہے کہ بی سی سی آئی فی الحال مزید ٹیموں کو شامل کرنے کے بارے میں نہیں سوچ رہی ہے۔ اس کے بجائے، بورڈ کی توجہ میچوں کی تعداد بڑھانے پر مرکوز ہے۔ دھومل نے انڈیا ٹوڈے کے حوالے سے بتایا، “موجودہ ٹیموں کے ساتھ ہی ہم زیادہ میچوں کی تعداد تک جا سکتے ہیں۔ لہذا، فی الحال ٹیموں کی تعداد بڑھانے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ کیونکہ اگر ہمیں ہوم اور اوے میچوں کی ایک جیسی تعداد رکھنی ہے، تو ہم 74 سے 94 تک جا سکتے ہیں۔ یہ ایک مثالی صورتحال ہوگی۔” یہ حکمت عملی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ لیگ کی کوالٹی برقرار رہے جبکہ اس کے دائرہ کار کو بڑھایا جائے۔
94 میچوں کا آئی پی ایل سیزن شائقین کو مزید اعلیٰ پروفائل میچز دیکھنے کا موقع فراہم کرے گا اور ہر فرنچائز کو اپنے ہوم گراؤنڈ پر اضافی کھیل کھیلنے کا موقع ملے گا۔ ٹیموں کو بھی ٹکٹ کی فروخت، سپانسرشپس اور اپنے ہوم گراؤنڈز پر مضبوط فین انگیجمنٹ کے ذریعے مالی طور پر فائدہ ہوگا۔ اس سے فرنچائزز کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوگا اور وہ کھلاڑیوں کی ترقی اور انفراسٹرکچر پر مزید سرمایہ کاری کر سکیں گی۔
بین الاقوامی کرکٹ کیلنڈر کا چیلنج
تاہم، اس بڑی توسیع کے راستے میں سب سے بڑا چیلنج بین الاقوامی کرکٹ کیلنڈر ہے۔ فی الحال، دو طرفہ سیریز کا شیڈول 2027 تک طے شدہ ہے، جس کی وجہ سے بی سی سی آئی کے پاس ہر سال آئی پی ایل کے انعقاد کے لیے ایک محدود ونڈو دستیاب ہوتی ہے۔ ٹورنامنٹ کو وسعت دینے کے لیے مستقبل کے کیلنڈر میں ایک طویل سلاٹ کی ضرورت ہوگی۔
دھومل نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا، “چونکہ دو طرفہ سیریز 2027 تک طے شدہ ہیں، ہمیں میچوں کی تعداد 74 سے 94 تک بڑھانے کے لیے ایک بڑی ونڈو کی ضرورت ہوگی۔ لہذا، ہم 2027 کے دو طرفہ سائیکل کے بعد ایک بڑی ونڈو تلاش کر رہے ہیں۔ اگر ہمیں وہ مل جاتی ہے، تو ہم یقینی طور پر 94 میچز کرانے کی کوشش کریں گے۔” یہ ظاہر کرتا ہے کہ بی سی سی آئی بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور دیگر کرکٹ بورڈز کے ساتھ فعال طور پر بات چیت کر رہا ہے تاکہ آئی پی ایل کے لیے ایک مناسب اور توسیع شدہ ونڈو حاصل کی جا سکے۔ اس کے لیے عالمی کرکٹ شیڈول میں کچھ بڑی ایڈجسٹمنٹس کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جس پر بات چیت جاری ہے۔ یہ توسیع نہ صرف شائقین کو زیادہ کرکٹ فراہم کرے گی بلکہ آئی پی ایل کو مزید عالمی سطح پر نمایاں کرے گی۔ زیادہ میچوں کا مطلب زیادہ ٹیلی ویژن اور ڈیجیٹل ویور شپ، زیادہ سپانسرشپ ڈیلز، اور عالمی کرکٹ اکانومی میں آئی پی ایل کا بڑا حصہ ہوگا۔ اس سے کھلاڑیوں کو بھی زیادہ مواقع ملیں گے اور وہ عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں گے۔ یہ بی سی سی آئی کی جانب سے آئی پی ایل کو کرکٹ کے ایک بے مثال ایونٹ کے طور پر برقرار رکھنے اور اسے مزید عروج پر لے جانے کی ایک واضح حکمت عملی ہے۔ اس اقدام سے ہندوستانی کرکٹ کے ساتھ ساتھ عالمی کرکٹ کو بھی طویل مدت میں فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
