Latest Cricket News

آئی پی ایل 2026: روی چندرن ایشون کا پنجاب کنگز کی انتظامیہ پر تنقید

Riya Sen · · 1 min read

پنجاب کنگز کا بحران: روی چندرن ایشون نے انتظامیہ پر ذمہ داری عائد کر دی

آئی پی ایل 2026 کے سیزن میں پنجاب کنگز (PBKS) کی ٹیم ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ان کی پلے آف میں رسائی کا خواب دھندلاتا نظر آ رہا ہے۔ ٹیم کے سابق کپتان اور تجربہ کار اسپنر روی چندرن ایشون نے اس صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے براہ راست فرنچائز مالکان کو اس ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

ہوم وینیو کی تبدیلی: ایک بڑی غلطی؟

ایشون کا ماننا ہے کہ پنجاب کنگز کی جانب سے اپنے ہوم میچز کو دو مختلف سٹیڈیمز یعنی ملانپور اور دھرم شالہ کے درمیان تقسیم کرنا ایک تباہ کن فیصلہ ثابت ہوا ہے۔ آئی پی ایل 2026 میں پنجاب نے اپنے 7 ہوم میچز میں سے 4 میچ ملانپور کے مہاراجہ یادویندرا سنگھ انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم اور 3 میچ دھرم شالہ کے ایچ پی سی اے اسٹیڈیم میں کھیلے۔

ایشون نے صحافی وِمل کمار کے یوٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: “کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ کے کے آر، سی ایس کے یا ایم آئی جیسی کامیاب ٹیموں نے اپنے ہوم وینیو تبدیل کیے ہوں؟ یہ ٹیمیں ٹرافی جیتنے کی ماہر ہیں کیونکہ انہیں اپنے ہوم گراؤنڈ پر کھیلنے کا مستقل تجربہ حاصل ہے۔”

پنجاب کی شاندار شروعات اور اچانک زوال

پنجاب کنگز نے اس سیزن کے پہلے حصے میں شاندار کارکردگی دکھائی تھی اور اپنے پہلے 7 میچوں میں سے 6 میں کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم، اس کے بعد ٹیم کو مسلسل پانچ شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس نے ان کے پلے آف کے امکانات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان پانچ میچوں میں سے تین ہوم میچز تھے، جن میں سے ایک ملانپور اور دو دھرم شالہ میں کھیلے گئے۔

ایشون کا تجزیہ: حالات سے مطابقت پیدا کرنا

ایشون کے مطابق، کھلاڑیوں کے لیے ہر بار ایک نئی پچ پر خود کو ڈھالنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی: “دھرم شالہ کی وکٹ ملانپور سے بالکل مختلف ہے، وہاں پہلی اننگز میں گیند نیچی رہتی ہے، جس کی وجہ سے بلے بازوں کو اپنے شاٹس کھیلنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مسلسل ہوم وینیو تبدیل کرنے سے کھلاڑیوں کا ردھم ٹوٹ جاتا ہے۔”

پلے آف کی دوڑ اور آئندہ کا لائحہ عمل

پنجاب کنگز کو اب اگر ٹورنامنٹ میں برقرار رہنا ہے تو انہیں اپنے باقی ماندہ میچز جیتنے ہوں گے، لیکن یہ کام آسان نہیں ہے۔ 17 مئی کو ان کا مقابلہ دفاعی چیمپئن رائل چیلنجرز بنگلور (RCB) سے ہوگا، جو کہ ٹیم کے لیے ‘کرو یا مرو’ کی حیثیت رکھتا ہے۔

  • اگر پنجاب یہ میچ ہار جاتی ہے تو ان کا آئی پی ایل 2026 کا سفر تقریباً ختم ہو جائے گا۔
  • آر سی بی کے لیے یہ جیت انہیں پلے آف میں پہنچا سکتی ہے۔
  • پنجاب کو نہ صرف اپنے میچز جیتنے ہوں گے بلکہ دیگر ٹیموں کے نتائج پر بھی انحصار کرنا ہوگا۔

روی چندرن ایشون کا یہ بیان کرکٹ حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ چکا ہے۔ کیا فرنچائز مالکان اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں گے یا پنجاب کنگز کا یہ ‘ہوم گراؤنڈ کا تجربہ’ ان کی مزید ناکامیوں کا باعث بنے گا؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن فی الحال ٹیم کو اپنے کھیل پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

نوٹ: یہ تجزیہ کرکٹ کی موجودہ صورتحال اور ماہرین کی آراء کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔

Avatar photo
Riya Sen

Riya Sen focuses on young cricket talent, under-19 prospects, and breakout performers in domestic tournaments.