[CRK] پاکستان کا بنگلہ دیش دورہ: سرفراز احمد ہیڈ کوچ مقرر، چار نئے کھلاڑیوں کی شمولیت

[CRK]

پاکستان کا بنگلہ دیش دورہ: نئی قیادت اور نئے چہروں کی آمد

پاکستان کرکٹ ٹیم نے اگلے ماہ بنگلہ دیش کے خلاف کھیلے جانے والے دو ٹیسٹ میچوں کے لیے اپنے اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس بار ٹیم میں نہ صرف کھلاڑیوں کی تبدیلی کی گئی ہے بلکہ کوچنگ اسٹاف میں بھی بڑی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں، جس میں سابق کپتان سرفراز احمد کو ہیڈ کوچ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس دورے کے لیے پاکستان نے چار نئے اور غیر تجربہ کار (uncapped) کھلاڑیوں کو شامل کیا ہے، جو اپنی شاندار ڈومیسٹک کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔

سرفراز احمد کی بطور ہیڈ کوچ نئی شروعات

سرفراز احمد، جنہوں نے 2017 میں پاکستان کو چیمپئنز ٹرافی جتوانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، اب پہلی بار سینئر پاکستان ٹیم کے ہیڈ کوچ کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دیں گے۔ سرفراز کی کوچنگ کی صلاحیتیں حال ہی میں ان کی انڈر-19 ٹیم کے ساتھ کامیابیوں سے ظاہر ہوئیں، جہاں انہوں نے ایشیا کپ کے فائنل میں بھارت کو شکست دے کر ٹائٹل جیتا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ورلڈ کپ اور متحدہ عرب امارات میں انگلینڈ لائنز کے خلاف پاکستان شاہینز کے ساتھ بطور کوچ اور مینٹور کام کیا ہے۔

سرفراز کے ساتھ ان کے سابق ساتھی اسد شفیق اور عمر گل بھی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔ اسد شفیق بیٹنگ کوچ کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے، جبکہ عمر گل بولنگ کوچ کے طور پر ٹیم کی رہنمائی کریں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسد شفیق، جو مردوں اور خواتین کے سلیکشن پینل کا حصہ ہیں، پہلی بار کسی کوچنگ رول میں نظر آئیں گے، جبکہ عمر گل پہلے بھی وائٹ بال ٹیموں کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

نئے کھلاڑیوں کا تعارف اور شاندار کارکردگی

پاکستان نے اس دورے کے لیے چار نئے کھلاڑیوں—عبداللہ فضل، عزان اویس، غازی غوری اور عماد بٹ—کو اسکواڈ میں شامل کیا ہے۔ ان کھلاڑیوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے:

  • عبداللہ فضل: حالیہ پریذیڈنٹ ٹرافی میں عبداللہ فضل سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی رہے۔ انہوں نے 7 میچوں میں 51.83 کی اوسط سے 622 رنز بنائے، جس میں دو سنچریاں اور دو نصف سنچریاں شامل ہیں۔ انہوں نے 182 رنز کی انفرادی اننگز بھی کھیلی اور کوائد اعظم ٹرافی 2025-26 کے فائنل میں کراچی بلیوز کو س्यालکوٹ کے خلاف فتح دلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے ‘پلیئر آف دی فائنل’ رہے۔
  • غازی غوری: وکٹ کیپر بیٹر غازی غوری نے بھی شاندار فارم کا مظاہرہ کرتے ہوئے 48.27 کی اوسط سے 531 رنز بنائے اور دو سنچریاں اسکور کیں۔ انہوں نے حال ہی میں بنگلہ دیش کے دورے کے دوران ون ڈے میں اپنا بین الاقوامی آغاز کیا تھا۔
  • عزان اویس: اوپننگ بیٹر عزان اویس گزشتہ دو فرسٹ کلاس سیزنز سے بہترین فارم میں ہیں۔ انہوں نے کوائد اعظم اور پریذیڈنٹ ٹرافی میں مجموعی طور پر 2673 رنز بنائے ہیں، جس میں 10 سنچریاں شامل ہیں۔ 2024-25 کی کوائد اعظم ٹرافی میں وہ 844 رنز کے ساتھ سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی تھے۔
  • عماد بٹ: فاسٹ بولنگ آل راؤنڈر عماد بٹ نے اپنی بولنگ سے سب کو متاثر کیا۔ انہوں نے سیزن میں 19.21 کی اوسط سے 32 وکٹیں حاصل کیں اور 206 رنز بھی بنائے۔ وہ س्यालکوٹ اور پی ٹی وی کی کپتانی کرتے ہوئے بالترتیب کوائد اعظم اور پریذیڈنٹ ٹرافی جیتنے میں کامیاب رہے۔

اسکواڈ میں تبدیلیاں اور واپسی

جنوری 2025 میں کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے بعد غائب رہنے والے محمد عباس کی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔ وہ حال ہی میں ڈربی شائر کے لیے کاؤنٹی چیمپئن شپ میں حصہ لے رہے تھے۔ دوسری جانب، عبداللہ شفیق، آصف علی، ابرار احمد، کامران غلام اور روہیل نذیر کو ٹیم سے باہر کر دیا گیا ہے۔ عبداللہ شفیق جنوبی افریقہ کے خلاف گزشتہ سیریز میں اپنی کارکردگی (41، 2، 6 اور 57 رنز) سے سلیکٹرز کو متاثر نہ کر سکے، جس کی وجہ سے انہیں ڈراپ کیا گیا۔

ٹیم کی قیادت شان مسعود کریں گے، جبکہ بیٹنگ لائن میں بابر اعظم، محمد رضوان، سلمان آغا، سعود شکیل اور امام الحق جیسے تجربہ کار کھلاڑی شامل ہیں۔ سپن اٹیک کی ذمہ داری نعمان علی اور ساجد خان کے کندھوں پر ہوگی، جبکہ فاسٹ بولنگ میں شاہین شاہ آفریدی، حسن علی اور خرم شہزاد کے ساتھ محمد عباس کی واپسی ٹیم کو مزید مضبوط بنائے گی۔

ٹور کا شیڈول اور اہمیت

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان پہلی ٹیسٹ میچ 8 مئی کو ڈھاکا میں کھیلا جائے گا، جبکہ دوسرا ٹیسٹ 16 مئی کو سلہیٹ میں منعقد ہوگا۔ یہ سیریز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے موجودہ سائیکل میں پاکستان کا دوسرا اہم اسائنمنٹ ہے، جس میں ٹیم اپنی نئی قیادت اور نئے کھلاڑیوں کے ساتھ کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔

بنگلہ دیش ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستان کا مکمل اسکواڈ:

شان مسعود (کپتان)، عبداللہ فضل، عماد بٹ، عزان اویس، بابر اعظم، حسن علی، امام الحق، خرم شہزاد، محمد عباس، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، محمد غازی غوری (وکٹ کیپر)، نعمان علی، ساجد خان، سلمان علی آغا، سعود شکیل، شاہین شاہ آفریدی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *