شکیب الحسن کی 2019 ورلڈ کپ میں جادوئی کارکردگی کے پیچھے چھپی کہانی
شکیب الحسن: ورلڈ کپ 2019 کا ناقابل فراموش سفر
کرکٹ کی تاریخ میں چند کارکردگی ایسی ہوتی ہیں جو ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتی ہیں۔ 2019 کے آئی سی سی ورلڈ کپ میں شکیب الحسن کا کھیل انہی میں سے ایک ہے۔ انہوں نے آٹھ میچوں میں 606 رنز بنائے، جس کی اوسط 86.57 رہی، اور ساتھ ہی 11 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ وہ ورلڈ کپ کی تاریخ کے پہلے کھلاڑی بنے جنہوں نے 1,000 سے زائد رنز اور 30 وکٹوں کا سنگ میل عبور کیا۔
محنت کا سفر: آئی پی ایل سے ورلڈ کپ تک
شکیب کی یہ شاندار کامیابی محض ایک اتفاق نہیں تھی، بلکہ اس کے پیچھے ماہ و سال کی سخت ریاضت اور خود کو ثابت کرنے کا جذبہ کارفرما تھا۔ آئی پی ایل کے دوران سن رائزرز حیدرآباد کی ٹیم میں مسلسل مواقع نہ ملنے پر شکیب نے مایوس ہونے کے بجائے اسے ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ بنگلہ دیشی کرکٹرز کو اکثر مواقع دینے میں ہچکچاہٹ دکھائی جاتی ہے اور ایک دو میچوں کی ناکامی پر ہی انہیں ٹیم سے باہر کرنے کا سوچ لیا جاتا ہے۔
غیر معمولی تربیت اور نظم و ضبط
شکیب کا ماننا ہے کہ اس ورلڈ کپ سے قبل انہوں نے اپنی صلاحیتوں کی آخری حد کو چھو لیا تھا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے دن میں چار سے پانچ بار فٹنس ٹریننگ کی، بیٹنگ اور بولنگ کی مشق روزانہ دو دو گھنٹے کی، اور فیلڈنگ پر خصوصی توجہ دی۔ فیلڈنگ کی مشقیں اتنی سخت تھیں کہ وہ کور، پوائنٹ، گلی سے لے کر فائن لیگ اور تھرڈ مین تک ہر پوزیشن پر کیچز کی پریکٹس کرتے رہے۔
وزن میں کمی اور عزم کا نتیجہ
اس شدید محنت کا اثر یہ ہوا کہ شکیب کا وزن تیزی سے کم ہونے لگا۔ ورلڈ کپ کے دوران انہیں اپنی ٹیم کی شرٹ تک ڈھیلی محسوس ہونے لگی تھی، جس پر وہ خود بھی حیران تھے۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ انہوں نے اپنی تیاری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
نتیجہ خیز حکمت عملی
شکیب کا کہنا ہے کہ:
