ناہد رانا کا جارحانہ عزم: اگر کسی نے باؤنسر کیا تو میں اسے نہیں چھوڑوں گا
ناہد رانا کا کرکٹ کے میدان میں جارحانہ عزم
سلہٹ ٹیسٹ کے دوران بنگلادیش کے نوجوان فاسٹ باؤلر ناہد رانا نے اپنی تیز رفتار باؤلنگ سے پاکستانی بلے بازوں کو شدید مشکلات میں مبتلا کیا۔ ان کے تیز اور خطرناک باؤنسرز نے جہاں حریف ٹیم کو ہلا کر رکھ دیا، وہیں یہ بات بھی دلچسپی کا باعث بنی کہ جب ناہد رانا خود بیٹنگ کے لیے میدان میں اترے، تو پاکستانی باؤلرز نے انہیں ایک بھی باؤنسر کرنے کی ہمت نہیں کی۔ کیا یہ احتیاط تھی یا اس نوجوان فاسٹ باؤلر کے بے خوف رویے کا احترام؟
اگر کسی نے باؤنسر کیا تو میں اسے نہیں چھوڑوں گا
اس حوالے سے ناہد رانا نے میچ کے بعد پریس کانفرنس میں بڑے اعتماد کے ساتھ جواب دیا۔ انہوں نے کہا، ‘مجھے نہیں معلوم کہ وہ مجھے باؤنسر کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے یا نہیں، لیکن میں اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اگر کسی نے مجھے باؤنسر کیا تو میں اسے نہیں چھوڑوں گا۔’ ناہد رانا کا یہ بیان ان کے خود اعتماد اور نڈر کرکٹ کھیلنے کے جذبے کو ظاہر کرتا ہے۔
سلہٹ ٹیسٹ: ایک اہم موڑ
سلہٹ ٹیسٹ کے پہلے دن بنگلادیش کی ٹیم 278 رنز پر آل آؤٹ ہو گئی تھی۔ میزبان ٹیم کے لیے لیٹن داس نے شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 159 گیندوں پر 126 رنز کی اننگز کھیلی۔ دوسرے دن بنگلادیشی باؤلرز نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا اور پاکستانی ٹیم کو 232 رنز پر محدود کر دیا۔ ناہد رانا اور تیج الاسلام نے تین تین وکٹیں حاصل کیں، جبکہ تسکین احمد اور مہدی حسن معراج نے دو دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
لیٹن داس کی سنچری میچ کا ٹرننگ پوائنٹ
ناہد رانا کا ماننا ہے کہ لیٹن داس کی سنچری اس میچ کا سب سے اہم موڑ ثابت ہوئی۔ انہوں نے نچلے آرڈر کے بلے بازوں کی مزاحمت کی بھی تعریف کی، خاص طور پر شرف الاسلام کی جنہوں نے 30 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 12 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ ناہد نے کہا، ‘میں سمجھتا ہوں کہ لیٹن بھائی کی بیٹنگ اور پھر تیج بھائی، تسکین بھائی اور شرف بھائی کی نچلے آرڈر میں شراکت داری بہت اہم تھی۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم نے باؤلنگ بھی اچھی کی۔ اگر لیٹن بھائی سنچری نہ بناتے تو ہم دباؤ میں ہوتے۔’
کپتان کی پیشگوئی سچ ثابت ہوئی
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میچ سے قبل بنگلادیش کے کپتان نجم الحسین شانتو نے مذاق میں کہا تھا کہ حریف باؤلرز ناہد رانا کو باؤنسر کرنے سے پہلے دو بار سوچیں گے۔ ٹیسٹ میچ کے دوران یہ پیشگوئی سچ ثابت ہوتی دکھائی دی، جب ناہد نے اپنی اننگز میں چار گیندوں کا سامنا کیا اور پاکستانی باؤلرز نے ایک بھی شارٹ بال ان کی طرف نہیں پھینکی۔ ناہد رانا کا یہ بے خوف رویہ بنگلادیشی کرکٹ ٹیم کے لیے ایک نئے جوش اور ولولے کی علامت ہے، جو آنے والے میچوں میں بھی حریف ٹیموں کے لیے چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
