Bangladesh Cricket

کیا میرے مرنے کے بعد پیسے دیں گے؟ نسوم احمد کا سلہٹ ٹائٹنز پر شدید غصہ

Vihaan Clarke · · 1 min read

نسوم احمد کا سلہٹ ٹائٹنز کے خلاف بڑا محاذ: بقایا جات کا سنگین مسئلہ

بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے معروف اسپنر نسوم احمد ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے ہیں، لیکن اس بار وجہ ان کی شاندار بولنگ نہیں بلکہ ان کے واجب الادا پیسوں کا تنازع ہے۔ نسوم احمد نے بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کی فرنچائز سلہٹ ٹائٹنز پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے تاحال ان کے بقایا جات ادا نہیں کیے ہیں۔ یہ تنازع گزشتہ سیزن سے چلا آ رہا ہے اور اب نسوم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔

جذباتی سوشل میڈیا پوسٹ: ‘کیا میرے مرنے کا انتظار ہے؟’

نسوم احمد نے فیس بک پر ایک انتہائی جذباتی اور تلخ پوسٹ شیئر کی ہے جس میں انہوں نے براہ راست سلہٹ ٹائٹنز کے مالک ماہی دل اسلام سمیع کو مخاطب کیا۔ نسوم نے لکھا، ‘ہیلو ٹائٹنز! آپ نے مجھے 3.5 ملین ٹکا ادا کر دیے ہیں، لیکن میرے ڈائریکٹ کنٹریکٹ کے باقی 3.5 ملین ٹکا کب ملیں گے؟ کیا آپ یہ رقم میرے مرنے کے بعد، میری آخری رسومات کے وقت ادا کریں گے؟’

انہوں نے مزید کہا کہ اگر فرنچائز کا یہی ارادہ ہے تو انہیں بتا دیا جائے تاکہ وہ اپنے اہل خانہ کو مطلع کر سکیں کہ سلہٹ ٹیم کے مالک ماہی دل اسلام سمیع ان کے جانے کے بعد ان کے پیسے دیں گے۔ نسوم کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور کرکٹ شائقین فرنچائز کی اس روش پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔

کارکردگی کا حوالہ: 12 میچز اور 18 وکٹیں

نسوم احمد نے اپنی پوسٹ میں محض پیسوں کا مطالبہ ہی نہیں کیا بلکہ اپنی شاندار کارکردگی کی یاد دہانی بھی کرائی۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے میدان میں اپنا کام پوری ایمانداری سے کیا تھا۔ نسوم نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا:

  • ٹورنامنٹ میں کل 12 میچز کھیلے
  • مجموعی طور پر 18 وکٹیں حاصل کیں
  • اکانومی ریٹ محض 5.97 رہا
  • وہ ٹورنامنٹ کے دوسرے بہترین وکٹ لینے والے بولر تھے
  • ان کی بہترین بولنگ 7 رنز کے عوض 5 وکٹیں تھی

ان کا کہنا تھا کہ اتنی بہترین کارکردگی کے باوجود ان کے ساتھ یہ سلوک ناقابل فہم ہے۔ ایک پیشہ ور کھلاڑی کے لیے اس سے زیادہ دکھ کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ اسے اپنے جائز حق کے لیے اس طرح عوامی سطح پر دہائی دینی پڑے۔

ٹیم ایڈوائزر فہیم چوہدری سے اپیل

نسوم احمد نے اپنی پوسٹ میں ٹیم کے مشیر فہیم ال چوہدری کو بھی مخاطب کیا، لیکن ان کے لیے نسوم کا لہجہ قدرے نرم اور احترام والا تھا۔ انہوں نے لکھا، ‘بھائی فہیم، میں آپ کی عزت کرتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ مصروف ہیں، لیکن جب وقت ملے تو میری بھیجی ہوئی وائس ریکارڈنگز ضرور سنیے گا۔ میں نے آپ کے بارے میں کیا کہا اور انہوں نے مجھ سے کیا کہا، سب واضح ہو جائے گا۔’

نسوم نے فہیم چوہدری کو اپنا بڑا بھائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ وہ ان کے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے ہی یہ ٹیم بنائی تھی، اس لیے وہ ان سے مدد مانگ رہے ہیں۔ نسوم نے اعتراف کیا کہ ان کے پاس آواز اٹھانے کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا۔

بی پی ایل اور کھلاڑیوں کے مالی مسائل

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بی پی ایل میں کسی کھلاڑی نے ادائیگیوں میں تاخیر یا عدم ادائیگی کی شکایت کی ہو۔ اس سے قبل بھی کئی ملکی اور غیر ملکی کھلاڑی اس حوالے سے آواز اٹھا چکے ہیں۔ سلہٹ ٹائٹنز نے ماضی میں نسوم کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ نسوم نے خود چیک کیش کرانے میں تاخیر کی تھی، تاہم نسوم کے حالیہ ثبوتوں اور وائس ریکارڈنگز کے دعوے نے فرنچائز کے موقف کو کمزور کر دیا ہے۔

نتیجہ اور مستقبل کے خدشات

نسوم احمد جیسے سینئر کھلاڑی کا اس طرح سرعام احتجاج کرنا بنگلہ دیشی کرکٹ کے ڈھانچے پر کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ اگر ایک قومی ستارے کو اپنے پیسوں کے لیے ‘مرنے کے بعد ادائیگی’ جیسے جملے استعمال کرنے پڑ رہے ہیں، تو جونیئر کھلاڑیوں کا کیا حال ہوتا ہوگا؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) اس معاملے میں فوری مداخلت کرے اور کھلاڑیوں کے مالی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔ جب تک فرنچائزز کو جوابدہ نہیں بنایا جائے گا، اس طرح کے تنازعات لیگ کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے رہیں گے۔

Avatar photo
Vihaan Clarke

Vihaan Clarke is a cricket blogger writing about trending topics, viral cricket moments, and fan discussions. His content is highly engaging.