شکیب الحسن کا ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے حوالے سے خاموشی توڑنا: حکومت کے فیصلے کو قرار دیا ‘بڑی غلطی’
شکیب الحسن کا ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے تنازع پر اظہارِ خیال: ایک ‘سنگین غلطی’
بنگلہ دیش کی قومی کرکٹ ٹیم اس وقت نیوزی لینڈ کے خلاف تمام فارمیٹس کی سیریز کھیل رہی ہے۔ ون ڈے سیریز کا اختتام ہو چکا ہے اور ہفتے کے روز آخری ٹی 20 میچ کھیلا جانا ہے۔ تاہم، کھیل کے میدان سے باہر ایک بڑی خبر نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ بنگلہ دیش کے سابق کپتان اور دنیا کے بہترین آل راؤنڈرز میں شمار ہونے والے شکیب الحسن نے بالآخر آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے حوالے سے ہونے والے تنازع پر اپنی خاموشی توڑ دی ہے۔
ورلڈ کپ سے بے دخلی: کیا ہوا تھا؟
جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ بنگلہ دیش کو ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 سے باہر کر دیا گیا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ آئی سی سی کی جانب سے سیکیورٹی کے حوالے سے بار بار یقین دہانی کرائے جانے کے باوجود، بنگلہ دیش کی حکومت نے بھارت سفر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ بھارت میں منعقد ہونے والے اس ٹورنامنٹ کے لیے جب بنگلہ دیش نے شرکت سے انکار کیا، تو آئی سی سی نے انہیں ٹورنامنٹ سے نکال دیا اور ان کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا گیا۔
شکیب الحسن نے اس صورتحال پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور اس فیصلے کے لیے بنگلہ دیش کی عبوری (caretaker) حکومت کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ شکیب کے مطابق، یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس نے نہ صرف ٹیم بلکہ پورے ملک کے کرکٹ کے مستقبل کو نقصان پہنچایا ہے۔
شکیب الحسن کے سخت الفاظ: “یہ ایک شرمناک فیصلہ تھا”
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شکیب الحسن نے اس فیصلے کو ایک “بڑی غلطی” (Blunder) قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش ایک ایسا ملک ہے جہاں کرکٹ کو جنون کی حد تک چاہا جاتا ہے، اور ایسے میں ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ سے باہر رہنا ناقابلِ قبول ہے۔
شکیب نے کہا: “میرے خیال میں یہ ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ جہاں تک بنگلہ دیشی کرکٹ کا تعلق ہے، یہ ایک بہت بڑی محرومی ہے۔ ہم ایک ایسی قوم ہیں جو اپنے کھلاڑیوں کو ورلڈ کپ اور دیگر بڑے مقابلوں میں کھیلتے ہوئے دیکھنا پسند کرتے ہیں۔”
انہوں نے مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے ورلڈ کپ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ نہ صرف ایک غلطی تھی بلکہ یہ ان کھلاڑیوں اور شائقین کی توہین تھی جو اس کھیل سے بے حد محبت کرتے ہیں۔
بنگلہ دیشی کرکٹ کا مستقبل اور موجودہ فارم
جب شکیب سے ملک میں کرکٹ کے مستقبل کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے امید افزا جواب دیا۔ انہوں نے موجودہ ٹیم کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم اس وقت بہت اچھی کرکٹ کھیل رہی ہے، جس کی مثال نیوزی لینڈ کے خلاف پہلی ٹی 20 جیت ہے۔
شکیب نے ایک اہم نکتہ اٹھایا کہ ماضی میں بنگلہ دیش کی ٹیم چند افراد کی کارکردگی پر منحصر ہوتی تھی، لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے۔ انہوں نے کہا: “اب بات انفرادی کارکردگی کے بجائے ٹیم ورک کی ہے۔ یہ آگے بڑھنے کا درست طریقہ ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ٹیم میں تجربہ کار کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ نئی نسل کے ہونہارے کھلاڑی بھی موجود ہیں، جو مستقبل میں ملک کا نام روشن کریں گے۔
بھارتی کرکٹ اور آئی پی ایل (IPL) پر تبصرہ
گفتگو کے دوران شکیب الحسن نے بھارتی نیشنل ٹیم کے ٹیلنٹ پول اور TATA انڈین پریمیئر لیگ (IPL) کے اثرات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ بھارتی کرکٹ کا نظام اتنا مضبوط ہے کہ ان کے پاس ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ شکیب کے مطابق، “بھارتی کرکٹ میں ٹیلنٹ کی سپلائی اتنی زیادہ ہے کہ یہ سلسلہ اگلے 50 سالوں تک جاری رہ سکتا ہے۔”
تاہم، انہوں نے ایک انتباہ بھی جاری کیا کہ اگر آئی پی ایل پر ضرورت سے زیادہ توجہ دی گئی، تو اس کا اثر ٹیسٹ کرکٹ پر پڑ سکتا ہے، جو کہ کھیل کی اصل روح ہے۔
EU T20 بیلجیم ٹورنامنٹ اور نوجوان کھلاڑی
آخر میں، شکیب نے آنے والے EU T20 بیلجیم ٹورنامنٹ کے بارے میں بات کی اور اسے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک بہترین موقع قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب نوجوان کھلاڑی کسی فرنچائز لیگ میں بڑے ناموں کے ساتھ کھیلتے ہیں، تو انہیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کے بقول، یہ تجربہ نئی نسل کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا۔
شکیب الحسن کے یہ بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ نہ صرف اپنی قومی ٹیم کے لیے فکر مند ہیں بلکہ عالمی کرکٹ کے بدلتے ہوئے رجحانات پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ حکومت ان تنقیدوں کا کیا جواب دیتی ہے اور کیا مستقبل میں ایسے فیصلے کرنے سے گریز کیا جائے گا۔
