شکیب الحسن کی واپسی: “اگر سیکیورٹی ملے تو کل ہی واپس آ جاؤں گا” – مکمل انٹرویو
شکیب الحسن کی وطن واپسی کا معمہ: ایک اسٹار کرکٹر کی جدوجہد
بنگلہ دیشی کرکٹ کے سب سے بڑے نام، شکیب الحسن، گزشتہ تقریباً دو سال سے اپنے وطن سے دور ہیں۔ سابقہ حکومت کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی تبدیلیوں نے نہ صرف ملک کا نقشہ بدلا بلکہ شکیب الحسن کے لیے بھی مشکلات کے نئے دروازے کھول دیے۔ ان پر قتل کے مقدمے سمیت کئی قانونی کیسز درج کیے گئے، جس کی وجہ سے وہ 2024 میں بھارت کے خلاف کانپور ٹیسٹ کھیلنے کے بعد سے دوبارہ بنگلہ دیشی جرسی میں نظر نہیں آئے۔
واپسی کی کوششیں اور بورڈ میں تبدیلیاں
حالیہ دنوں میں شکیب الحسن کی واپسی کے حوالے سے بحث نے ایک بار پھر زور پکڑا ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) کی سابقہ کمیٹی، جس کی قیادت امین الاسلام بلبل کر رہے تھے، نے شکیب کو واپس لانے کے لیے بات چیت کا آغاز کیا تھا۔ تاہم، نیشنل اسپورٹس کونسل (NSC) نے اس بورڈ کو تحلیل کر دیا اور اب ایک 11 رکنی ایڈہاک کمیٹی معاملات سنبھال رہی ہے، جس کے صدر تمیم اقبال ہیں۔
شکیب الحسن نے ایک انٹرویو میں اس حوالے سے بتایا کہ بورڈ کے لوگ ان سے رابطے میں تھے۔ انہوں نے کہا، “بورڈ مجھ سے واپسی کے بارے میں رابطہ کرتا رہا ہے۔ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ انہوں نے مخصوص طور پر کس سے بات کی، لیکن وہ اس بارے میں سنجیدہ تھے کہ مجھے واپس کیسے لایا جائے۔ بنگلہ دیش میں ہر چیز ایک ہی وقت میں ممکن اور ناممکن محسوس ہوتی ہے۔ اگر لوگ کچھ کرنا چاہیں تو وہ ہو جاتا ہے، اور اگر وہ نہ چاہیں تو کچھ نہیں ہوتا۔”
آصف اکبر سے ملاقات اور لندن کا واقعہ
سابق بورڈ ڈائریکٹر آصف اکبر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شکیب نے بتایا کہ وہ انہیں 2007 سے جانتے ہیں، جب انہوں نے قومی ٹیم میں شمولیت اختیار کی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آصف اکبر ان سے رابطے میں رہے، لیکن لوگوں کے رویے بدلتے رہتے ہیں۔ لندن میں ہونے والی ملاقات کے بارے میں شکیب نے کہا، “وہ ملاقات خالصتاً ایک اتفاق تھی۔ میں لندن جا رہا تھا اور ہم دونوں کا وہاں ہونا پہلے سے طے شدہ نہیں تھا۔ چونکہ ہم پہلے ہی رابطے میں تھے، اس لیے ہم نے وہاں ملاقات کر لی۔ اس میں کوئی خاص منصوبہ بندی شامل نہیں تھی۔”
کیا واپسی کے لیے کوئی شرائط رکھی گئیں؟
میڈیا میں گردش کرنے والی ان خبروں پر کہ شکیب نے واپسی کے لیے کچھ شرائط رکھی ہیں، آل راؤنڈر نے دوٹوک جواب دیا: “مجھے نہیں معلوم کہ لوگ کن شرائط کی بات کر رہے ہیں۔ کسی نے بھی براہ راست مجھ سے کوئی شرط نہیں رکھی۔”
دبئی سے واپسی کا تلخ تجربہ
شکیب الحسن نے اس واقعے کا ذکر بھی کیا جب وہ 2024 میں جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز کھیلنے کے لیے بالکل تیار تھے۔ انہوں نے بتایا، “میں اس یقین کے ساتھ جہاز میں سوار ہوا کہ سب کچھ طے پا چکا ہے۔ میں نے روانگی سے قبل ذمہ داران سے بات کی تھی۔ لیکن جب میں دبئی پہنچا تو مجھے کئی مسڈ کالز ملیں۔ واپسی پر کال کرنے پر بتایا گیا کہ کچھ مسائل پیدا ہو گئے ہیں اور بہتر ہے کہ میں ابھی نہ آؤں۔ اس لیے میں ایک دن دبئی میں رہا اور وہیں سے واپس چلا گیا۔” بعد میں انہیں علم ہوا کہ ڈھاکہ یونیورسٹی اور اسٹیڈیم کے باہر ان کے خلاف چھوٹے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا۔
قانونی مقدمات اور منجمد بینک اکاؤنٹس
اپنے خلاف درج مقدمات پر بات کرتے ہوئے شکیب نے کہا کہ ان پر ایک سیاسی کیس، ایک قتل کا کیس اور ایک چیک باؤنس کا کیس ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ چیک باؤنس کا معاملہ ایک بنیادی بینکنگ طریقہ کار ہے جسے ادائیگی کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ “اگر تحقیقات میں کوئی غلط کام ثابت ہوتا ہے تو ضرور کارروائی کریں، لیکن اگر کچھ نہیں ملتا تو میرے اکاؤنٹس بحال کیے جائیں۔”
سیکیورٹی کا مطالبہ اور مستقبل کا لائحہ عمل
شکیب الحسن نے واضح کیا کہ وہ گرفتاری سے نہیں ڈرتے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ قانونی عمل مکمل ہونے تک انہیں ہراساں نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا: “میں کوئی وی آئی پی پروٹوکول یا سڑکیں بلاک کرنے کا مطالبہ نہیں کر رہا۔ میں صرف معمول کی حفاظت اور یہ یقین دہانی چاہتا ہوں کہ قانونی عمل کے دوران مجھے ہراساں نہیں کیا جائے گا۔ اگر مجھے یہ یقین دہانی آج مل جائے، تو میں کل ہی بنگلہ دیش واپس آ جاؤں گا۔”
تمیم اقبال کی قیادت اور بورڈ کا مستقبل
موجودہ ایڈہاک کمیٹی کے بارے میں شکیب کا خیال ہے کہ تمیم اقبال اور ان کی ٹیم کا بنیادی کام الیکشن کا انعقاد کروانا ہے۔ ان کے بقول، اس کمیٹی کے پاس شاید طویل مدتی فیصلے کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگلا منتخب بورڈ چار سال تک کام کرے گا تاکہ بنگلہ دیشی کرکٹ میں استحکام آ سکے۔ انہوں نے نوجوانوں اور کھیلوں کے مشیر امین الحق کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ وہ ان کی واپسی کے لیے مخلص نظر آتے ہیں۔
شکیب الحسن کا یہ انٹرویو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اب بھی اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کے لیے بے تاب ہیں، لیکن موجودہ سیاسی اور قانونی صورتحال نے ایک عظیم کرکٹر کو تذبذب کا شکار کر رکھا ہے۔ اب گیند بنگلہ دیشی حکام اور کرکٹ بورڈ کے کورٹ میں ہے کہ وہ اپنے سب سے بڑے اسٹار کو کس طرح تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
