[CRK] راجستھان رائلز نے کے کے آر کے خلاف اسپن کا بھرپور استعمال کیوں کیا؟ ریان پراگ کی وضاحت

[CRK]

اسپن کا جال اور حکمت عملی کی ناکامی

کولکتہ نائٹ رائیڈرز (KKR) کے خلاف میچ میں جب راجستھان رائلز (RR) کو 155 رنز کا دفاع کرنا تھا تو ٹیم کے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ میچ کا فیصلہ آخری اوور میں ہوا جہاں رنکو سنگھ نے چھکا لگا کر کولکتہ کو اس سیزن کی پہلی فتح دلوائی۔ اس شکست کے بعد سب سے بڑی بحث یہ رہی کہ ریان پراگ نے پیسرز کے بجائے اسپنرز کو زیادہ موقع کیوں دیا؟

ریان پراگ کی وضاحت

میچ کے بعد پریزنٹیشن کے دوران، ریان پراگ سے ان کے بولنگ فیصلوں کے بارے میں سوال کیا گیا۔ خاص طور پر 18ویں اور 20ویں اوور میں ناندرے برگر جیسے تجربہ کار فاسٹ بولر کے ہوتے ہوئے ان کی طرف سے انجان فاسٹ بولر برجیش شرما کو گیند تھمانے کے فیصلے پر کافی سوالات اٹھائے گئے۔

پراگ نے اپنی حکمت عملی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ‘میں نے برجیش کو 14ویں اور 16ویں اوور میں بھی لانے کا سوچا تھا، لیکن کے کے آر کے وکٹ گرنے کے بعد وہاں بائیں ہاتھ کے بلے باز موجود تھے، اس لیے میں نے خود آف اسپن کروانے کا فیصلہ کیا۔ ہمارے اسپنرز بہت اچھی بولنگ کر رہے تھے اور مجھے پورا یقین تھا کہ ہم کسی نہ کسی وکٹ کو حاصل کر لیں گے۔ ہم اس کے بہت قریب بھی پہنچ گئے تھے۔’

اسپن پچ کی اہمیت

پراگ نے اشارہ کیا کہ پچ پر اسپنرز کے لیے کافی مدد موجود تھی، جس کی وجہ سے انہوں نے پیسرز کے بجائے اسپن کا کارڈ کھیلا۔ ‘پچ پر بہت ٹرن مل رہا تھا۔ جس طرح سے جڈیجہ، بشنوئی اور پنّجا نے بولنگ کی، مجھے لگا کہ وقت کی ضرورت یہی ہے کہ اسپن کا استعمال کیا جائے۔ جب یہ کام کر جاتا ہے تو سب اچھا لگتا ہے، اور مجھے محسوس ہوا کہ آج بھی یہ کام کر گیا تھا، بس کچھ چھوٹی غلطیاں ہمیں مہنگی پڑ گئیں۔’

رنکو سنگھ کا موقع اور حکمت عملی میں تبدیلی

میچ کے دوران ایک اہم موڑ تب آیا جب رنکو سنگھ محض 8 رنز پر تھے اور رویندرا جڈیجہ کی گیند پر ناندرے برگر نے ان کا ایک آسان کیچ چھوڑ دیا۔ اس وقت کے کے آر کا اسکور 5 وکٹوں کے نقصان پر 73 رنز تھا۔ پراگ نے بتایا کہ جب بشنوئی کے اوورز ختم ہو گئے تو انہوں نے محسوس کیا کہ اب اسپنرز کو بلے بازوں کے خلاف مشکل پیش آ سکتی ہے کیونکہ کریز پر بائیں ہاتھ کے بلے باز (رنکو سنگھ اور انوکول رائے) موجود تھے۔ اسی لیے انہوں نے برجیش شرما پر بھروسہ کیا کہ وہ آخری اوورز میں بہتر ثابت ہوں گے۔

آگے کا راستہ

اگرچہ راجستھان رائلز اس میچ کو آخری اوور تک لے جانے میں کامیاب رہی، لیکن وہ جیت کے لیے درکار آخری لمحات کو سنبھال نہ سکے۔ اس وقت راجستھان رائلز 6 میچوں میں 4 جیت کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر موجود ہے۔ ٹیم اب لکھنؤ کا سفر کرے گی جہاں ان کا مقابلہ 22 اپریل کو لکھنؤ سپر جائنٹس سے ہوگا۔

نتیجہ

کرکٹ میں حکمت عملی کا انتخاب اکثر پچ کی صورتحال پر منحصر ہوتا ہے۔ ریان پراگ کا اسپن پر انحصار کرنا غلط نہیں تھا، لیکن اہم مواقع پر کیچ ڈراپ کرنا اور آخری اوور میں تجربے کی کمی ان کی شکست کا سبب بنی۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ اگلی سیریز میں راجستھان رائلز اپنی غلطیوں سے کتنا سیکھ کر میدان میں اترتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *