Bangladesh Cricket

ناہید رانا کی طوفانی بولنگ: بلے باز گیند دیکھنے سے بھی قاصر، امر القیس کا بیان

Danish Qureshi · · 1 min read

کرکٹ کی دنیا میں ناہید رانا کا طوفان

کھانا، سونا اور 145 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد کی رفتار سے گیندیں کرنا—یہ اب ناہید رانا کا معمول بن چکا ہے۔ بنگلہ دیش کے اس نوجوان فاسٹ بولر نے جس مستقل مزاجی سے 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کو چھوا ہے، اس نے انہیں عالمی کرکٹ میں بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔ آج ہر طرف ان کی تیز رفتاری کے چرچے ہیں، اور یہ حیرت کی بات نہیں کہ دنیا کے بہترین بلے باز بھی ان کے سامنے لڑکھڑاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

امر القیس کی نظر میں ناہید رانا کی اہمیت

بنگلہ دیش کے سابق اوپنر امر القیس نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران ناہید رانا کی صلاحیتوں کا کھل کر اعتراف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بنگلہ دیشی کرکٹ کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ امر القیس نے یاد دلایا کہ ایک وقت تھا جب بنگلہ دیشی شائقین اور کھلاڑی 140-150 کلومیٹر کی رفتار سے بولنگ کرنے والے اپنے پیسرز کا خواب دیکھتے تھے۔ اب ناہید رانا اور تسکین احمد اس خواب کو حقیقت کا روپ دے رہے ہیں۔

امر القیس کا مزید کہنا تھا کہ اگر ناہید اور دیگر پیسرز اسی طرح کارکردگی دکھاتے رہے، تو اگلے دو سے تین سالوں میں بنگلہ دیشی ٹیسٹ ٹیم عالمی کرکٹ میں ایک انتہائی مضبوط پوزیشن پر ہوگی۔

بین الاقوامی سطح پر پذیرائی

ناہید رانا کی ترقی صرف بنگلہ دیشی شائقین کے لیے ہی خوشی کا باعث نہیں ہے، بلکہ دنیا بھر کے کرکٹ ماہرین بھی ان کی تعریف کر رہے ہیں۔ امر القیس، جو آسٹریلیا میں ایک کرکٹ اکیڈمی چلاتے ہیں، نے ایک دلچسپ واقعہ شیئر کیا: ‘حال ہی میں ایک ہندوستانی نوجوان کے والد نے مجھے پیغام بھیجا کہ آپ کا ناہید رانا بے حد باصلاحیت ہے۔ جب دوسرے ممالک کے لوگ ہمارے کھلاڑیوں کی بات کرتے ہیں تو بہت فخر محسوس ہوتا ہے۔’

بلے بازوں کے لیے ایک خوفناک چیلنج

تیز رفتار بولنگ کا سامنا کرنا کتنا مشکل ہے؟ اس حوالے سے امر القیس نے ایک تکنیکی پہلو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا: ‘سچ تو یہ ہے کہ 150 کلومیٹر کی رفتار پر گیند کو دیکھنا ناممکن حد تک مشکل ہوتا ہے۔ بہت سی بیٹنگ لاشعوری طور پر ہوتی ہے، آپ مکمل طور پر اپنے مسل میموری (muscle memory) پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر کوئی کہے کہ وہ اس رفتار پر ہر گیند کو واضح طور پر دیکھ رہا ہے، تو یہ مکمل سچ نہیں ہو سکتا۔ آپ صرف گیند کی لائن اور لینتھ کو جلد بھانپنے کی کوشش کرتے ہیں۔’

تبدیل ہوتی ہوئی عالمی کرکٹ

ایک وقت تھا جب بنگلہ دیشی بلے باز بڑی ٹیموں کے تیز بولرز کا سامنا کرتے ہوئے دباؤ کا شکار رہتے تھے، لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ امر القیس نے اس تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ‘جب ہم نے بین الاقوامی کرکٹ شروع کی تھی، تو جنوبی افریقہ کے ڈیل اسٹین اور مورنی مورکل جیسی رفتار کا سامنا کرنا مشکل ہوتا تھا۔ اب صورتحال الٹ ہے، دوسری ٹیمیں ہمارے ناہید رانا کا سامنا کرنے سے گھبراتی ہیں۔ یہ دباؤ جو اب مخالف ٹیموں پر ہے، ہمارے لیے فخر کا باعث ہے۔’

نتیجہ

اگرچہ باقاعدگی سے تیز رفتار بولنگ کھیلنے والے کھلاڑی اس رفتار کے عادی ہو جاتے ہیں، لیکن اچانک کسی ایسے بولر کا سامنا کرنا جو 150 کی رفتار سے گیند کرے، کسی بھی بلے باز کے لیے اعصابی امتحان سے کم نہیں ہے۔ ناہید رانا کی یہ رفتار بلاشبہ بنگلہ دیشی کرکٹ کی تیز رفتاری سے بدلتی ہوئی تصویر کی عکاسی کرتی ہے۔

Avatar photo
Danish Qureshi

Danish Qureshi covers team rankings, win-loss records, and comparative statistical analysis in franchise cricket.