Bangladesh Cricket

کرنل پانڈیا کا ویرات کوہلی پر بھروسہ: ویرات کوہلی ‘ویرات کوہلی والے کام’ دوبارہ کریں گے

Riya Sen · · 1 min read

ویرات کوہلی کی فارم پر اٹھنے والے سوالات اور حقیقت

آئی پی ایل جیسے بڑے ٹورنامنٹ میں جب ویرات کوہلی جیسے بلے باز لگاتار دو میچوں میں بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہو جائیں، تو سوشل میڈیا اور ماہرینِ کرکٹ کی جانب سے سوالات اٹھنا فطری بات ہے۔ تاہم، اس صورتحال میں کرنل پانڈیا کا ردعمل انتہائی پُراعتماد اور حوصلہ افزا رہا ہے۔

کرنل پانڈیاکرنل پانڈیا۔ (فوٹو کریڈٹ: X.com)

کرنل پانڈیا نے واضح طور پر کہا کہ وہ ویرات کوہلی کی ان دو ناکامیوں سے گھبرانے کے بجائے زیادہ پُرجوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ، ‘ویرات کوہلی، ویرات کوہلی والے کام کریں گے،’ جس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی بہترین کارکردگی کے ساتھ دوبارہ میدان میں اترنے کے لیے تیار ہیں۔

ایک عظیم کھلاڑی کا اعتماد

بہت کم کھلاڑی ایسے ہوتے ہیں جن پر کرکٹ کی دنیا اتنا بھروسہ کرتی ہے کہ ایک یا دو خراب میچوں سے ان کی ساکھ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ ویرات کوہلی نے اپنے طویل کیریئر میں بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ مشکل حالات سے نمٹنے کے ماہر ہیں۔ مخالف ٹیمیں بھی اس بات کو اچھی طرح جانتی ہیں کہ کوہلی کا بلے سے خاموش رہنا طوفان سے پہلے کی خاموشی ہو سکتی ہے۔

کرنل پانڈیا مزید کہتے ہیں، ‘ویرات ایک چیمپئن کھلاڑی ہے۔ جب وہ دو میچوں میں ناکام ہوتا ہے، تو میں زیادہ پرجوش ہو جاتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ وہ ایک مضبوط واپسی کرے گا۔ وہ ایک مختلف قسم کا بلے باز ہے اور اس کے اندر کرکٹ کی بھوک کبھی ختم نہیں ہوتی۔’

آئی پی ایل 2026 میں کوہلی کی کارکردگی

اگر موجودہ سیزن پر نظر ڈالی جائے تو کوہلی بالکل بھی فارم سے باہر نظر نہیں آتے۔ آئی پی ایل 2026 میں، انہوں نے پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے رنز بنائے ہیں اور رائل چیلنجرز بنگلورو (RCB) کے بیٹنگ آرڈر میں وہ مسلسل ایک اہم ستون بنے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں لکھنؤ سپر جائنٹس اور ممبئی انڈینز کے خلاف ملنے والی دو ناکامیاں محض ایک عارضی پیچیدہ صورتحال ہیں، نہ کہ ان کی صلاحیتوں میں کوئی کمی۔

توجہ اور شدت

ویرات کوہلی کی سب سے بڑی طاقت ان کی نفسیاتی مضبوطی ہے۔ جہاں کئی بلے باز مسلسل ناکامیوں کے بعد اعتماد کھو بیٹھتے ہیں، وہیں کوہلی اکثر اپنی شدت کو بڑھا دیتے ہیں۔ مشکل مراحل نے ہمیشہ انہیں ایک بہتر کھلاڑی کے طور پر ابھرنے میں مدد دی ہے۔ یہی وہ بھوک ہے جس نے انہیں برسوں تک عالمی کرکٹ کے ٹاپ پر برقرار رکھا ہے۔

ٹیم کی روحِ رواں

آر سی بی کے لیے کوہلی کی اہمیت محض رنز بنانے تک محدود نہیں ہے۔ وہ ٹیم کے لیے ایک جذباتی قوت ہیں۔ گزشتہ سیزن میں دہلی کیپیٹلز کے خلاف میچ کو یاد کرتے ہوئے پانڈیا نے بتایا کہ جب ٹیم 26 رنز پر 3 وکٹیں گنوا چکی تھی، تب کوہلی کے ساتھ شراکت داری نے کس طرح میچ کا نقشہ بدلا تھا۔

پانڈیا نے کہا، ‘میں نے جب کوہلی کو دوسرے اینڈ پر دیکھا تو چیزیں آسان ہو گئیں۔ اس کی توانائی اور موجودگی آپ کو اعتماد دیتی ہے۔ وہ واقعی ایک عظیم بلے باز (GOAT) ہے۔’ یہ الفاظ نہ صرف کوہلی کی عزتِ نفس کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ ان کی موجودگی ٹیم کے لیے کتنی بڑی نفسیاتی برتری ثابت ہوتی ہے۔

خلاصہ یہ کہ کرکٹ کے شائقین کو کوہلی کی ان چند ناکامیوں سے مایوس ہونے کے بجائے ان کی شاندار واپسی کا انتظار کرنا چاہیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوہلی پر تنقید کی جاتی ہے، وہ اپنے بلے سے جواب دینا بہتر سمجھتے ہیں۔

Avatar photo
Riya Sen

Riya Sen focuses on young cricket talent, under-19 prospects, and breakout performers in domestic tournaments.