سنجو سیمسن کی فٹنس پر سنجے منجریکر کا بڑا بیان، ویرات کوہلی کی مثال
سنجو سیمسن کی شاندار فارم اور فٹنس پر بحث
آئی پی ایل 2026 میں چنئی سپر کنگز (CSK) کے وکٹ کیپر بلے باز سنجو سیمسن اپنی جارحانہ بیٹنگ سے شائقین کے دل جیت رہے ہیں۔ سال 2026 سیمسن کے لیے اب تک خوابوں جیسا رہا ہے، جہاں انہوں نے ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا اور پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا اعزاز بھی حاصل کیا۔
سنجے منجریکر کی رائے: فٹنس ہی کامیابی کی کنجی ہے
ایک حالیہ پوڈ کاسٹ کے دوران، سابق بھارتی کرکٹر سنجے منجریکر نے سنجو سیمسن کی فٹنس کے حوالے سے اہم نکات اٹھائے ہیں۔ اگرچہ منجریکر نے سیمسن کی بیٹنگ صلاحیتوں کا اعتراف کیا ہے، لیکن ان کا ماننا ہے کہ سیمسن ابھی اپنی بہترین جسمانی کنڈیشن میں نہیں ہیں۔
منجریکر نے کہا، ‘میں سنجو سیمسن کے بارے میں بات کر رہا ہوں، کیونکہ وہ اب 25 سال کے نہیں رہے اور اپنے کیریئر کے عروج پر ہیں۔ اگر وہ اس فارم کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں ویرات کوہلی کی طرح اپنی فٹنس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔’
ویرات کوہلی کا نمونہ
منجریکر نے ویرات کوہلی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کوہلی کی طویل کامیابی کا سب سے بڑا راز ان کا نظم و ضبط اور جسمانی فٹنس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘کوہلی نے ثابت کیا ہے کہ اگر آپ اپنی مہارت کے ساتھ ساتھ جسم کا خیال رکھیں تو آپ بہت طویل عرصے تک کرکٹ کھیل سکتے ہیں۔’
آئی پی ایل 2026 میں سیمسن کی کارکردگی
سیمسن اب تک آئی پی ایل 2026 کے 10 میچوں میں 402 رنز بنا چکے ہیں، جس میں ان کی اوسط 57.42 اور اسٹرائیک ریٹ 167.50 رہا ہے۔ دہلی کیپیٹلز کے خلاف حال ہی میں کھیلی گئی ناقابل شکست 87 رنز کی اننگز ان کی عمدہ فارم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کارتک شرما کے ساتھ 114 رنز کی شراکت داری قائم کر کے ٹیم کو آرام سے فتح دلائی۔
کیا سیمسن کی ون ڈے ٹیم میں واپسی ہوگی؟
ان کی موجودہ فارم کو دیکھتے ہوئے، بھارتی ٹیم میں ان کی واپسی کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔ چونکہ رشبھ پنت بیٹنگ میں جدوجہد کر رہے ہیں، سیمسن ایک مضبوط متبادل کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ ون ڈے فارمیٹ میں ان کی اوسط 50 سے زائد ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ 50 اوور کے کھیل میں بھی بڑی اننگز کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
نتیجہ
آئی پی ایل 2026 کا سیزن سنجو سیمسن کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر وہ اپنی فٹنس کے معیار کو بلند کرتے ہیں، تو یقیناً وہ آنے والے آئی سی سی ورلڈ کپ 2027 میں بھارتی ٹیم کا ایک لازمی حصہ بن سکتے ہیں۔ کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ سیمسن کی صلاحیتوں میں کوئی شک نہیں، بس اب انہیں اپنی جسمانی کنڈیشن کو کھیل کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔
سیمسن کی یہ تبدیلیاں نہ صرف ان کے انفرادی کیریئر کے لیے اہم ہوں گی بلکہ بھارتی کرکٹ ٹیم کے لیے بھی ایک مضبوط اثاثہ ثابت ہوں گی۔ آنے والے میچوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا سیمسن اس مشورے پر کس طرح عمل کرتے ہیں اور میدان میں ان کی کارکردگی کا معیار کیا رہتا ہے۔
