IPL 2026: کرس سری کانتھ کا راجستھان رائلز کی ناقص حکمت عملی پر شدید تنقید
راجستھان رائلز کی شکست: کیا مینجمنٹ جان بوجھ کر ہار رہی ہے؟
آئی پی ایل 2026 کے سیزن میں راجستھان رائلز (RR) کی کارکردگی میں زبردست گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے۔ دہلی میں دہلی کیپیٹلز کے خلاف شکست کے بعد سابق بھارتی کپتان کرس سری کانتھ نے راجستھان رائلز کی ٹیم مینجمنٹ پر کڑی تنقید کی ہے۔ سری کانتھ کا ماننا ہے کہ ٹیم کے فیصلوں میں ایسی حماقتیں نظر آئیں جو کسی بھی طرح ایک سنجیدہ ٹیم کا حصہ نہیں ہو سکتیں۔
رویندر جڈیجہ کو باہر بٹھانا ایک بڑی غلطی
کرس سری کانتھ نے سب سے زیادہ ناراضگی تجربہ کار آل راؤنڈر رویندر جڈیجہ کو پلینگ الیون سے ڈراپ کرنے پر ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اہم میچ میں، جہاں کوالیفکیشن کے مواقع داؤ پر لگے ہوں، جڈیجہ جیسے گن کھلاڑی کو باہر بٹھانا ناقابل فہم ہے۔ اس کی جگہ ناتجربہ کار روی سنگھ کو شامل کرنا سری کانتھ کے نزدیک ایک ‘احمقانہ’ فیصلہ تھا۔
میچ کا خلاصہ اور شکست کی وجوہات
اس میچ میں راجستھان رائلز نے ایک مضبوط آغاز کیا تھا، خاص طور پر ویبھو سوریہ ونشی کی 21 گیندوں پر 46 رنز کی جارحانہ اننگز نے ٹیم کو ایک اچھا پلیٹ فارم فراہم کیا۔ دھرو جریل اور ریان پراگ نے بھی نصف سنچریاں اسکور کیں۔ تاہم، مچل سٹارک کی تباہ کن بولنگ نے راجستھان کی کمر توڑ دی۔ سٹارک نے 15 ویں اوور میں ریان پراگ، ڈونووان فریرا اور روی سنگھ کو پویلین بھیج کر میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ راجستھان کی ٹیم 161/2 سے 193/8 پر سمٹ گئی، جو ان کی شکست کی بڑی وجہ بنی۔
امپیکٹ پلیئر کا غلط استعمال
سری کانتھ نے امپیکٹ پلیئر کے طور پر داسن شناکا کو لانے کے فیصلے پر بھی سوال اٹھائے۔ شناکا نہ تو بلے سے کچھ خاص کر سکے اور نہ ہی گیند سے، سوائے ایک لکی وکٹ کے۔ سری کانتھ کا کہنا تھا کہ ٹیم پہلے ہی جڈیجہ کی عدم موجودگی میں ایک بولر کم تھی، اور شناکا کو لا کر مینجمنٹ نے مزید غلطی کی۔
ٹیم کے اندرونی حالات پر سوال
سری کانتھ نے ریان پراگ کی کپتانی پر بھی سخت ردعمل دیا۔ خاص طور پر 18 ویں اوور میں ڈونووان فریرا کو گیند دینے کا فیصلہ اور پھر اس کے بعد کیپ پھینکنے والا رویہ ٹیم میں موجود دراڑوں کو ظاہر کرتا ہے۔ سری کانتھ کے مطابق: “جب کپتان اپنے ہی کھلاڑی پر غصہ نکالتا ہے، تو یہ واضح ہے کہ ٹیم کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔”
مستقبل کی راہ
راجستھان رائلز نے سیزن کے پہلے چار میچ جیتے تھے لیکن اس کے بعد پچھلے 8 میں سے 6 میچ ہار کر اپنی پوزیشن مشکل میں ڈال دی ہے۔ اب انہیں پلے آف میں پہنچنے کے لیے اپنے باقی دونوں میچز (لکھنؤ سپر جائنٹس اور ممبئی انڈینز کے خلاف) لازمی جیتنا ہوں گے، اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر ٹیموں کے نتائج پر بھی انحصار کرنا ہوگا۔ کیا راجستھان رائلز اپنے داخلی اختلافات کو ختم کر کے واپسی کر سکے گی؟ یہ ایک بڑا سوال ہے جو شائقین کے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے۔
