لٹن داس کا نچلے آرڈر کی بیٹنگ پر اظہارِ تشویش: بنگلہ دیشی کرکٹ کا نیا بحران
بنگلہ دیشی کرکٹ میں لوئر آرڈر کا مسئلہ: لٹن داس کی تشویش
نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کے اختتام کے بعد، بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے کپتان لٹن داس نے اپنی ٹیم کے نچلے آرڈر کی بلے بازی کے حوالے سے سنگین تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران لٹن نے واضح کیا کہ ٹیم کو درپیش نتائج میں بہتری کے لیے لوئر آرڈر سے رنز کا تسلسل بہت ضروری ہے۔
لٹن داس کا واضح پیغام
لٹن داس کا ماننا ہے کہ اگر ان کی ٹیم کے لوئر آرڈر بلے بازوں نے کچھ مزید رنز جوڑے ہوتے تو میچ کا نتیجہ مختلف ہو سکتا تھا۔ کپتان نے کہا، ‘میں نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں ہی کہا تھا کہ ہمیں نچلے آرڈر سے تعاون کی ضرورت ہے۔ آج موقع تھا لیکن ہم پھر ناکام رہے۔’ مہدی حسن اور رشاد حسین جیسے کھلاڑیوں کی جانب سے بلے بازی میں خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھانا ٹیم کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔
ٹیم کا توازن اور بولنگ کی مجبوری
جب لٹن سے ٹیم کے توازن کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے ایک تلخ حقیقت بیان کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں فاسٹ بولرز کے بغیر گزارا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے وضاحت کی، ‘اگر ہم نو بلے باز کھلانا چاہیں تو ہمیں صرف تین بولرز کے ساتھ میدان میں اترنا پڑے گا، جو کہ ممکن نہیں۔ کرکٹ 11 کھلاڑیوں کا کھیل ہے اور 20 اوورز مکمل کرنے کے لیے پانچ بولرز کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ کے پاس کوئی ایسا کھلاڑی ہے جو نمبر 7 پر بیٹنگ بھی کر سکے اور چار اوورز بھی مکمل کر سکے تو بتائیں، کیونکہ ہم فی الحال اسی توازن کی تلاش میں ہیں۔’
پریکٹس بمقابلہ میچ پرفارمنس
لٹن داس کا یہ بھی ماننا ہے کہ نیٹ پریکٹس اور میچ کا دباؤ دو الگ چیزیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کے کھلاڑی سخت محنت کر رہے ہیں اور بیٹنگ کوچ بھی ان کے ساتھ کافی وقت گزار رہے ہیں۔ ‘یہ تبدیلیاں راتوں رات نہیں آ سکتیں، یہ ناممکن ہے۔ کھلاڑی کوشش کر رہے ہیں اور امید ہے کہ ورلڈ کپ تک چیزیں بہتر ہو جائیں گی۔ نیٹس میں بیٹنگ کرنا اور میچ کے دوران پریشر میں بیٹنگ کرنا بہت مختلف ہے۔ جب وہ میچ میں پرفارم کریں گے تو ان کا اعتماد بڑھے گا۔’
آل راؤنڈرز کی ذمہ داری
فی الحال رشاد، مہدی اور نسیم احمد جیسے کھلاڑیوں کو آل راؤنڈرز کے بجائے بنیادی طور پر بولرز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ لٹن کے مطابق، دنیا کی دیگر ٹیموں کے سپنرز بھی بیٹنگ میں حصہ ڈالتے ہیں، اور بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کو بھی یہی کرنا ہوگا۔ ‘مہدی بیٹنگ کر سکتے ہیں، ہمیں بین الاقوامی سطح پر اس کارکردگی کی ضرورت ہے۔ یہی بات رشاد اور نسیم پر بھی لاگو ہوتی ہے۔’
مستقبل کی حکمت عملی
محمد سیف الدین اور عبدالغفار ثقلین جیسے کھلاڑیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے لٹن نے اشارہ دیا کہ ٹیم کو مزید آپشنز کی تلاش ہے۔ اگرچہ ٹیم فی الحال چھ ماہر بلے بازوں کے ساتھ کھیل رہی ہے، لیکن ایک ایسا کوالٹی نمبر 7 کھلاڑی جو بلے بازی اور بولنگ دونوں میں مہارت رکھتا ہو، بنگلہ دیشی ٹیم کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ آخر میں لٹن نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ اگر کسی کے ذہن میں ایسا کوئی کھلاڑی ہے تو ضرور بتائے، جو ٹیم کی مشکلات کا حل بن سکے۔
