Bangladesh Cricket

بی پی ایل تنخواہوں کا تنازعہ: محمد سیف الدین نے کھلاڑیوں پر مرتب ہونے والے ذہنی دباؤ کا انکشاف کیا

Aditya Kulkarni · · 1 min read

بی پی ایل تنخواہوں کا بحران: محمد سیف الدین کی نظر میں کھلاڑیوں کا ذہنی کرب

بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کرکٹ کے میدانوں میں تو رونقیں لگاتی ہے، لیکن حال ہی میں ڈھاکا کیپیٹلز کے کھلاڑیوں کے لیے پیش آنے والا تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا واقعہ کھیل کے پسِ پردہ تاریک پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔ قومی ٹیم کے آل راؤنڈر محمد سیف الدین نے اس پورے معاملے پر کھل کر بات کی ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح مالی مسائل نے کھلاڑیوں کو ذہنی دباؤ میں مبتلا رکھا۔

ادائیگیوں کا عمل اور مشکل وقت

ایک انٹرویو کے دوران، سیف الدین نے اس بات کی تصدیق کی کہ طویل انتظار اور پیچیدگیوں کے بعد، بالآخر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کی مداخلت سے کھلاڑیوں کو ان کی واجب الادا رقوم مل گئی ہیں۔ سیف الدین نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس مشکل گھڑی میں کھلاڑیوں کی حمایت کی۔ انہوں نے خاص طور پر تمیم اقبال، بی سی بی کے سابق حکام، افتخار رحمان مٹھو اور کرکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش (CWAB) کے صدر محمد مٹھن کی کوششوں کو سراہا۔

سیف الدین کے مطابق، ‘الحمدللہ، شروعات میں کچھ مسائل ضرور تھے، لیکن بی سی بی نے آخرکار ہماری ادائیگی کلیئر کر دی۔ مٹھن بھائی اور مٹھو بھائی نے کھلاڑیوں کے حقوق کے لیے بہت محنت کی۔ ہمیں ادائیگی تقریباً 15 سے 20 دن قبل موصول ہوئی ہے۔’

ذہنی دباؤ اور کارکردگی پر اثرات

اگرچہ رقم مل جانے سے ایک بڑا بوجھ کم ہو گیا ہے، لیکن سیف الدین کا ماننا ہے کہ جو ذہنی اذیت کھلاڑیوں نے ٹورنامنٹ کے دوران برداشت کی، اسے بھلانا آسان نہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جب آپ میدان میں اترتے ہیں اور آپ کے ذہن میں یہ خدشہ ہو کہ آیا ٹورنامنٹ کے بعد آپ کو معاوضہ ملے گا بھی یا نہیں، تو آپ اپنی سو فیصد کارکردگی نہیں دکھا سکتے۔

سیف الدین نے کہا، ‘ایمانداری سے کہوں تو یہ چیزیں آپ کے کھیل کو بری طرح متاثر کرتی ہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگ میچ کھیلنے کے دوران ذہنی طور پر اس غیر یقینی صورتحال میں پھنسے ہوئے تھے۔ ایک بار جب ٹورنامنٹ ختم ہو جائے تو ذمہ داران سے رابطہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے، اور یہی خوف کھلاڑیوں کو ہر وقت ستاتا رہتا تھا۔’

دیگر موضوعات پر گفتگو

اس گفتگو کے دوران، سیف الدین نے کرکٹ کے دیگر پہلوؤں پر بھی اظہار خیال کیا۔ سابق پاکستانی فاسٹ بولر شعیب اختر کے ساتھ ملاقات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ایک شوٹنگ کے دوران ملاقات کے بعد ان کا دوبارہ رابطہ نہیں ہوا ہے۔

ٹیم کے سابق کپتان تمیم اقبال کے مستقبل میں بی سی بی کا صدر بننے کے امکانات کے بارے میں پوچھے جانے پر سیف الدین نے محتاط رویہ اپناتے ہوئے کہا کہ تمیم بھائی آج کل اپنے دیگر معاملات میں بہت زیادہ مصروف ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جب بھی ان سے بالمشافہ ملاقات ہوئی تو اس حوالے سے کھل کر بات کی جائے گی۔

نتیجہ

محمد سیف الدین کا یہ بیان نہ صرف کھلاڑیوں کے مالی استحکام کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ کرکٹ بورڈز کو کھلاڑیوں کے معاوضوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ کھلاڑی بغیر کسی ذہنی دباؤ کے کھیل پر توجہ مرکوز کر سکیں۔ ایک پیشہ ورانہ لیگ کے لیے کھلاڑیوں کا اعتماد سب سے قیمتی اثاثہ ہوتا ہے، اور اسے برقرار رکھنا ہر انتظامیہ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔