Latest Cricket News

آئی پی ایل 2026: روی چندرن اشون کا رتوراج گائیکواڈ کی فارم پر بڑا بیان

Sneha Roy · · 1 min read

آئی پی ایل 2026: کیا کپتانی رتوراج گائیکواڈ کی بیٹنگ کے لیے وبال جان بن گئی ہے؟

آئی پی ایل 2026 میں چنئی سپر کنگز (CSK) کے لیے حالات کافی مشکل دکھائی دے رہے ہیں۔ ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل کا فقدان ہے اور اب سابق ہندوستانی اسپنر روی چندرن اشون نے کپتان رتوراج گائیکواڈ کی فارم پر کھل کر بات کی ہے۔ اشون کے مطابق، قیادت کا بوجھ گائیکواڈ کی بیٹنگ صلاحیتوں کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔

گائیکواڈ کی جدوجہد اور سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف شکست

پیر کے روز ایم اے چدمبرم اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں پیٹ کمنز کی قیادت میں سن رائزرز حیدرآباد نے چنئی سپر کنگز کو شکست دی۔ رتوراج گائیکواڈ کا ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ ٹیم کے حق میں نہیں گیا۔ گائیکواڈ نے کریز پر ایک گھنٹے سے زیادہ وقت گزارا، لیکن وہ 21 گیندوں پر صرف 15 رنز ہی بنا سکے اور اس دوران ایک بھی باؤنڈری نہ لگا سکے۔

اگرچہ کارتک شرما اور ڈیوالڈ بریوس نے جارحانہ شروعات کی تھی، لیکن حیدرآباد کے تیز گیند بازوں نے سی ایس کے کو 181 رنز پر محدود کر دیا۔ بعد ازاں، ہینرک کلاسن اور ایشان کشن کی عمدہ بیٹنگ نے حیدرآباد کو فتح سے ہمکنار کیا۔

اشون کا تجزیہ: سی ایس کے ایک عبوری دور میں ہے

روی چندرن اشون نے ایک میڈیا پلیٹ فارم پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چنئی سپر کنگز اس وقت دھونی کے بعد کے دور (Post-Dhoni era) میں ایک عبوری مرحلے سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے کہا: ‘سی ایس کے کے ساتھ وابستہ معیارات اور توقعات بہت زیادہ ہیں، لیکن مداحوں اور اسٹیک ہولڈرز کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ٹیم کی تعمیر نو میں وقت لگتا ہے۔ اس گروپ کو ارتقا کے لیے صبر اور جگہ دینے کی ضرورت ہے۔’

کپتانی کا بیٹنگ پر بوجھ

اشون نے مزید نشاندہی کی کہ رتوراج گائیکواڈ پر کپتانی کا دباؤ صاف دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا: ‘ٹی 20 کرکٹ پہلے ہی بہت مطالبہ کرنے والی ہے، اور پھر سی ایس کے جیسی ٹیم کی قیادت کا بوجھ سنبھالنا کسی بھی کھلاڑی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ گائیکواڈ اپنی بیٹنگ پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے کپتانی کے دباؤ کو زیادہ محسوس کر رہے ہیں۔’

اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟

آئی پی ایل 2026 میں گائیکواڈ کی کارکردگی پر ایک نظر ڈالیں تو اعداد و شمار تشویشناک ہیں۔ انہوں نے 13 میچوں میں 29.18 کی اوسط سے صرف 321 رنز بنائے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ ان کا اسٹرائیک ریٹ ہے، جو صرف 120.67 ہے۔ موجودہ دور کی ٹی 20 کرکٹ میں، جہاں 180 رنز بھی کم تصور کیے جاتے ہیں، گائیکواڈ کا یہ اسٹرائیک ریٹ ان کی فارم کی عکاسی کرتا ہے۔

پلے آف کی امیدیں

اس شکست کے بعد چنئی سپر کنگز کی پلے آف میں رسائی کی امیدیں بہت کم ہو گئی ہیں۔ اب ٹیم کو نہ صرف 21 مئی کو گجرات ٹائٹنز کے خلاف اپنا آخری میچ جیتنا ہوگا، بلکہ انہیں دیگر ٹیموں کے نتائج پر بھی انحصار کرنا پڑے گا۔ اگر سی ایس کے پلے آف میں جگہ بنانا چاہتی ہے، تو انہیں نیٹ رن ریٹ کے پیچیدہ حساب کتاب سے نکلنا ہوگا، جس میں وہ فی الحال کافی پیچھے دکھائی دیتے ہیں۔

نتیجہ: سی ایس کے کا یہ سیزن مداحوں کے لیے مایوس کن رہا ہے۔ ٹیم انتظامیہ اور کپتان گائیکواڈ کے لیے یہ ایک سیکھنے کا عمل ہے، جہاں انہیں مستقبل کی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔ کیا گائیکواڈ کپتانی کے دباؤ سے نکل کر اپنی پرانی فارم میں واپس آ سکیں گے؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔