بھارتی کرکٹ میں بڑی تبدیلیوں کی دستک: رویندر جڈیجہ اور ہاردک پانڈیا سلیکٹرز کے ریڈار پر
بھارتی کرکٹ میں نئے دور کا آغاز: 2027 ورلڈ کپ کی منصوبہ بندی
بھارتی کرکٹ ٹیم کے سینئر سلیکٹرز نے مستقبل کی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے کمر کس لی ہے۔ اجیت اگرکر کی قیادت میں سلیکشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منگل، 19 مئی کو منعقد ہونے جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کرنا ہے۔ اس اجلاس میں نہ صرف افغانستان کے خلاف ہونے والی آئندہ سیریز کے لیے ٹیم کا انتخاب کیا جائے گا بلکہ سینئر کھلاڑیوں کے کردار پر بھی تفصیلی بحث ہوگی۔
افغانستان کے خلاف سیریز اور شبمن گل کی قیادت
بھارت اور افغانستان کے درمیان ایک تاریخی ٹیسٹ میچ اور تین میچوں پر مشتمل ون ڈے سیریز شیڈول ہے۔ اطلاعات کے مطابق، وائٹ بال فارمیٹ میں ٹیم کی قیادت نوجوان بلے باز شبمن گل کے سپرد کی جائے گی۔ یہ سیریز 14 جون سے شروع ہونے والی ہے اور سلیکٹرز اس دوران کھلاڑیوں کی فٹنس اور حالیہ فارم کا باریک بینی سے جائزہ لیں گے۔ سلیکشن کمیٹی کا ماننا ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینے کا یہ بہترین وقت ہے تاکہ ورلڈ کپ 2027 تک ایک متوازن ٹیم تیار کی جا سکے۔
رویندر جڈیجہ: کیا تجربہ اب بوجھ بن رہا ہے؟
ٹائمز آف انڈیا کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، 37 سالہ آل راؤنڈر رویندر جڈیجہ کی ٹیم میں پوزیشن اب پہلے جیسی مستحکم نہیں رہی۔ سلیکٹرز ان کی حالیہ کارکردگی، خاص طور پر ون ڈے کرکٹ میں ان کے سست بیٹنگ اسٹرائیک ریٹ اور وکٹیں لینے کی کم ہوتی ہوئی صلاحیت پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو جڈیجہ کی کارکردگی میں واضح گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے۔ آسٹریلیا کے خلاف سیریز سے باہر رہنے کے بعد، انہوں نے جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے خلاف پانچ اننگز میں صرف ایک وکٹ حاصل کی، جبکہ ان کا اکانومی ریٹ بھی کافی زیادہ رہا۔ بیٹنگ میں بھی وہ پانچ اننگز میں صرف 99 رنز بنا سکے۔ سلیکٹرز کا خیال ہے کہ اگر جڈیجہ کو 2027 کے ورلڈ کپ کے منصوبوں میں شامل رہنا ہے، تو انہیں آنے والے میچوں میں غیر معمولی کارکردگی دکھانی ہوگی۔
ہاردک پانڈیا: فٹنس کے مسائل اور ورک لوڈ مینجمنٹ
ایک طرف جہاں جڈیجہ کی فارم زیرِ بحث ہے، وہیں دوسری جانب ہاردک پانڈیا کی فٹنس ٹیم مینجمنٹ کے لیے دردِ سر بنی ہوئی ہے۔ ہاردک پانڈیا بلاشبہ ایک میچ ونر آل راؤنڈر ہیں جو ٹیم کو بہترین توازن فراہم کرتے ہیں، لیکن ان کی انجری کی تاریخ سلیکٹرز کو پریشان کر رہی ہے۔
ہاردک پانڈیا نے مارچ 2025 کے بعد سے کوئی ون ڈے میچ نہیں کھیلا ہے۔ ٹی 20 کے مقابلے میں ون ڈے کرکٹ جسمانی طور پر زیادہ مشکل ہوتی ہے، جہاں ایک آل راؤنڈر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ نہ صرف بیٹنگ میں جوہر دکھائے بلکہ ضرورت پڑنے پر اپنے 10 اوورز کا کوٹہ بھی مکمل کرے۔ سلیکٹرز اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کیا ہاردک کا جسم طویل فارمیٹ کی سختیوں کو برداشت کرنے کے قابل ہے یا نہیں۔
نتیش کمار ریڈی: ایک نیا ابھرتا ہوا ستارہ
سلیکٹرز اب مستقبل کی طرف دیکھ رہے ہیں اور اس سلسلے میں 22 سالہ آل راؤنڈر نتیش کمار ریڈی کا نام تیزی سے ابھر کر سامنے آیا ہے۔ آئی پی ایل 2026 میں اپنی شاندار بیٹنگ اور بہتر ہوتی ہوئی بولنگ کے ذریعے انہوں نے سب کو متاثر کیا ہے۔
- نتیش کمار ریڈی کو آنے والے مہینوں میں مزید مواقع دیے جانے کا امکان ہے۔
- وہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے دوروں کے لیے بھی سلیکٹرز کی فہرست میں شامل ہیں۔
- ٹیم مینجمنٹ انہیں ہاردک پانڈیا کے ایک متبادل یا بیک اپ کے طور پر تیار کرنا چاہتی ہے۔
سلیکٹرز کا سخت پیغام: کارکردگی یا رخصتی
سلیکشن کمیٹی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب کسی بھی کھلاڑی کی جگہ ٹیم میں مستقل نہیں ہے۔ 2027 کے ورلڈ کپ کے مشن کے لیے صرف انہی کھلاڑیوں کو منتخب کیا جائے گا جو مسلسل کارکردگی دکھائیں گے اور مکمل فٹ ہوں گے۔ 19 مئی کا اجلاس بھارتی کرکٹ کی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہاں سے پرانے ستارے رخصت ہو سکتے ہیں اور نئی نسل کے لیے راستے ہموار کیے جا سکتے ہیں۔
بھارتی کرکٹ کے شائقین کے لیے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا جڈیجہ اور ہاردک اپنی جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا پھر بھارتی کرکٹ میں ایک مکمل تبدیلی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ افغانستان کے خلاف سیریز ان تمام سوالات کے جوابات فراہم کر دے گی۔
