رمیز راجہ کی بابر اعظم پر تنقید: بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ میں ناقص شاٹ پر برہمی
بابر اعظم کی غیر ذمہ دارانہ بیٹنگ پر رمیز راجہ کا ردعمل
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور کمنٹیٹر رمیز راجہ نے بنگلہ دیش کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوران بابر اعظم کی بلے بازی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ رمیز راجہ کا ماننا ہے کہ بابر اعظم جیسے تجربہ کار کھلاڑی سے اس طرح کی لاپرواہی کی توقع نہیں کی جا سکتی، خاص طور پر جب ٹیم کو ان کی بیٹنگ کی اشد ضرورت ہو۔
رفتار کے ردعمل میں ناکامی
رمیز راجہ نے اس بات پر زور دیا کہ بابر اعظم گیند کی رفتار میں تبدیلی کو سمجھنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک تجربہ کار کھلاڑی ہونے کے ناطے بابر کو یہ اندازہ ہونا چاہیے تھا کہ فاسٹ بولر جب مسلسل تیز گیند بازی کر رہا ہو تو اگلی گیند سست (سلو) ہو سکتی ہے۔ رمیز راجہ نے مزید کہا کہ بابر اعظم کی سب سے بڑی کمزوری یہی رفتار کا ردعمل ہے، جسے مخالف ٹیمیں بخوبی جانتی ہیں اور اس کا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
میچ کا احوال اور بابر کی وکٹ
بنگلہ دیش کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں بابر اعظم نے 68 رنز کی اننگز کھیلی، لیکن جب وہ سیٹ ہو چکے تھے، تب انہوں نے ایک غیر ضروری شاٹ کھیلنے کی کوشش کی۔ ناہید رانا کی ایک سست گیند پر بابر اعظم نے اسے لیگ سائیڈ پر کھیلنے کی کوشش کی، مگر گیند بلے کے اوپری کنارے سے لگ کر مڈ آن پر موجود مشفق الرحیم کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ یہ لمحہ پورے سیشن کی محنت پر پانی پھیرنے کے مترادف تھا۔
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ پر اثرات
پاکستان ٹیم اس سیریز میں مسلسل دباؤ کا شکار رہی ہے۔ نہ صرف بیٹنگ لائن اپ بلکہ بولنگ بھی توقعات کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) کی پوائنٹس ٹیبل پر پاکستان کی پوزیشن مسلسل گر رہی ہے، اور سلو اوور ریٹ کے باعث پوائنٹس میں کٹوتی نے ٹیم کے فائنل تک پہنچنے کے خواب کو مزید دھندلا دیا ہے۔ پاکستان اب پوائنٹس ٹیبل پر آٹھویں نمبر پر کھڑا ہے۔
ٹیم کا کولیپس اور صورتحال
بابر اعظم کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستانی مڈل اور لوئر آرڈر بری طرح ناکام رہا۔ ساجد خان نے کچھ مزاحمت ضرور کی، لیکن پوری ٹیم 232 رنز پر سمٹ گئی، جس کے بعد پاکستان کو 46 رنز کا خسارہ اٹھانا پڑا۔ شان مسعود کی قیادت میں پاکستان ٹیم کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہے، کیونکہ ہوم گراؤنڈ پر ایسی کارکردگی کی توقع کسی کو نہیں تھی۔
نتیجہ
رمیز راجہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ بابر اعظم کو اپنی تکنیک اور ذہنی اپروچ پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جب آپ عالمی کرکٹ کے اتنے تجربہ کار کھلاڑی ہوں، تو آپ کو میچ کی صورتحال کے مطابق کھیلنے کا ہنر آنا چاہیے۔ اگر بابر اعظم نے اپنی اس کمزوری کو دور نہ کیا تو پاکستان ٹیم کے لیے مستقبل کے چیلنجز مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔
- بابر اعظم کی 68 رنز کی اننگز میں 20ویں نصف سنچری شامل تھی۔
- پاکستان ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ سیریز کے دوران کسی بھی اننگز میں بنگلہ دیش کا سکور عبور نہ کر سکی۔
- ڈبلیو ٹی سی پوائنٹس ٹیبل پر پاکستان کی پوزیشن مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔
