راہول ڈریوڈ کا بڑا بیان: سپر سٹار کلچر اور بھارتی کرکٹ کی بدلتی حقیقت
راہول ڈریوڈ کی نظر میں سپر سٹار کلچر کی اہمیت
بھارتی کرکٹ کے لیجنڈ اور سابق ہیڈ کوچ راہول ڈریوڈ نے حال ہی میں ایک اہم بیان دیا ہے جس نے کرکٹ کے حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ ڈریوڈ کا ماننا ہے کہ انفرادی کامیابی صرف ایک کھلاڑی کی اپنی جیت نہیں، بلکہ یہ ٹیم کی مجموعی کامیابی کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ بیان خاص طور پر موجودہ ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر کی ‘نو سپر سٹار’ پالیسی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
گمبھیر کا دور اور ٹیسٹ کرکٹ کا بحران
گوتم گمبھیر کی کوچنگ میں وائٹ بال کرکٹ میں بھارت نے شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن میں 2025 کی چیمپئنز ٹرافی اور 2026 کا ٹی 20 ورلڈ کپ شامل ہے۔ تاہم، ٹیسٹ کرکٹ میں صورتحال بالکل برعکس رہی ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں بھارت کو ہوم گراؤنڈ پر نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے ہاتھوں وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ڈبلیو ٹی سی پوائنٹس ٹیبل پر بھارت کی پوزیشن اب کافی کمزور ہو چکی ہے، جس کے باعث تیسری بار فائنل میں پہنچنے کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔
سپر سٹارز کے بغیر کرکٹ کا تصور ناممکن
ڈریوڈ نے ‘Wisden’ کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا، ‘ہر کھیل کو اپنے ہیروز کی ضرورت ہوتی ہے۔ بھارت جیسے ملک میں جہاں کرکٹ کو ایک مذہب کی طرح سمجھا جاتا ہے، یہاں کھلاڑیوں پر بہت زیادہ دباؤ ہوتا ہے۔ جب کوئی کھلاڑی سپر سٹار بنتا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے میدان میں کارکردگی دکھائی ہے اور اپنی ٹیم کو جتوایا ہے۔’ ڈریوڈ کے مطابق، سپر سٹار کلچر کو ختم کرنے کی پالیسی ٹیم کے لیے سود مند ثابت نہیں ہو رہی۔
ٹیسٹ کرکٹ کے چیلنجز اور کھلاڑیوں کی تبدیلی
راہول ڈریوڈ نے تسلیم کیا کہ روہت شرما، وراٹ کوہلی اور آر اشون جیسے بڑے ناموں کی ریٹائرمنٹ کے بعد ٹیم کو توازن بحال کرنے میں وقت لگ رہا ہے۔ تاہم، وہ پرامید ہیں کہ بھارتی کرکٹ کا ڈھانچہ مضبوط ہے اور ٹیم جلد ہی اپنی فارم واپس حاصل کر لے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ، ‘ٹیسٹ کرکٹ اب بھی سب سے مشکل فارمیٹ ہے اور کھلاڑی اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ لیکن آج کل کے کرکٹ کیلنڈر میں تینوں فارمیٹس کو ساتھ لے کر چلنا کھلاڑیوں کے لیے انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔’
کرکٹ کا بدلتا حجم اور کھلاڑیوں کی تیاری
اپنے دور اور موجودہ دور کا موازنہ کرتے ہوئے ڈریوڈ نے کہا کہ ان کے زمانے میں کرکٹ کے فارمیٹس کم تھے، جس کی وجہ سے ٹیسٹ سیریز کے لیے تیاری کا کافی وقت مل جاتا تھا۔ موجودہ کھلاڑیوں پر ہر وقت کرکٹ کھیلنے کا دباؤ ہے، جس کی وجہ سے وہ ٹیسٹ کرکٹ کے لیے مطلوبہ ذہنی اور جسمانی توازن برقرار نہیں رکھ پا رہے۔
مستقبل کی توقعات
اگرچہ بھارتی ٹیم ٹیسٹ کرکٹ میں مشکلات کا شکار ہے، لیکن راہول ڈریوڈ کا ماننا ہے کہ یہ صرف ایک عبوری دور ہے۔ جیسے جیسے نئے کھلاڑیوں کو تجربہ ملے گا اور ٹیم کا توازن درست ہوگا، بھارت ایک بار پھر ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ ڈریوڈ کی یہ رائے بھارتی کرکٹ بورڈ اور ٹیم انتظامیہ کے لیے ایک اہم پیغام ہے کہ سپر سٹارز کی حوصلہ افزائی کرنا دراصل ٹیم کی کامیابی کا ہی دوسرا نام ہے۔
