[CRK]
برسٹل میں کرکٹ کا سنسنی خیز مقابلہ: گلوسٹر شائر بمقابلہ لنکاشائر
کاؤنٹی چیمپئن شپ ڈویژن ٹو کے اہم میچ میں سیٹ یونیک اسٹیڈیم، برسٹل کے میدان پر کھیل کا تیسرا دن کافی ڈرامائی رہا۔ گلوسٹر شائر کی ٹیم نے جیمز بریسے کی شاندار بلے بازی کی بدولت میچ میں واپسی کی راہ ہموار کی، جبکہ لنکاشائر کی ٹیم کو اپنی بیٹنگ کے ساتھ ساتھ فٹنس کے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
جیمز بریسے اور مائلز ہیمنڈ کی شاندار شراکت داری
گلوسٹر شائر نے اپنی دوسری اننگز کا آغاز 58 رنز 3 کھلاڑی آؤٹ سے کیا تھا۔ جیمز بریسے اور مائلز ہیمنڈ نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے چوتھی وکٹ کے لیے 148 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔ ہیمنڈ نے 82 رنز بنائے جبکہ بریسے نے اپنی فارم کا عمدہ مظاہرہ کرتے ہوئے 114 رنز کی اننگز کھیلی۔ بریسے کی اننگز میں 16 چوکے شامل تھے، جس نے ٹیم کو ایک مستحکم پوزیشن میں پہنچا دیا۔
لنکاشائر کے لیے انجری کا بحران
میچ کے دوران لنکاشائر کو ایک بڑا دھچکا اس وقت لگا جب لیوک ویلز باؤنڈری روکنے کی کوشش میں کندھے کی انجری کا شکار ہو گئے۔ انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کے کندھے کے ڈس لوکیٹ ہونے کی تصدیق ہوئی۔ لنکاشائر کے ہیڈ کوچ اسٹیون کرافٹ نے بتایا کہ ویلز کو مزید اسکینز کی ضرورت ہوگی۔ ان کی جگہ ہیری سنگھ کو بطور متبادل کھلاڑی شامل کیا گیا، جنہوں نے بعد میں بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں میں حصہ لیا۔
باؤلنگ کا جادو: اینڈرسن اور بالڈرسن
ایک طرف جہاں بیٹنگ نے گلوسٹر شائر کو سنبھالا دیا، وہیں لنکاشائر کی جانب سے جیمز اینڈرسن اور جارج بالڈرسن نے اپنی باؤلنگ سے میچ کو آخری لمحات میں دلچسپ بنا دیا۔ دونوں باؤلرز نے چار چار وکٹیں حاصل کیں اور گلوسٹر شائر کی آخری چھ وکٹیں صرف 22 رنز کے اضافے پر گر گئیں۔ گلوسٹر شائر کی پوری ٹیم 305 رنز پر آؤٹ ہوئی اور انہیں 201 رنز کی برتری حاصل ہوئی۔
میچ کا اختتام اور جیت کی امید
دن کے اختتام پر، لنکاشائر کو جیت کے لیے 127 رنز درکار ہیں، جبکہ ان کے 3 کھلاڑی آؤٹ ہو چکے ہیں۔ کیٹن جیننگز 25 رنز کے ساتھ کریز پر موجود ہیں۔ گلوسٹر شائر کے باؤلرز ول ولیمز، میٹ ٹیلر اور گیب بیل نے لنکاشائر کے ابتدائی بلے بازوں کو پویلین بھیج کر میچ میں سنسنی پیدا کر دی ہے۔
نتیجہ
چوتھے اور آخری دن کا کھیل انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا۔ لنکاشائر کو اپنی اننگز کو سنبھالنے کے لیے تجربہ کار بلے بازوں کی ضرورت ہوگی، جبکہ گلوسٹر شائر کی کوشش ہوگی کہ وہ جلد از جلد بقیہ وکٹیں حاصل کر کے میچ اپنے نام کرے۔ یہ مقابلہ کاؤنٹی کرکٹ کے شائقین کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے، جہاں انجریز اور اتار چڑھاؤ کے باوجود کھلاڑیوں نے ہمت نہیں ہاری۔
- جیمز بریسے کا اسکور: 114 رنز
- مائلز ہیمنڈ کا اسکور: 82 رنز
- لنکاشائر کا ہدف: 127 رنز
- نمایاں باؤلر: جیمز اینڈرسن اور جارج بالڈرسن (4 وکٹیں)
کرکٹ کی دنیا میں ایسے مقابلے ہی کھیل کی خوبصورتی کو بڑھاتے ہیں۔ کیا لنکاشائر کی ٹیم اس انجری بحران سے نکل کر ہدف تک پہنچ پائے گی یا گلوسٹر شائر کے باؤلرز میچ کا پانسہ پلٹ دیں گے؟ یہ دیکھنے کے لیے شائقین کی نظریں آخری دن کے کھیل پر جمی ہیں۔