[CRK] ناہید رانا کی تباہ کن باؤلنگ: نیوزی لینڈ 198 رنز پر ڈھیر، بنگلہ دیش کی سیریز میں واپسی

[CRK]

ناہید رانا کی برق رفتار باؤلنگ اور نیوزی لینڈ کی بیٹنگ کی ناکامی

بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کے درمیان جاری ون ڈے سیریز کے دوسرے میچ میں بنگلہ دیشی فاسٹ باؤلر ناہید رانا نے ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ رانا کی تباہ کن باؤلنگ کی بدولت نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم 48.4 اوورز میں صرف 198 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی۔ ناہید رانا نے محض 32 رنز کے عوض 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جو ان کے ون ڈے کیریئر کی دوسری پانچ وکٹوں کی کارکردگی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے پچھلے ماہ پاکستان کے خلاف بھی 24 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کی تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس وقت بہترین فارم میں ہیں۔

میچ کا آغاز اور پاور پلے میں رانا کا قہر

بنگلہ دیش نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا جو ناہید رانا نے درست ثابت کر دکھایا۔ رانا نے اننگز کے تین مختلف مراحل میں اپنی مہارت کا ثبوت دیا۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کی اننگز کے دوران تین بار اوور کی پہلی گیند پر وکٹ حاصل کی، جس نے کیوی بلے بازوں کو مسلسل دباؤ میں رکھا۔ پہلے پاور پلے میں انہوں نے دو اہم وکٹیں لے کر بنگلہ دیش کو بہترین آغاز فراہم کیا۔

آٹھویں اوور میں تبدیلی کے طور پر آنے والے رانا نے اپنے پہلے ہی اوور میں ہنری نکولس کو نشانہ بنایا۔ نکولس، جو پہلے میچ میں نیوزی لینڈ کے ٹاپ اسکورر تھے، رانا کی اندر آتی ہوئی گیند کو سمجھنے میں ناکام رہے اور 13 رنز پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ اپنے اگلے ہی اوور میں رانا نے ول ینگ کو ایک تیز باؤنسر پر گلی میں کھڑے سومیہ سرکار کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کروا دیا، ینگ صرف 2 رنز بنا سکے۔

لٹن داس کا 100واں ون ڈے اور فیلڈنگ کا معیار

یہ میچ بنگلہ دیشی وکٹ کیپر لٹن داس کے لیے بھی خاص تھا کیونکہ وہ اپنا 100واں ون ڈے کھیل رہے تھے۔ انہوں نے اپنی اس یادگار باری کو بہترین وکٹ کیپنگ سے مزید سجایا۔ کیپٹن ٹام لیتھم، سومیہ سرکار کی گیند پر لٹن داس کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے، جنہوں نے سامنے کی طرف ڈائیو لگا کر ایک مشکل کیچ پکڑا۔ لیتھم نے 35 گیندوں پر 14 رنز بنائے۔

بنگلہ دیشی فیلڈنگ یونٹ نے مجموعی طور پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ دائرے کے اندر سنگلز روکنے اور باؤنڈری لائن پر کئی چوکے بچانے سے نیوزی لینڈ کے بلے بازوں پر دباؤ بڑھتا رہا۔ توحید ہردوئی نے تین شاندار کیچز پکڑے، جس میں آخری وکٹ کے لیے لانگ آن پر لگائی گئی ڈائیو بھی شامل تھی۔

نک کیلی کی مزاحمت اور مڈل آرڈر کی جدوجہد

ایک وقت میں جب نیوزی لینڈ کی ٹیم مشکلات کا شکار تھی، نک کیلی اور محمد عباس نے اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ دونوں کے درمیان چوتھی وکٹ کے لیے 56 رنز کی شراکت قائم ہوئی، جو کیوی اننگز کی سب سے بڑی پارٹنرشپ تھی۔ نک کیلی نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے تسکین احمد کو ایک ہی اوور میں تین چوکے جڑے اور 27ویں اوور میں اپنی نصف سنچری مکمل کی۔

تاہم، ناہید رانا نے ایک بار پھر واپس آکر اس خطرناک ہوتی شراکت کو توڑ دیا۔ انہوں نے محمد عباس کو آؤٹ کیا، جن کا کیچ لٹن داس نے فائن لیگ کی طرف بھاگتے ہوئے کمال مہارت سے پکڑا۔ عباس 19 رنز بنا کر رخصت ہوئے۔ نک کیلی نے تن تنہا جدوجہد جاری رکھی اور 83 رنز کی قیمتی اننگز کھیلی، لیکن وہ شریف الاسلام کی گیند پر مڈ پچ پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔

آخری اوورز اور رانا کا پانچ وکٹوں کا اعزاز

نیوزی لینڈ کے نچلے نمبروں کے بلے باز رانا کی رفتار کا سامنا نہ کر سکے۔ ریشاد حسین نے جوش کلارکسن کو 6 رنز پر آؤٹ کر کے اپنی پہلی وکٹ حاصل کی، جس کے بعد رانا نے دوبارہ آکر میچ کا خاتمہ کیا۔ انہوں نے ڈین فاکس کرافٹ کو ڈیپ اسکوائر لیگ پر کیچ آؤٹ کروایا اور پھر جیڈن لیناکس کو ایک بہترین یارکر پر کلین بولڈ کر کے اپنی پانچ وکٹیں مکمل کیں۔

اپنے کوٹے کے آخری اوور میں بھی رانا نے ناتھن سمتھ کو ایک خطرناک یارکر مارا جسے بلے باز بمشکل روکنے میں کامیاب رہا۔ نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم 198 رنز بنا سکی، جس کا مطلب ہے کہ بنگلہ دیش کو یہ میچ جیتنے اور سیریز برابر کرنے کے لیے 199 رنز کا ہدف ملا ہے۔ ناہید رانا کی اس غیر معمولی باؤلنگ نے بنگلہ دیش کو میچ میں مضبوط پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *