روہت شرما بھارت کے عظیم ترین بلے باز: ریان ریکلٹن کی ممبئی انڈینز کی جیت کے بعد بڑی تعریف
آئی پی ایل 2026: ممبئی انڈینز اور لکھنؤ سپر جائنٹس کے درمیان بقا کی جنگ
ٹاٹا آئی پی ایل 2026 کے 47 ویں میچ میں وانکھیڑے اسٹیڈیم ممبئی میں ایک ایسا مقابلہ دیکھنے کو ملا جو دونوں ٹیموں کے لیے ‘کرو یا مرو’ کی حیثیت رکھتا تھا۔ ممبئی انڈینز (MI) اور لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) جو کہ پوائنٹس ٹیبل پر نچلی پوزیشنز پر موجود تھیں، ایک دوسرے کے سامنے تھیں۔ اس میچ میں شکست کا مطلب ٹورنامنٹ سے عملی طور پر باہر ہونا تھا، اور اسی دباؤ کے ساتھ دونوں ٹیمیں میدان میں اتریں۔
ٹیموں میں تبدیلیاں اور ٹاس کا فیصلہ
میچ کے آغاز سے قبل ممبئی انڈینز کے کیمپ سے بڑی خبر آئی کہ باقاعدہ کپتان ہاردک پانڈیا علالت کے باعث دستیاب نہیں ہیں، جس کی وجہ سے قیادت کی ذمہ داری سوریا کمار یادو (SKY) کو سونپی گئی۔ ممبئی نے اپنی ٹیم میں چار اہم تبدیلیاں کیں، جن میں روہت شرما، راج باوا، کوربن بوش، اور دیپک چاہر کی واپسی ہوئی۔ دوسری جانب، لکھنؤ سپر جائنٹس نے بھی دو تبدیلیاں کیں اور اکشت رگھوونشی اور جوش انگلس کو پلیئنگ الیون کا حصہ بنایا۔ سوریا کمار یادو نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، جو بعد میں درست ثابت ہوا۔
لکھنؤ سپر جائنٹس کی جارحانہ بیٹنگ اور نکولس پورن کا طوفان
پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے لکھنؤ سپر جائنٹس کا آغاز کسی حد تک ملا جلا رہا۔ جوش انگلس نے 5 گیندوں پر 13 رنز بنا کر تیزی دکھانے کی کوشش کی لیکن وہ جلد پویلین لوٹ گئے۔ تاہم، اس کے بعد نکولس پورن اور مچل مارش نے ممبئی کے گیند بازوں پر دھاوا بول دیا۔ لکھنؤ نے پاور پلے کے 6 اوورز میں 90/1 کا پہاڑ جیسا اسکور کھڑا کر دیا۔
- نکولس پورن: 21 گیندوں پر 63 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیلی۔
- مچل مارش: 25 گیندوں پر 44 رنز بنا کر نمایاں رہے۔
- ایڈن مارکرم اور ہمت سنگھ: ان دونوں نے بالترتیب 31 اور 40 رنز بنا کر ٹیم کے مجموعی اسکور کو 20 اوورز میں 228/5 تک پہنچا دیا۔
ایک موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ لکھنؤ 250 کا ہندسہ عبور کر لے گی، لیکن ممبئی کے گیند بازوں نے درمیانی اوورز میں شاندار واپسی کی اور رنز کی رفتار کو کسی حد تک قابو میں رکھا۔
روہت شرما اور ریان ریکلٹن کی تاریخی شراکت داری
229 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں ممبئی انڈینز کو ایک مضبوط آغاز کی ضرورت تھی، اور روہت شرما کے ساتھ ریان ریکلٹن نے وہی فراہم کیا۔ دونوں نے پاور پلے میں 71 رنز جوڑ کر ہدف کے تعاقب کی بنیاد رکھی۔ ان دونوں بلے بازوں کے درمیان 143 رنز کی شاندار شراکت داری قائم ہوئی۔
اگرچہ دونوں بلے باز اپنی سنچریاں مکمل نہ کر سکے، لیکن ان کی اننگز نے جیت کی راہ ہموار کر دی۔ روہت شرما 84 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ ریان ریکلٹن نے 83 رنز کی اننگز کھیلی۔ ان کے جانے کے بعد نمن دھیر (23 ناٹ آؤٹ) اور ول جیکس نے فنشنگ ٹچ دیتے ہوئے ممبئی انڈینز کو ایک یادگار فتح دلائی۔
ریان ریکلٹن کا روہت شرما کو خراج تحسین
میچ کے بہترین کھلاڑی (Player of the Match) قرار پانے کے بعد ریان ریکلٹن نے روہت شرما کے بارے میں جذباتی اور متاثر کن گفتگو کی۔ انہوں نے کہا، “روہت ممبئی کے ہی نہیں بلکہ بھارت کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ ان کے ساتھ میدان میں وقت گزارنا میرے لیے خوش قسمتی کی بات ہے۔”
ریکلٹن نے مزید کہا کہ وانکھیڑے کی وکٹ جوہانسبرگ کے وانڈررز اسٹیڈیم جیسی ہے جہاں گیند بلے پر اچھی طرح آتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ راہول سنگھوی نے پہلے ہی انہیں آگاہ کر دیا تھا کہ یہ گراؤنڈ ان کے کھیل کے لیے موزوں ہے۔ ریکلٹن کے مطابق، روہت کے ساتھ مل کر گیند بازوں پر دباؤ ڈالنا آسان ہو گیا تھا کیونکہ وہ ایک دوسرے کی بھرپور مدد کر رہے تھے۔
آئی پی ایل میں بڑے اہداف کا تعاقب: ایک نیا رجحان
ریکلٹن نے جدید کرکٹ اور آئی پی ایل کے بدلتے ہوئے انداز پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح آج کل بڑے اہداف کا تعاقب ہو رہا ہے وہ حیران کن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسا سوریا کمار یادو نے کہا تھا، اگر آپ کو آغاز اچھا مل جائے تو ایک پلیٹ فارم تیار ہو جاتا ہے، اور ممبئی انڈینز کی ٹیم میں اب یہی رجحان بن چکا ہے۔
اس فتح کے ساتھ ممبئی انڈینز نے پلے آف کی دوڑ میں خود کو برقرار رکھا ہے، جبکہ لکھنؤ سپر جائنٹس کے لیے اب آگے کا سفر ریاضیاتی طور پر ہی ممکن ہے، جو کہ حقیقت میں ناممکن کے قریب نظر آتا ہے۔
